خیبر پختونخوا: سرکاری تنخواہوں میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟

صوبے کے سرکاری ملازمین کے علاوہ ایک لاکھ سے زیادہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن نہیں جاری ہوئی جس سے ان میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ افراد امداد کے حصول کے لیے 11 ستمبر، 2022 کو قطار میں کھڑے ہیں۔ ان متاثرہ افراد میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں (اے ایف پی)

خیبر پختونخوا کے چار لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین کو ستمبر کی تنخواہ چار دن گزرنے کے باوجود نہیں ملی ہے۔

خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین کے علاوہ ایک لاکھ سے زیادہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن بھی ابھی تک ان کو نہیں دی گئی ہے جس سے ان میں بےچینی پائی جاتی ہے۔

’سرکاری نوکری کرتے تقریباً 20سال ہوگئے لیکن آج تک اس دورانیے میں کبھی بھی ایسا وقت نہیں آیا تھا کہ تنخواہ پانچ دن لیٹ ہو گئی ہو۔

’ملازمت پیشہ افراد کے لیے تنخواہ گھر چلانے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے لیکن صوبائی حکومت نے یہ کارنامہ بھی سر انجام دے دیا کہ اب تنخواہ لیٹ کر دی۔‘

یہ کہنا تھا سلمان (فرضی نام) کا جو ضلع ملاکنڈ کے ایک سرکاری پرائمری سکول کے استاد ہیں اور اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ حکومت ان کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

سلمان گذشتہ 20 سال سے اسی پیشے سے منسلک ہیں جن کی تنخواہ تقریباً 40 ہزار روپے ہے لیکن تنخواہ دیر سے آنے کی وجہ سے پریشان ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’کسی بھی ملازمت پیشہ شخص سے پوچھو تو اس کا منصوبہ صرف ایک مہینے کے لیے ہی ہوتا ہے یعنی مہینے کے آخر تک جیب میں کچھ نہیں ہوتا۔‘

سلمان نے گھر کے اخراجات کے حوالے سے بتایا کہ گھر میں ہر ماہ گھر کا راشن تنخواہ آنے کے بعد لاتا ہوں لیکن ابھی راشن ختم ہے لیکن تنخواہ نہ آنے کی وجہ سے مزید راشن نہیں لے سکتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں کوئی معقول وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے کہ تنخواہ کس وجہ سے بند ہے۔ اگر صوبہ دیوالیہ ہے تو ہمیں صاف بتایا جائے کہ حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن پانچ دن ہوگئے کہ سکول انتظامیہ کچھ اور صوبائی حکومت کوئی اور وجہ بیان کرتی ہے۔‘

یہ صرف سلمان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ صوبے کے چار لاکھ حاضر سروس ملازمین کی تنخواہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن بھی رکی ہوئی ہے۔

بعض اضلاع میں ملازمین کو اکاوؑنٹس کے دفتر سے یہی وجہ بتائی گئی ہے کہ صوبائی اکاوؑنٹنٹ جنرل کے دفتر کی جانب سے ہمیں یہی کہا گیا ہے کہ ملازمین کی تنخواہ روک دی جائے لیکن اس کی وجہ ان کو نہیں بتائی گئی۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا  کو ہر ماہ ملازمین کی تنخواہوں اور پینش دینے کی مد میں رواں سال کے بجٹ دستاویز کے مطابق تقریباً 45 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں تقریباً 37 ارب ملازمین کی تنخواہوں جبکہ باقی آٹھ ارب پینشن کی مد میں رکھے گئے تھے۔

صوبائی حکومتی کا موقف

صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے گذشتہ روز تنخواہیں لیٹ ہونے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جو کچھ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے وہ جھوٹ ہے اور صوبہ بالکل بھی دیوالیہ نہیں ہوا۔

انہوں نے پیر کو بتایا تھا کہ ’ملازمین کی تنخواہیں آج ٹرانسفر کردی جائیں گی اور آج مہینے کا پہلا ورکنگ ڈے ہے تو آج سے تنخواہیں بھی دی جائیں گی۔‘

جھگڑا نے بتایا تھا کہ ’مسئلہ اس میں وفاقی حکومت سے فنڈ ٹرانسفر کا ہے۔ پچھلے چھ مہینوں سے وفاقی فنانس ڈویژن کا صوبائی حکومت کے محکمہ خزانہ کے ساتھ عجیب رویہ رہا ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر صوبے کو معاشی مسائل میں نہیں دھکیلیں گے۔‘

انہوں نے اسی حوالے سے تین دن پہلے بھی الزام وفاقی حکومت پر لگایا تھا کہ وفاقی حکومت صوبے کے فنڈز ٹرانسفر نہیں کرتے جس کی وجہ سے صوبے میں معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

منظور علی روزنامہ ڈان کے ساتھ وابستہ ہیں اور صوبے کے معاشی حالات کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک اںصاف جب سے خیبر پختونخوا میں حکومت میں ہے تبھی سے کہہ رہی ہے کہ وفاق کی جانب سے صوبے کو واجب الادا رقم نہیں مل رہی۔

انہوں نے بتایا کہ اسی وجہ سے ایک طرف صوبہ اپنی طور پر فنڈز کو مینیج کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب وفاق سے واجب الادا رقم نہیں مل رہی ہے جس کی وجہ سے صوبے کو معاشی مسائل کا سامنا ہے۔

منظور نے بتایا کہ ’وفاق کی جانب سے فنڈز نہ دینے کی وجہ سے رواں سال اپریل سے اب تک تقریباً 60 ارب روپے کا شارٹ فال آیا ہے اور صوبائی حکومت اس کو مینیج کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

دوسری جانب منظور کے مطابق سیلاب نے بھی اس مسئلے کو مزید گھمبیر کردیا ہے کیوں کہ صوبائی حکومت کے مطابق سیلاب کی وجہ سے صوبے میں تقریباً 124 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’اب صوبے کو سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے 30 ارب روپے چاہیے ہیں کیوں کہ لوگوں کو جلد از جلد معاوضہ دینا ضروری ہے لیکن وفاق کی جانب سے پیسے نہیں دیے جا رہے ہیں۔‘

وفاقی حکومت صوبے کو کس مد میں پیسے دیتی ہے؟

خیبر پختونخوا کو دیگر صوبوں کی طرح سالانہ مختلف واجبات ادا کیے جاتے ہیں اور رواں سال کے بجٹ میں خیبر پختونخوا حکومت کو وفاق کی جانب سے بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کے تقریباً 1332 ارب روپے سالانہ بجٹ میں سے 900 ارب روپے وفاقی حکومت سے ملنے کی توقع ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق اس میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا کو وفاق کی جانب سے فیڈرل ٹیکس کی مد میں ملیں گے جو تقریباً 571 ارب روپے ہیں۔

اسی طرح صوبے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں ڈویزبل پول کی مد میں ایک فیصد فنڈ ملتا ہے جو تقریباً 69 ارب روپے ہے۔

اسی طرح تیل اور گیس کی رائلٹی کی مد میں وفاق سے 31 ارب روپے، نیٹ ہائیڈل پاور یعنی بجلی منافع کی مد میں رواں سال تقریباً 70 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بجٹ دستاویزات کے مطابق قبائلی اضلاع کو وفاق کی جانب سے تقریباً 208 ارب روپے جبکہ دیگر فنڈز میں تقریباً 212 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔

اب رواں سال کے بجٹ میں خیبر پختونخوا نے جو اندازے لگائے تھے، سیلاب اور کچھ دیگر عوامل کی وجہ سے وفاق سے ملنے والے فنڈز میں کمی آئے گی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے کو فیڈرل ٹیکس کی مد میں سے سے زیاد فنڈ ملنے کی توقع تھی تاہم فیڈرل بورڈ آف رونیو(ایف بی آر) کی کلیکشن پچھلے دو ماہ میں صرف 10 فیصد بڑھی ہے جبکہ ٹارگٹ 23 فیصد رکھا گیا تھا۔

اسی وجہ سے خیبر پختونخوا نے بجٹ میں وفاق سے ملنے والی رقم کا تخمینہ اسی حساب سے لگایا تھا کہ کلیکشن 23 فیصد بڑھے گی لیکن اب چونکہ یہ کم ہو گیا ہے تو صوبے کو اب اندازے کے مطابق 682 ارب کے بجائے 617 ارب روپے ملیں گے جو تقریباً 65 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔

اسی طرح وفاق کی جانب سے بجلی منافع کی مد میں ملنے والی رقم بھی گذشتہ کئی عرصے سے ایک تنازع بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کی حکومت آنے کے بعد صوبے کو بجلی کی منافع میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق اس سے پہلے مالی سال 2021-22 کے ہر ماہ صوبے کو بجلی کی مد میں پیسے ملتے تھے لیکن رواں مالی سال جب حکومت تبدیل ہو گئی ہے، تو ایک ماہ بھی واجب الادا رقم صوبے کو نہیں دیے گئے ہیں۔

انہی دستاویزات کے مطابق وفاق کی جانب سے قبائلی اضلاع کی فنڈ میں کٹوتی، قبائلی اضلاع کے لیے صحت کارڈ کی فنڈ کو روکنا، بجلی کی خالص منافع کو روکنے  کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو تقریباً 275 ارب روپے کی شارٹ فال کا سامنا ہے۔

وفاق کا موقف

فنانس ڈویژن کے ترجمان برج لال دوسانی فنانس ڈویژن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’خیبرپختونخوا کو نیشنل فائنینشل کمیشن ایوارڈ (این ایف سی) کے مطابق ان کا حصہ وقت پر ہی مل گیا تھا۔

’اب خیبرپختونخوا کی حکومت ضم شدہ علاقوں کے لیے مزید ترقیاتی فنڈ مانگ رہی ہے۔ تنخواہیں وفاقی حصے اور خیبرپختونخوا کے اپنے وسائل سے ادا کی جانی چاہییں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت