ربوہ میں احمدی شہری کے قتل کا ملزم جائے وقوعہ سے گرفتار: پولیس

ڈی پی او چنیوٹ اسد رحمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔‘

28 مارچ 2016 کی اس تصویر میں پاکستانی پولیس کا ایک کمانڈو لاہور میں ڈیوٹی پر تعینات دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

چنیوٹ پولیس کا کہنا ہے کہ تھانہ چناب نگر کی حدود میں ربوہ لاری اڈے کے قریب جمعے کو قتل کیے جانے والے احمدی شہری کے قاتل کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آج صبح آٹھ بجے حافظ شہزاد نامی شخص نے 60 سالہ نصیر احمد کو خنجر کے وار کر کے قتل کر دیا۔ نصیر احمد کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔

ڈی پی او چنیوٹ اسد رحمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔‘

اس کیس کی ایف آئی آر مقتول کے بھائی منیر احمد کی مدعیت میں تھانہ چناب نگر میں درج کر لی گئی ہے۔ دفعہ 302 کے تحت درج ہونے والی اس ایف آئی آر میں منیر نے بتایا کہ وہ اور ان کے بھائی ’نصیر سودا سلف لینے صبح پونے سات بجے لاری اڈہ چناب نگر پہنچے تو وہاں موجود ایک نامعلوم شخص جس کے ہاتھ میں سفید رنگ کا تھیلا تھا، اس نے ہم سے پوچھا کہ کیا ہمارا تعلق احمدی جماعت سے ہے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جس کے جواب میں ہم نے اسے بتایا کہ ہمارا تعلق احمدیہ جماعت سے ہے۔ اس پر اس شخص نے میرے بھائی نصیر سے کہا تم قادیانیت چھوڑ دو جس پر میں اور میرا بھائی خوفزدہ ہو گئے۔ اسی دوران اس شخص نے اپنے تھیلے سے خنجر نکالا اوراور میرے بھائی پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ خنجرمیرے بھائی کی بازو، پیٹ اور ہاتھوں پر لگا اور ان کا خون بہنے لگا اسی دوران وہاں موجود کچھ لوگوں نے ملزم کو خنجر سمیت دبوچ لیا جس پر ملزم اونچی آواز میں مذہبی نعرے لگانے لگا۔‘

 منیر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے بھائی کو ہسپتال لے کر گئے مگر وہ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔ مقتول نصیر نے سوگواران میں تین بیٹیاں اور ایک بیوہ چھوڑی ہے۔

دوسری جانب ترجمان جماعت احمدیہ سلیم الدین نے بھی ایک میڈیا بیان جاری کیا ہے اور اس میں بتایا کہ ’حملہ آور نے مذہبی نعرے لگاتے ہوئے نصیر پر خنجر سے وار کیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق قاتل حافظ محمد شہزاد کا تعلق سلانوالی ضلع سرگودھا سے ہے۔‘

عامر محمود انچارج پریس سیکشن صدر انجمن احمدیہ پاکستان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایک احمدی کا دن دیہاڑے سر عام ایک مذہبی جنونی کے ہاتھوں قتل ہونا انتہائی افسوس ناک ہے۔ ربوہ جس کی 95 فیصد سے زائد آبادی احمدیوں پر مشتمل ہے، احمدی وہاں بھی محفوظ نہیں۔ احمدیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا نتیجہ ہے کہ آج وہ خود کو محفوظ نہہں سمجھتے۔‘

ان کے مطابق ’نفرت اور تشدد کی تلقین کرنے والوں کو گرفت میں لایا جائے تو مذہب کی بنیاد پر قتل و غارت گری کو روکا جاسکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان