’صوفی محمد کا جنازہ چھوڑیں چائے پییں‘

ہماری گاڑی کو بھی چیک پوسٹ پر روک دیا گیا اور شناختی کارڈ چیک کروا کے ایک پرچی ہاتھ میں تھما دی گئی۔ کہا گیا کہ اگلی چیک پوسٹ پر دکھا دیں۔ اس پر ہمارے نام اور رہائشی پتہ لکھا تھا جسے بطور انٹری پاس استعمال کیا جانا تھا۔

رش کی وجہ سے جنازے کو سڑک پر رکھا گیا ، گراؤنڈ سمیت سڑک پرصفیں بنائی گئیں اور جنازہ ادا کردیا گیا۔
 

کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کا جنازہ ان کے آبائی گاؤں ضلع دیرکے  تحصیل لال قلعہ گراؤنڈ میں ادا کردیا گیا۔ انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم کوریج کی غرض سے ضلع دیر میں ان کے آبائی علاقے میدان میں داخل ہو رہی تھی تو وہاں موجود سیکورٹی چیک پوسٹ پر ہر ایک کی انٹری کی جاتی تھی اور آگے جانے کی وجہ پوچھ رہے تھے۔
میدان کے علاقے میں اندرداخل ہوتے ہی اسلام درہ نامی چیک پوسٹ آتا ہے۔ چیک پوسٹ پرکھڑے سیکورٹی اہلکار ہر آنے والے سے میدان میں داخلے کی وجہ پوچھتے تھے۔ ضلع دیر کا علاقہ میدان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جسے بعد ازاں ملٹری آپریشن  کے ذریعے کلیئر کیا گیا تھا۔
چیک پوسٹ زیادہ تر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ جنازے کے لیے جا رہے ہیں اور سیکورٹی پر مامور اہلکار ان کا نام اور پتہ لکھ کر ان کو جانے کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ معمول سے ہٹ کر سیکورٹی بہت زیادہ سخت کر دی گئی تھی اور باہر سے آنے والے لوگوں کو تصدیق کے بعد ہی آگے جانے کی اجازت تھی۔
ہماری گاڑی کو بھی چیک پوسٹ پر روک دیا گیا اور شناختی کارڈ چیک کروا کے ایک پرچی ہاتھ میں تھما دی گئی۔ کہا گیا کہ آگے دوسری چیک پوسٹ پر یہ دکھا دیں۔ اس پرچی پر ہمارے نام اور رہائشی پتہ لکھا گیا تھا جسے بطور انٹری پاس استعمال کیا جاتا تھا۔
دوسری چیک پوسٹ پر سیکورٹی اہلکار سے جب ہم نے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے جنازہ گاہ اور جنازے کی کوریج سے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ سیکورٹی کی صورتحال ٹھیک نہیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ جنازہ گاہ نہ جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ہمیں پولیس سٹیشن میں بٹھا کر چائے پلا دی اور یہی کہا کہ مہربانی ہوگی اگر آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر آگے جانے سے گریز کریں۔
جنازہ گاہ کی طرف جانے والی سڑک پر معمول سے ہٹ کر رش دیکھنے کو ملا جب کہ مقامی گاڑیوں میں لوگ آرہے تھے جن کو جنازے میں شرکت کے لیے چھوڑا جا رہا تھا۔
جنازہ ادا کرنے والے ایک شخص نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صوفی محمد کا جنازہ لال قلعہ ہسپتال کے سامنے والی سڑک پر رکھا گیا تھا کیونکہ جب ان کو گراونڈ میں لایا جا رہا تھا تو بہت زیادہ رش کی وجہ سے راستہ نہیں بن رہا تھا۔
رش کی وجہ سے جنازے کو سڑک پر رکھا گیا اور گراؤنڈ سمیت سڑک پرصفیں بنائی گئیں اور جنازہ ادا کردیا گیا۔
بہت سے لوگ جو جنازہ گاہ کی طرف جا رہے تھے انہوں نے کالی پگڑیاں پہن رکھی تھیں۔ صوفی محمد کی تنظیم کا جھنڈا بھی کالے رنگ کا تھا اور ان کے سپورٹر زیادہ تر کالے رنگ کی پگڑیاں ہی پہنتے تھے۔
جنازے میں مقامی ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے راہنما اور اسی علاقے سے سابق ارکان صوبائی اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ یاد رہے کہ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی تنظیم بنانے سے پہلے صوفی محمد جماعت اسلامی سے وابستہ تھے اور علاقے کے کونسلر بھی رہ چکے ہیں۔
صوفی محمد کا آبائی گاوں لال قلعہ میدان ضلع دیر کے شہر تیمرگرہ سے تقریبا 22 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ صوفی محمد کو آبائی علاقے میں دارالعلوم ملا کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس تحریک سے وابستہ  ایک کارکن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ تحریک دراصل جمہوری نظام کے خلاف بنائی گئی تھی۔
تحریک نفاذ شریعت محمدی کی بنیاد انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں رکھی تھی۔ بعد میں ان کے ساتھ علاقے کے چند نامور لوگ بھی شامل ہوگئے۔ وقت کے ساتھ  یہ تحریک سوات، بونیر، شانگلہ، مالاکنڈ، باجوڑ تک پھیل گئی۔


رپورٹس کے مطابق 2001 میں امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان میں داخلے کے خلاف صوفی محمد 10 ہزار  لوگ جمع کرکے ’جہاد‘ کی غرض سے افغانستان لے کر گئے تھے۔ 
ہم نے اس جگہ کا بھی دورہ کیا جہاں تنظیم کا وہ دفتر واقع تھا جہاں سے لوگ جمع ہوکر افغانستان کے لیے نکلتے تھے۔ اسی دفتر کے سامنے ایک درخت پر انہوں نے لاوڈ سپیکر نصب کیا ہوا تھا  جس پر صبح سے شام تک وہ جہادی نغمے لگاتے تھے۔ ایک عینی شاہد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افغانستان جانے کے لیے مختلف عمر کے لوگ زیادہ تر کلاشنکوف  لے کر وہاں جمع ہو گئے تھے۔ حتی کہ ان کے مطابق ایک شخص تلوار لے کر بھی آیا تھا کہ وہ ’جہاد‘ کے لیے جانا چاہتا ہے۔
وہ درخت آج اس جگہ پر موجود نہیں ہے۔ اس علاقے کے وہ لوگ جن کے پیارے صوفی محمد کے ساتھ افغانستان جا کر ہلاک ہو گئے یا ابھی تک لاپتہ ہیں، وہ اس جگہ سے گزرتے ہوئے روز یہی  سوچتے ہیں کہ شاید ان کے لاپتہ عزیز کسی نہ کسی دن گھر واپس آ جایئں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان