شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس مغربی دنیا کا متبادل ہو گا: روس

روسی صدر ولادی میرپوتن جمعرات کو شی جن پنگ، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بات چیت کریں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ 29 جولائی 2022 کو تاشقند میں اجلاس میں موجود ہیں۔ (اے ایف پی/فائل)

ماسکو نے منگل کو کہا کہ رواں ہفتے شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس مغربی دنیا کے ’متبادل‘ کے طور پر نظر آئے گا۔

اجلاس میں پاکستان وزیراعظم شہباز شریف، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، روسی صدر ولادی میر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور دیگر ایشیائی رہنما شرکت کریں گے۔

اجلاس جمعرات اور جمعے کو ازبکستان کے شہر سمرقند میں ہو گا۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چین، روس، بھارت، پاکستان اور چار سابق سوویت وسطی ایشیائی ممالک پر مشتمل شنگھائی تعاون تنظیم 2001 میں مغربی اداروں کے مقابلے میں ایک سیاسی، اقتصادی اور سلامتی تنظیم کے طور پر قائم کی گئی تھی۔

یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کرونا وائرس وبا شروع ہونے کے بعد چینی صدر شی جن پنگ پہلا بیرون ملک دورہ کریں گے جب کہ پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم بھی ایک اجلاس میں ساتھ شرکت کریں گے۔

روس کی خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے ماسکو میں صحافیوں کو بتایا کہ ’شنگھائی تعاون تنظیم مغربی تنظیموں کا متبادل پیش کرتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اس سربراہی اجلاس کو’بڑے پیمانے پر جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے پس منظر میں‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ’شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ارکان ایک انصاف پر قائم عالمی نظام کے حامی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے، اس میں ہمارے سیارے کی نصف آبادی شامل ہے۔‘

اوشاکوف نے کہا کہ جمعے کو مرکزی اجلاس میں شرکت سے قبل جمعرات کو ولادی میرپوتن شی جن پنگ، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بات چیت کریں گے۔

جمعے کو وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور آذربائیجان کے رہنما الہام علیوف سے بھی ملاقات کریں گے۔

روس کی خارجہ پالیسی کے مشیر نے کہا کہ شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات خاص طور پر اہم ہے، اہم بین الاقوامی اور علاقائی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جن میں یوکرین تنازعہ اور روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا