فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج کی وصولی صارفین سے کیوں؟

خیبرپختونخوا اسمبلی کی رکن ثوبیہ خان کا کہنا ہے کہ بجلی ان کا صوبہ پیدا کرتا ہے اور وفاق یہاں ڈائریکٹ ٹیکس لگا کر عوام کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے اور یہ 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی بھی ہے۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا ایک ٹیکنیشن 13 مئی 2010 کو رہائشی عمارت میں بجلی کے نئے میٹر ٹھیک کر رہا ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان مسلم لیگ (ن)  کے رہنما اور صوبائی رکن اسمبلی اختیار ولی نے گذشتہ روز خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس میں بجلی کے بلوں میں ’فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘ کے نام سے ٹیکس کے خلاف قرارداد پیش کی جسے ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کی اکثریت کے باوجود متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

رکن اسمبلی اختیار ولی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارچ طویل عرصے سے صارفین سے وصول کر رہی ہے جو عوام کے ساتھ ظلم ہے۔

پیش کردہ متن کے مطابق ’بجلی کی پیدوار خیبر پختونخوا میں ہونے کے باوجود یہاں کے عوام سے سرچارج لیا جا رہا ہے اور بجلی کی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسمنٹ 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی بھی ہے۔‘

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر عوام کی جانب سے بھی بحث جاری ہے۔ انہیں شکایت ہے کہ بجلی کا اصل بل کم اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج زیادہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ مسائل زیر بحث لائے جا رہے ہیں۔

پشاور کے رہائشی محمد انور نے انڈپیندنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے گھر میں ایک ایئر کنڈیشنر ہے اور گذشتہ سال اگست میں اوریجنل بل چھ ہزار روپے تھا لیکن فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج لگا کر ان کا بل نو ہزار روپے تک پہنچ گیا۔

’اس میں سیلز ٹیکس بھی جمع کیا گیا ہے لیکن سب سے زیادہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج ہوتا ہے جو ہم سے وصول کیا جاتا ہے۔ ہمیں آج تک پتہ نہیں کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس کس مد میں وصول کیا جاتا ہے؟‘

گھریلو صارفین جن کا ماہانہ بل ایک ہزار روپے سے کم ہو، یہ سرچارج ان سے بھی لیا جاتا ہے۔ ٹوئٹر پر بلال درانی نامی صارف نے بجلی کا ایک بل شیئر کیا جہاں اصل بل 929 روپے ہے لیکن اس میں 2721 روپے ملا کر مجموعی بل تین ہزار روپے سے زائد تک پہنچ گیا ہے۔

دسمبر میں بجلی کے قیمتوں پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے  نیشنل الیکٹرسٹی پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)  کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔

بلاول بھٹو کے مطابق ’بجلی کی قیمتوں میں سالانہ اضافے کے بعد فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں بجلی مزید مہنگی کرنا عوام کا معاشی قتل ہے۔‘

نیپرا کی جانب سے دسمبر میں جاری شدہ پریس ریلیز کے مطابق  بجلی کے قیمتوں میں چار روپے فی یونٹ اضافے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس اضافے کی وجہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ہے جس میں عوام سے 60 ارب روپے سے زائد وصول کیے جائیں گے۔

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج کیا ہے؟

وفاقی حکومت فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج’ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن، اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک ایکٹ 1997‘ کے تحت لیا جاتا ہے۔ اس قانون کی شق نمبر 31، ذیلی شق چار کے مطابق تمام بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کے مطابق ہر ماہ کے سات دن تک بلوں میں قیمتیں ایڈجسٹ کریں۔ اسی شق کے مطابق  تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیاں وفاقی حکومت کو یہ سرچارج ادا کریں گی۔

صارفین سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج یونٹ کے حساب سے لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بجلی صارف نے دسمبر میں 100 یونٹس استعمال کیے اور بل ایک ہزار روپے آیا لیکن دسمبر میں ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا تو ڈسٹری بیوشن کمنپی اسی اضافے کے مطابق فی یونٹ کے حساب سے اس تبدیلی کو ایڈجسٹ کرے گی۔ اب وہی صارف جس کا بل دسمبر میں ایک ہزار تھا اور جنوری میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا ریٹ فی یونٹ ایک روپے بڑھا، تو یہی اضافہ ان سے جنوری کے بل میں وصول کیا جائے گا۔

فیول پرائس ایڈجسمنٹ سرچارج کی مد میں فی یونٹ اضافے کا تعین نیپرا کرتا ہے اور اسی حساب سے متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو بذریعہ نوٹیفیکیشن آگاہ کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور الیکٹرک  سپلائی کمپنی (پیسکو) کے ایک سینیئر اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اگر تیل کے قیمتوں میں اضافہ ہو جائے، تب تو یقیناً یہ زیادہ ہوتا ہے لیکن اگر قیمتیں کم ہوں تو اسی حساب سے صارفین کے بلوں میں سے سے منہا بھی کیا جاتا ہے۔

’یہ سرچارج وفاقی حکومت طے کرتی ہے اور ڈسٹری بیوشن کمپینوں کو صرف بتایا جاتا ہے کہ اس حساب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے تحت بل بنایا جائے۔ اس کے علاوہ ڈسٹری بیوشن کمپینوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔‘

ثوبیہ خان پاکستان مسلم لیگ کی صوبائی رکن اسمبلی ہیں اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے خلاف جو قرار داد پاس ہوئی، اسے پیش کرنے والوں میں شامل تھیں۔

ثوبیہ خان نے انڈپیندنٹ اردو کو بتایا کہ وفاقی حکومت اس مد میں 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی بھی کر رہی ہے کیونکہ اس ترمیم کے بعد وفاق صوبے میں ڈائریکٹ ٹیکس عائد نہیں کر سکتا۔

انہوں نے بتایا’بجلی ہمارا صوبہ پیدا کرتا ہے اور وفاق ہمارے صوبے پر ڈائریکٹ ٹیکس لگا کر عوام کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے۔ ایک غریب صارف کا بل جو پانچ سو روپے ہوتا ہے، اس سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک ہزار سے زائد روپے وصول کیے جا رہے ہیں جو کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔‘

فیول پرائس ایڈجسمںٹ سرچارج کے حوالے سےانڈپینڈنٹ اردو نے صوبائی ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف سے رابطے کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان