یوکرین کا روس سے تین ہزار مربع کلومیٹر علاقہ واپس لینے کا دعویٰ

اتوار کو صدر زیلنسکی نے یوکرین کے فوجیوں کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں یوکرینی فوجیوں کو روسی قبضے سے آزاد کرائے گئے قصبے چکالوسک پر قومی پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایک سائیکل سوار خطہ خارکیف کے علاقے بالاکلیا میں 10 ستمبر 2022 کو سائیکل پر گزر رہا ہے جہاں روسی فورسز نے یوکرین میں حملے کیے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

یوکرین نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے رواں ماہ ملک کے شمال مشرقی خطے میں روس کے قبضے سے تین ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ کا علاقہ حاصل کر لیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یوکرینی فوج کے جنرل ویلری زلوزنی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا: ’ستمبر کے آغاز سے خارکیو خطے کے آس پاس تین ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ کا علاقہ یوکرین کے کنٹرول میں واپس آ چکا ہے۔ ہم نے نہ صرف جنوب اور مشرق میں بلکہ شمال کی طرف بھی پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ ہم روسی سرحد سے 50 کلومیٹر دور ہیں۔‘

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق کیئف کی جانب سے روس کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے فوری کارروائی نے ماسکو کو اپنی فوجیں پیچھے ہٹانے پر مجبور کر دیا۔ اپنے فوجیوں کے محاصرے میں آنے کے خطرے کے باعث روسی فوجی عجلت میں پیچھے ہٹتے ہوئے بڑی تعداد میں ہتھیار اور گولہ بارود چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

اتوار کو یوکرین پر مسلط کی گئی جنگ کو 200 دن مکمل ہو گئے ہیں جس پر یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی نے ایک ویڈیو خطاب میں روسیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’ان دنوں روسی فوج اپنی پیٹھ دکھا کر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔‘

اتوار کو صدر زیلنسکی نے یوکرین کے فوجیوں کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں یوکرینی فوجیوں کو روسی قبضے سے آزاد کرائے گئے قصبے چکالوسک پر قومی پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

روسی فوج کی یہ پسپائی یوکرینی افواج کے لیے میدان جنگ میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے جیسا کہ انہوں نے تقریباً سات ماہ سے جاری جنگ کے آغاز میں دارالحکومت کیئف پر قبضہ کرنے کی روسی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خارکیو کے علاقے میں یوکرین کا حالیہ حملہ ماسکو کے لیے حیران کن تھا جس نے روسی فوجیوں کو اس علاقے سے جنوب کی طرف دھکیلنے پر مجبور کر دیا۔

ناکامی چھپانے کی کوشش میں روسی وزارت دفاع نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ آئیزیوم اور خارکیو علاقے کے علاقوں سے فوجیوں کے انخلا کا مقصد جنوب کے ڈونیٹسک خطے میں روسی افواج کو مضبوط کرنا تھا۔

ماسکو کا یہ دعویٰ اس جواز سے ملتا جلتا ہے جو روس نے جنگ کے آغاز میں کیئف پر قبضے کی ناکام کوشش کے بعد اپنی افواج کو واپس بلانے کے لیے دیا تھا۔

حالیہ پسپائی نے روس کے فوجی بلاگرز اور قوم پرست مبصرین میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی جنہوں نے اسے ایک بڑی شکست کے طور پر بیان کیا اور کریملن پر زور دیا کہ وہ جنگی کارروائی تیز کر کے اس کا جواب دیں۔

اس شکست کے بعد بہت سے مبصرین نے ماسکو میں آتش بازی اور تہوار کے جشن کو جاری رکھنے پر روسی حکام پر شدید تنقید کی ہے۔

کریملن کے حامی سیاسی تجزیہ کار سرگئی مارکوف نے ماسکو میں تہوار کے جشن کو ایک سنگین سیاسی غلطی قرار دیا ہے۔

مارکوف نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’فوجی شکست کے المناک دن ماسکو میں آتش بازی اور جشن کے انتہائی سنگین سیاسی نتائج ہوں گے۔ جب عوام شکست کا ماتم کر رہے ہوں تو حکام کو جشن نہیں منانا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا