پاکستانی ’بڑھتی مہنگائی‘ کی وجہ سے اپنا پسندیدہ ناشتہ چھوڑنے لگے

حلوہ پوری بہت سے لوگوں کے لیے ایک مقبول، سستا اور لذیذ ناشتہ ہے لیکن مہنگائی نے اسے لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔

حلوہ پوری بہت سے پاکستانیوں کے لیے ایک مقبول، سستا اور لذیذ ناشتہ ہے لیکن مہنگائی کی وجہ سے لوگ اپنا پسندیدہ ناشتہ چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

چنوں کے ساتھ پوری اور اس کے ساتھ ملنے والا حلوہ اب صارفین کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان کے شماریات بیورو نے یکم اگست، 2022 کو اعلان کیا تھا کہ صارفین کے لیے قیمتوں میں سالانہ افراط زر جولائی میں 24.9 فیصد تک پہنچ گیا جو 14 سال میں سب سے زیادہ ہے۔

حلوہ پوری کی بات کی جائے تو ایک سال قبل پوری کی قیمت تقریباً 20 پاکستانی روپے (0.09 ڈالر) تھی لیکن اب قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں۔

شماریات بیورو کے مطابق پاکستان کی موجودہ فی کس آمدنی یا ایک سال میں فی کس اوسط آمدنی ایک ہزار 666 ڈالرز ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سڑک کنارے کھانا فروخت کرنے والے محمد جاوید عباسی کہتے ہیں کہ ’ہمارے گاہکوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، حلوہ پوری استعمال کرنے والے افراد کی تعداد بھی بہت کم ہے۔‘

ان کا اندازہ ہے کہ ان کے گاہکوں کی نصف تعداد نے آنا بند کر دیا ہے۔

پوریوں کی زیادہ قیمت گذشتہ 12 ماہ کے دوران درکار خام مال کی لاگت میں اضافے کی عکاس ہے۔

شماریات بیورو کے مطابق گندم کے آٹے کی قیمتوں میں سات فیصد اور بجلی کے اخراجات میں 52 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کوکنگ آئل کی لاگت میں 74 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا۔

سبزیوں اور دودھ جیسی اشیائے خوردونوش تک قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اسی وجہ سے ناشتے کے لیے لوگوں کے پاس پیسے کم بچتے ہیں لیکن ملک کے تجارتی مرکز اور وسیع و عریض ساحلی شہر کراچی میں سڑک کنارے کھانے کی اس جگہ کاروبار جاری ہے۔

بالوں پر سبز جالی پہننے والے باورچیوں کی نظر گرم تیل میں تلی جا رہی پوریوں پر ہوتی ہے، جو وہ ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو اب بھی انہیں کھانے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا