کم یونٹ استعمال کرنے پر بھی بجلی کا بل زیادہ کیوں؟

گذشتہ مہینوں کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے نیپرا کی ہدایت پر تقسیم کار کمپنیاں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے نو روپے فی یونٹ تک وصول کر رہی ہیں۔

تین جون 2022 کی اس تصویر میں لاہور میں رکشا ڈرائیورز مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں(اے ایف پی)

پاکستان میں ان دنوں ایک جانب بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے وہیں کم یونٹس استعمال کرنے کے باوجود معمول سے زیادہ بلوں نے عوام میں بے چینی پھیلا رکھی ہے جس کی وجہ سے مختلف شہروں میں شہری احتجاجی مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔

گذشتہ مہینوں کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے نیپرا کی ہدایت پر تقسیم کار کمپنیاں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے نو روپے فی یونٹ تک وصول کر رہی ہیں۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کی قیمت بڑھنے سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

صارفین کے مطابق زرعی ٹیوب ویلوں اور گھریلو صارفین کو دی گئی سبسڈی واپس ہونے سے بل غیر معمولی طور پر ڈبل ہوگئے ہیں۔ زرعی ٹیوب ویل جن کا دو ماہ پہلے چالیس ہزار تک کا بل تھا اب ڈیڑھ لاکھ روپے تک جا پہنچا ہے۔

گھریلو صارفین کے مطابق جو بل آٹھ ہزار روپے تک آتا تھا اب وہ 13ہزار روپے تک ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

بجلی کے بلوں میں کس حد تک اضافہ ہوا؟

ساہیوال میں ایک مربع زمین پر کاشت کاری کرنے والے علی محمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ کئی ماہ سے پنجاب میں دھان اور مکئی کی کاشت ہو رہی ہے۔ ان دنوں پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ٹیوب ویل اورٹریکٹر زیادہ چلتا ہے اس لیے ڈیزل اور بجلی زیادہ سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔‘

علی کے بقول ’اسی دوران بجلی اور ڈیزل کی قیمتیں زیادہ ہوگئی ہیں جس سے پیداواری اخراجات آمدن سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ گذشتہ ماہ بجلی کا بل 50 ہزار آیا تھا مگر اس ماہ جولائی کا بل ڈیڑھ لاکھ روپے آیا ہے۔ واپڈا کے دفتر گئے تومعلوم ہوا ٹیکس زیادہ لگ رہے ہیں جو کم نہیں ہوسکتے۔‘

گوجرنوالہ میں گیس سلنڈر بنانے والی فیکٹری کے مالک عقیل شریف نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لوڈشیڈنگ بڑھنے اور بجلی کا بل زیادہ آنے سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔ تین سو سلنڈر ہفتے میں بناتے ہیں مگر اب اڑھائی سو تک بنتے ہیں کیونکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے کام بند ہو جاتا ہے۔‘

عقیل شریف کے مطابق ’بجلی کا بل بھی اس ماہ دوگنا آیا ہے۔ پچھلے ماہ پونے دو لاکھ تھا اس بار ساڑھے تین لاکھ روپے آیا ہے۔ حیران ہیں بجلی تو اتنی ہی خرچ ہوئی بل زیادہ کیسے آ گیا ہے۔ جب معلومات لی تو پتہ چلا فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں بجلی کی قیمت سے بھی زیادہ بل آیا ہے۔‘

لاہور، ملتان میں اور فیصل آباد میں بھی شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے۔ ملتان میں بجلی کے بل اٹھا کر احتجاج کرنے والے شہریوں نے معصوم شاہ روڑ بلاک کر دی۔

جبکہ فیصلہ آباد میں پاور لومز کے مالکان بھی مزدور بھی کئی روز سے سراپا احتجاج ہیں۔

بل میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کیسے لگتے ہیں؟

نیپرا ریکارڈ کے مطابق فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کے مطابق بلوں میں ایڈجسٹ کیے جاتے ہیں جن میں ردو بدل ہوتا رہتا ہے۔ کئی بار ایک روپے کا اضافہ بھی نہیں ہوتا اور کئی بار زیادہ اضافہ کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک ایکٹ 1997 کے تحت لیے جاتے ہیں۔ اس ایکٹ کی شق نمبر 31کےمطابق تمام بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کے مطابق ہرماہ کے سات دن تک بلوں میں قیمتیں ایڈجسٹ کریں۔ اسی شق کے مطابق  تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیاں وفاقی حکومت کویہ سرچارج ادا کریں گی۔

ایکٹ کے مطابق صارفین سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج یونٹ کے حساب سے لیا جاتا ہے۔ جس میں اگر صارف نے دسمبر میں 100 یونٹس استعمال کیے اور بل ایک ہزار روپے آیا لیکن دسمبر میں ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تو ڈسٹری بیوشن کمنپی اسی اضافے کے مطابق فی یونٹ کے حساب سے اس تبدیلی کو ایڈجسٹ کرے گی۔ جو فی یونٹ کے حساب سے ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔

 اسی لیے صارفین شکایت کر رہے ہیں کہ بجلی کی قیمت کم اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے پیسے زیادہ ایڈ کر کے بل بھجوائے جارہے ہیں۔

فیول پرائس ایڈجسمنٹ سرچارج کی مد میں فی یونٹ اضافے کا تعین نیپرا کرتا ہے اور اسی حساب سے متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو بذریعہ نوٹیفیکیشن آگاہ کیا جاتا ہے۔

ملتان الیکٹرک  سپلائی کمپنی (میپکو)کے ایک سینیئر افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اگر تیل کے قیمتوں میں اضافہ ہو جائے تب تو یقیناً یہ زیادہ ہوتا ہے لیکن اگر قیمتیں کم ہوں تو اسی حساب سے صارفین کے بلوں میں سے سے منہا بھی کیا جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’یہ سرچارج وفاقی حکومت طے کرتی ہے اور ڈسٹری بیوشن کمپینوں کو صرف بتایا جاتا ہے کہ اس حساب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے تحت بل بنایا جائے۔ اس کے علاوہ ڈسٹری بیوشن کمپینوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’رواں ماہ جولائی کے بلوں میں مئی کی فیول ایڈجسٹمنٹ نو روپے فی یونٹ شامل کی گئی ہے اور اگست کے بلوں میں جون کی فیول ایڈجسٹمنٹ ہوگی جو 13 روپے فی یونٹ طے کی گئی ہے اور حکومت فیول ایڈجسٹمنٹ ایک ماہ کی بجائے دو ماہ میں تقسیم کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ صارفین کو کچھ ریلیف محسوس ہوسکے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آئندہ ماہ بجلی کا بل اس ماہ سے بھی زیادہ آئے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان