فیصل آباد: 12 احمدیوں کی قبروں کی توڑ پھوڑ پر مقدمہ درج

فیصل آباد کے سٹی پولیس آفیسر عمر سعید ملک کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہے اور ابھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، تاہم پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

فیصل آباد کے چک 203 ر ب مانوالہ میں احمدیوں کے قبرستان میں توڑی گئی قبریں(فوٹو: انجمن احمدیہ پاکستان)

پنجاب کے ضلع فیصل آباد کے ایک گاؤں میں واقع احمدی کمیونٹی کے قبرستان میں نامعلوم افراد نے 21 اور 22 اگست کی درمیانی شب 16 قبریں توڑ ڈالیں، جس کا مقدمہ گذشتہ رات درج کرلیا گیا۔

یہ واقعہ چک 203 ر ب مانوالہ میں پیش آیا، جس کی ایف آئی آر مانوالہ کے ایک رہائشی ایاز محمود کی مدعیت میں تھانہ منصور آباد میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 297 کے تحت درج کی گئی۔

فیصل آباد کے سٹی پولیس آفیسر عمر سعید ملک نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہے اور ابھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، تاہم پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

مدعی نے ایف آئی آر میں دیے گئے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ان کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے اور وہ مانوالہ کے رہائشی ہیں، جہاں احمدیوں کے 25 گھرانے قیام پاکستان سے پہلے کے آباد ہیں۔

انہوں نے لکھا: ’یہاں احمدی عرصہ دراز سے امن و امان سے رہتے آئے ہیں اور ان کے قریبی رہائشیوں کو ان سے کبھی کسی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘

مدعی نے واقعے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ’21 اور 22 اگست کی درمیانی شب علاقے میں واقع احمدیوں کے قبرستان میں موجود قبروں میں سے 12 پر نامعلوم افراد نے توڑ پھوڑ کرکے قبروں کی بے حرمتی کی۔ اس واقعے سے ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور احمدی گھرانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔‘

انہوں نے ایف آئی آر میں درخواست کی کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرکے احمدیوں کو انصاف دلوایا جائے اور ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اس سارے واقعے کے حوالے سے انجمن احمدیہ پاکستان کے انچارج پریس سیکشن عامر محمود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ قبرستان 1947 سے یہاں موجود ہے اور اس عمل سے سوگوار خاندانوں میں شدید غم و غصہ ہے جو انصاف کے لیے حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ واضح طور پر تمام انسانی اقدار کے خلاف ہے۔‘

عامر محمود نے مزید بتایا کہ رواں برس کل 185 احمدیوں کی قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔

’اگر ہم گذشتہ ایک دو سالوں کی بات کریں تو جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں وہ پنجاب میں ہی ہوئے ہیں۔ دوسرے صوبوں میں صورت حال قدرے بہتر ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’رواں برس چار فروری کو بھی حافظ آباد میں پولیس نے 45 قبروں کے کتبے توڑے تھے۔ 16 فروری کو گجرانوالہ کے ایک علاقے میں احمدیوں کی 43 قبروں کے کتبوں سے تحریریں مٹائی گئیں اور ان پر رنگ کر دیا۔ اس کے بعد چھ اپریل کو سیالکوٹ میں بھی 45 احمدیوں کی قبروں کے کتبوں سے تحریریں مٹا دی گئیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’17 مارچ کو ضلع فیصل آباد میں پانچ احمدیوں کی قبروں کے کتبوں پر درج تحریروں کو جواز بنا کر احمدیوں کو پولیس سٹیشن طلب کیا گیا۔ 11 مئی کوسرگودھا کے ایک علاقے میں 30 احمدیوں کی قبروں کے کتبے توڑے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اب جو حالیہ واقعہ ہے اس میں تو ہمیں معلوم نہیں کہ کس نے یہ حرکت کی لیکن باقی واقعات میں پولیس نے کتبے توڑے یا تحریروں پر رنگ پھیر دیے۔ بہت سی جگہوں پر پولیس خود یہ کام کرتی ہے جبکہ ان کو ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور وہ بغیر کسی عدالتی حکم کے یہ کام کرتے ہیں۔‘

تاہم سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد عمر سعید ملک نے عامر محمود کے ان الزامات کو مسترد کردیا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میں ان (عامر محمود) کی اس بات کی تردید کرتا ہوں۔ اگر ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے تو وہ میرے ساتھ شیئر کریں، میڈیا سے شیئر کریں کہ ایسا ہوا ہے کہ مقامی پولیس ملوث ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں یہ بات بہت اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے، لیکن اگر احمدیہ جماعت یہ بات کرتی ہے تو وہ ضرور ہمیں بتائیں کیونکہ اگر ایسا ہے تو ہم اس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘

سی پی او عمر سعید ملک کے مطابق: ’جس کا جو آئینی حق ہے اس کو مہیا کرنا پولیس کا کام ہے۔ جس طرح ابھی ہم نے حالیہ واقعے کی ایف آئی آر درج کی ہے تو اس میں کیمروں کی مدد سے یا دیگر وسائل کی مدد سے ملزمان کی شناخت ہو گئی تو ہم ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان