اقتدار کا ایک سال: ’طالبان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط‘

افغانستان میں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے ایک سال بعد طالبان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط عسکری قوت ہیں لیکن ان کی حکومت کولاحق خطرات تاحال موجود ہیں۔

کابل، 13 اگست 2022: افغانستان کے وزیراعظم محمد حسن اخوند سابق صدارتی محل میں ایک تقریب میں دعا کر رہے ہیں۔(تصویر: اے ایف پی)

افغانستان میں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے ایک سال بعد طالبان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط عسکری قوت ہیں لیکن ان کی حکومت کولاحق خطرات تاحال موجود ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے طالبان نے وادی پنجشیر میں ہزاروں جنگجو بھیجے ہیں جہاں سے انہیں واحد فوجی خطرے کا سامنا ہے۔

شمال مشرقی افغانستان میں واقع یہ خوبصورت وادی کئی دہائیوں سے بیرونی قوتوں کے خلاف مزاحمت کا گڑھ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کی جائے پیدائش تھی۔

دوسری جانب اسلامک سٹیٹ خراسان گروپ (آئی ایس کے) نے گذشتہ 12 ماہ کے دوران بم دھماکے اور متعدد خودکش حملے کیے ہیں۔

لیکن ان عسکریت پسندوں نے طالبان کا دوبدو مقابلہ کرنے کی بجائے آسان اہداف یعنی بنیادی طور پر شیعہ مساجد اور سکھ مندروں کو نشانہ بنایا ہے۔

گذشتہ سال 31 اگست کو افواج کے انخلا کے بعد طالبان کی حکومت کو لاحق مغربی خطرات ختم ہو گئے ہیں۔

اس کے باوجود حال ہی میں کابل کے اندر القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے مبینہ قتل سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان رہنماؤں تک پہنچنا ایک ہائی ٹیکنالوجی رکھنے والے دشمن کے لیے کتنا آسان ہے۔

اگرچہ وادی پنجشیر طالبان کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کا سبب تھی لیکن واشنگٹن میں قائم ولسن سینٹر کے تھنک ٹینک کے تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کا خیال ہے کہ فی الحال سنگین مزاحمت ممکن نہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا:’ اگر ہم نےآئی ایس حملوں میں اضافہ دیکھا تو...میں سمجھتا ہوں کہ این آر ایف اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

’اگر آئی ایس اپنے حملوں سے افغانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو میرے خیال میں اس سے طالبان کی قانونی حیثیت کو ایک بڑا دھچکا لگ سکتا ہے اور اس سے این آر ایف کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور انہیں ایک موقع مل سکتا ہے۔‘

’دلوں میں خوف'

کابل پر قبضے کے تین ہفتے بعد چھ ستمبر تک مزاحمت کرنے والا صوبہ پنجشیرطالبان کے قبضے میں آنے والا آخری علاقہ تھا۔

اس کے بعد جب این آر ایف نے پہاڑوں سے نکل کر دوبارہ حملے شروع کر دیے تو مئی تک کابل کے شمال میں 80 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود وادی کو ایک بے چینی اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے جواب میں طالبان نے بکتر بند گاڑیوں کے طویل دستوں میں چھ ہزار سے زائد جنگجو بھیجے جس سے وہاں رہائش پذیر لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوگیا۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے ساتھ دبے لہجے میں بات کرتے ہوئے عامر نے کہا: ’جب سے طالبان وادی میں پہنچے ہیں، لوگ خوف زدہ ہیں، وہ کھل کر بات نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکہا: ’طالبان کا خیال ہے کہ اگر نوجوان اکٹھے بیٹھے ہیں تو وہ ان کے خلاف کچھ منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے۔‘

1980 کی دہائی میں احمد شاہ مسعود جن کا نام پنجشیر کا شیر تھا، کی قیادت میں جنگجوؤں نے، پنجشیر کی چوٹیوں سے سوویت افواج کا مقابلہ کیا تھا۔

جب سوویت افواج افغانستان سے نکلیں تو افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو گیا اور طالبان نے ملک پر قبضہ کر لیا۔

11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر حملوں سے دو دن قبل احمد شاہ مسعود کو قتل کر دیا گیا تھا۔

این آر ایف کی قیادت ان کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں جو این آر ایف کے بہت سے رہنماؤں کی طرح اب نامعلوم جلاوطنی میں ہیں۔

وادی سے گزرنے والی مرکزی سڑک کو اب طالبان فورسز کنٹرول کرتی ہیں اور ہر جگہ چیک پوسٹیں موجود ہیں۔

ہزاروں افراد وادی سے فرار ہو چکے ہیں جہاں کبھی ایک لاکھ 70 ہزار کے لگ بھگ گھرانے تھے اور خوف کا ماحول ہے، رہائشی صرف اصل نام چھپانے کی شرط پر بات کرتے ہیں۔

اپنی چار بہنوں کے ساتھ اپنی والدہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے وادی میں باہر سے آئی نبیلہ نامی ایک خاتون نے پورا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی: ’ پہلے ہم یہاں آکر اچھا محسوس کرتے تھے۔ اب ہمارے دلوں میں خوف ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہمارے شوہر آئے تو انہیں گاڑی سے گھسیٹ لیا جائے گا۔‘

خواہش بمقابلہ صلاحیت

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے طالبان پر پنجشیر میں بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ جن میں غیر قانونی پھانسیاں بھی شامل ہے۔

پنجشیر شہر کے رہائشی جمشید نے بتایا کہ طالبان نے مزاحمت کرنے والوں  کا ساتھ دینے والے جنگجوؤں کے رشتہ داروں کو گرفتار کر کے قتل کرنے کی دھمکی دی۔

’ان دھمکیوں سے مجبور ہوکر بہت سے جنگجوؤں نے پہاڑوں سے نیچے اترکر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔‘

اس کے باوجود طالبان حکام این آر ایف کی جانب سے لاحق خطرے کے متعلق ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک طرف تو ان کی موجودگی کی تردید کرتے ہیں پھر بھی ان سے لڑنے کے لیے فوجی بھیجتے ہیں۔

وادی میں تعینات طالبان کی خصوصی فورس یونٹ کے سربراہ عبدالحمید خراسانی نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمیں کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور نہ ہی کوئی حلیف نظر آتا ہے۔ پہاڑوں میں (صرف) چند لوگ ہیں۔ ہم ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔‘

این آر ایف کے خارجہ تعلقات کے محکمے کے سربراہ علی نزاری نے طالبان کے دعوؤں پر سوال اٹھایا ہے۔

انہوں نے سوال کیا: ’اگر ہم چند جنگجو ہوتے اور اگر ہمیں پہاڑوں کی طرف دھکیل دیا گیا ہوتا تو وہ اپنے ہزاروں جنگجو کیوں بھیج رہے ہوتے؟‘

نزاری نے کہا کہ این آر ایف کے پاس اب تین ہزار افراد کی لڑاکا فورس اور صوبے بھر میں اڈے موجود ہیں-

ان کے  اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ناممکن ہے۔

مائیکل کوگلمین کا خیال ہے کہ این آر ایف لڑنا چاہتی ہے لیکن ان کے پاس صلاحیت نہیں۔

انہوں نے کہا: ’واقعی ایک موثر گروپ بننے کے لیے این آر ایف کو مزید بیرونی معاونت، فوجی اور مالی امداد کی ضرورت ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا