’سمندر جائیں تو مچھلیوں کو خطرہ، نہ جائیں تو خاندان کو‘

حکومت بلوچستان کی جانب سے دو ماہ کے لیے صوبے بھر میں آبی حیات کی افزائش نسل کے لیے شکار پر پاپندی عائد کر دی گئی ہے جو ماہی گیر تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

ایک مچھیرا بحیرۂ عرب میں مچھلیاں پکڑ رہا ہے (روئٹرز)

’اگر ماہی گیر سمندر نہیں جائے گا تو کیا مچھلیوں کی نسل کشی نہیں ہوگی؟ میں نہیں جاؤں گا، اللہ داد نہیں جائے گا تم نہیں جاؤ گے، آج سینکڑوں کی تعداد میں کشتیاں ہیں، انھیں کون روکے گا؟ اگر وہ بھی نہیں جائیں گے ٹرالر مافیا کو کیسے کوئی روک سکے گا؟‘

میرے اس سوال پر کہ سمندر جانے پر دو ماہ کی پابندی کے باوجود وہ شکار کے لیے کیوں جا رہے ہیں، گوادر پدی زر کے ساحل پر بیھٹے یہ سات ماہی گیر سب ایک ساتھ بول اٹھے۔ ان ماہی گیروں میں پیر و جوان دونوں عمر کے لوگ شامل ہیں جو سمندری شکار پر عائد محکمہ فشریز بلوچستان کی طرف سے جاری نوٹیفیکشن کو غلط سمجھتے ہیں۔

 محکمہ فشریز بلوچستان کی جانب سے دو ماہ کے لیے صوبے بھر میں آبی حیات کی افزائش نسل کے لیے شکار پر پاپندی عائد کر دی گئی ہے۔ عموما سمندری شکار پر یہ پابندی دنیا کے دوسرے ممالک کی جانب سے بھی لگائی جاتی ہے جن میں بنگلہ دیش، چین اور ایران وغیرہ بھی شامل ہیں۔

مگر بلوچستان میں اس پابندی کے خلاف ماہی گیروں کی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں سے لے کر عوامی نمائندے سب اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس کی وجوہات کیا ہیں اور کیوں کر اس کی مخالفت کی جا رہی ہے؟

گوادر میں ماہی گیروں کی تنظیم ماہی گیر اتحاد کے صدر خداداد واجو کہتے ہیں ’بلوچستان میں کبھی اس طرح نہیں ہوا ہے، اور دوسری بات یہ کہ ضروری نہیں کہ تمام مچھلیوں کی افزائش نسل کا سیزن یہی ہو۔ کچھ اقسام کی افزائش کا موسم یہ ضرور ہے لیکن سوائے ماہی گیروں کے انہیں کوئی نہیں جانتا، اس کے لیے ماہی گیروں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی آبی حیات میں 10 اقسام کے جھینگے اور 60 مختلف اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں جنہیں بطور غذائی جزو دنیا بھر کی بہترین سمندری خوراک میں شامل کیا جاتا ہے۔ 

خداداد واجو کا کہنا ہے اس نوٹیفکش کے بعد وہ فشریز آفس گئے تھے اور انہوں نے خط جمع کرایا ہے کہ براہ کرم اس حکم کو واپس لیا جائے۔ دو ماہ ایک بڑی مدت ہے جو ماہی گیروں کے لیے بےروزگاری کا سبب بنے گی۔

 عبدالصمد ایک دکاندار ہیں جو مچھلیاں فروخت کرتے ہیں۔ وہ ایک بڑی مچھلی کاٹ رہے ہیں جس کے پیٹ میں انڈے ہیں جسے وہ الگ قیمت پر فروخت کرنے والے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اس مچھلی کے انڈوں کا سیزن ہے جسے شکار نہیں کرنا چاہیے تھا مگر ماہی گیروں نے اس کی بالکل بھی پروا نہیں کی اور نہ جانے کتنی تعداد میں اس نسل کو روزانہ شکار کیا جا رہا تھا۔

 اس کے باوجود ماہی گیر اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ اگر وہ شکار نہیں کریں گے تو کیا کھائیں گے۔ ایک نوجوان ماہی گیر ناصر بلوچ کہتے ہیں ’قانون کیا صرف غریب کو روزگار سے روکنے کے لیے بنایا گیا ہے؟ اگر دو ماہ تک ہم سمندر نہیں جائیں گے تو کون ان کے گھروں کا چولہا جلائے گا؟ ان کے مطابق اگر وہ سمندر جائیں تو مچھلیوں کو خطرہ اور اگر نہیں جائیں تو ان کے خاندان کو۔‘

 اس نوٹیفکشن کو واپس لینے کے سلسلے میں صوبے میں حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور عبوری حکومت میں سابق وزیر میر نوید کلمتی کا کہنا ہے کہ انھوں نے سیکرٹری فشریز اکبر آسکانی سے بات کی ہے اور بہت جلد کوئی حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 صوبے میں ماہی گیری کے شعبے سے متعلق اب تک کسی قسم کے کوئی قوانین موجود نہیں اور ماہی گیروں کے مطالبات کے باوجود ابھی تک ان کے پیشے کو قانونی شناخت حاصل نہیں ہے۔

 کے بی فراق گوادر سے سماجی کارکن اور ادیب ہیں جو گوادر ایجوکیشنل ویلفیر سوسائٹی نامی تنظیم کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کے مطابق اگر قانونی حیثیت سے ماہی گیروں کے حقوق کا تحفظ ہوتا تو آج وہ کسی بھی قسم کا احتجاج نہ کرتے۔ وہ مانتے ہیں کہ یہ سیزن دنیا بھر میں آبی حیات کی افزائش کے لیے اہم مانا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے یہاں جو کبھی ساحلی باشندوں کا سمندر سے روزگار کے علاوہ ایک روحانی رشتہ تھا وہ اب ختم ہوگیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’اب مقابلے کا رجحان ہے کہ کون زیادہ شکار کرے گا۔ آج ماہی گیر مختلف وجوہات اور معاشی استحصال کا شکار ہے جس سے وہ شکار صرف پیٹ پالنے کے لیے نہیں بلکہ ایک انتقام کی صورت میں بھی کر رہا ہے۔

خداداد واجو کے مطابق سرکاری اہلکاروں کو ابھی تک پتہ ہی نہیں کہ سمندری شکار پر یہ پابندی 2012 کو بھی لگائی گئی تھی جس پر لوگوں نے احتجاج کیا تھا اور اب یہ دوبارہ وہی کرنے جا رہے ہیں۔ واجو کہتے ہیں ’ہم سمجھتے ہیں یہ کوئی قانون نہیں بلکہ انگریز دور کا ایک حکم ہے۔‘

ان کی تنظیم کو پہلی مرتبہ یہ معلوم ہوا ہے کہ فشریز آرڈیننس میں کسی گزیٹڈ افیسر کے پاس ایسے اختیارات ہیں جو شکار پر پابندی لگا سکتا ہے۔

 کے بی فراق سمجھتے ہیں کہ جب تک قانونی طریقوں سے ماہی گیروں کے لیے متبادل امداد یا وسائل نہیں دیے جائیں گے تو کسی بھی نوٹیفکیشن پر عمل درآمد مشکل ہوگا۔

خداداد واجو کہتے ہیں کہ ’چھوٹی کشتیاں تو سندھ میں بھی شکار کی جا رہی ہیں۔ ’ہم یہی بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے ہاں شکار پر پابندی معاشی استحصال ہے اور ناقابل قبول ہے۔ ہاں جس وقت سمندری لہروں کا خطرہ ہو اس وقت محکمہ فشریز چند دنوں کے لیے روک سکتی ہے، دو ماہ تک مکمل بندش یہ تو ظلم ہے۔ ان کے مطابق شکار ایک بنیادی حق ہے جس طرح سانس لینا یا پانی پینا۔‘

ورلڈ بینک کی 2013 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اس پیشے سے وابستہ لوگوں کی تعداد 4 لاکھ ہے اور مقامی آبادی کا 70 فیصد روزگار ماہی گیری سے وابستہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت