خیبرپختونخوا: ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانا کتنا موثر؟

وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کے مطابق حکومت پبلک پرائیویٹ ماڈل کی جانب اس لیے جا رہی ہے تاکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں غیر فعال ہسپتالوں کو مریضوں کے فائدے کے لیے کھول سکے۔

26 اپریل 2015 کو پشاور میں شدید بارش اور آندھی کے بعد ہسپتال میں زخمی ہونے والے مریض (فائل تصویر: اے ایف پی)

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں 58 سیکنڈری سطح کے ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں محکمہ صحت نے مختلف اداروں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

تاہم اس فیصلے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے جس میں ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت سرکاری ہسپتالوں کو نجی اداروں کے حوالے کر رہی ہے جو عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

اس سے پہلے صوبائی حکومت مختلف اضلاع میں آٹھ ہسپتالوں کو پہلے ہی پی پی پی کے تحت چلانے کا عمل شروع کر چکی ہے اور محکمہ صحت کے مطابق پبلک پارٹنرشپ کے تحت چلانے کے بعد ان ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

 پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کیا ہے؟

 پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں بعض اوقات کسی عوامی منصوبے کو نجی اداروں کے ساتھ مل کر چلاتی ہیں جس میں صحت و تعلیم سے لے کر دیگر شعبہ جات کے منصوبے شامل ہوتے ہیں۔

اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ کسی صوبائی حکومت نے کسی ضلعے میں ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا۔ اب یہ ہسپتال حکومت خود بنا کر اس کا ٹھیکہ کسی نجی ادارے کو دیتی ہے کہ وہ اس کے امور اتنے سالوں تک چلائے گا اور ہسپتال کی بہتری کے لیے جتنا خرچہ ہوگا، اخراجات وہی نجی ادارہ ادا کرے گا۔

اس کا ایک ماڈل یہ بھی ہے کہ یہی ہسپتال حکومت کسی نجی کمپنی کو دے کر ان کو کہے کہ وہ ہسپتال بنانے میں سرمایہ کاری کرے اور پھر طے شدہ مدت تک ہسپتال کے تمام امور وہی کمپنی چلائے یعنی ہسپتال سے حاصل ہونے والی آمدن بھی نجی کمپنی کو دی جائے۔ 

سوات ایکسپریس وے پی پی پی ماڈل کی ایک مثال ہے، جسے خیبر پختونخوا حکومت نے فرنٹیئر ورک آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ساتھ شراکت میں بنایا اور جس میں زیادہ سرمایہ کاری ایف ڈبلیو او نے کی ہے۔

اس سرمایہ کاری کی وجہ سے سوات ایکسپریس وے کو 30 سالہ لیز پر ایف ڈبلیو او کو دیا گیا ہے اور ان 30 سالوں میں اس منصوبے سے جو بھی آمدنی ہوگی، وہ ایف ڈبلیو او کو جائے گی۔

’یہ ماڈل بہتر ہے، بیرون ملک بھی چلتا ہے‘

ڈاکٹر ناصر اقبال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈولپمنٹ اکنامکس میں پروفیسر ہیں اور ترقیاتی منصوبوں اور پاکستان کی معاشی صورت حال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پی پی پی ماڈل کا کانسیپٹ یہی ہے کہ ایک سرکاری پراپرٹی، جیسے سٹیل مل یا پاکستان ایئرلائن، حکومت ان اداروں کے کچھ شئیرز نجی کمپنیوں کو دیتی ہے۔

ڈاکٹر ناصر نے بتایا: ’اس میں یہ ہوتا ہے کہ اگر نجی سیکٹر کو ادارے کے مکمل شئیرز دیے جاتے ہیں تو نجی سیکٹر میں سروس فراہمی بہتر ہو جاتی ہے جس طرح پی ٹی سی ایل ہمارے سامنے ایک مثال ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پی پی پی ماڈل ہمیشہ بہتر ہوتا ہے اور اسی ماڈل کو بین الاقوامی سطح پر بھی نافذ کیا جاتا ہے حتیٰ کہ باہر دنیا میں پبلک ٹرانسپورٹ سروسز بھی پی پی پی کے تحت چلتی ہے۔

’پی پی پی کا ایک حالیہ ماڈل خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ کا ہے۔ حکومت نے ایک نجی انشورنس کمپنی کے ذریعے یہ فیصلہ کیا اور اس سے عوام کو کافی فائدہ مل رہا ہے۔ ظاہری بات ہے  کہ نجی کمپنی کو اس سے ریٹرن مل رہا ہے لیکن حکومت زیادہ تر چیزوں کے لیے پالیسی تو بنا سکتی ہے لیکن خود اداروں کو وہ نہیں چلا سکتی۔‘

ڈاکٹر ناصر سے جب پوچھا گیا کہ کیا حکومت کو اس ماڈل میں کوئی فائدہ ہوتا ہے، تو ان کا کہنا تھا: ’اگر کسی جگہ پر ہسپتال کی عمارت ویران پڑی ہے اور وہ استعمال نہیں ہو رہی ہے تو وہ عمارت کسی نجی کمپنی کو اگر دے دی جائے تو ادھر سروس کی فراہمی اس طریقے سے شروع کی جا سکتی ہے۔‘

اس ماڈل میں ڈاکٹر ناصر کے مطابق: ’حکومت کو شاید کوئی ریونیو تو نہ ملے لیکن یہ ضرور ہے کہ ویران عمارت کم از کم عوام کی سہولت کے لیے کھولی جا سکتی ہے اور سب کچھ نجی کمپنی کی طرف سے کیا جاتا ہے۔‘

خیبر پختونخوا حکومت کے ماڈل کی تفصیلات

خیبر پختونخوا حکومت نے اسی پی پی پی ماڈل کے تحت صوبے میں 58 سیکنڈری سطح کے ہسپتالوں کو چلانے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یو) شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جن اضلاع میں مختلف ہسپتالوں کو پی پی پی کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں ایبٹ آباد، بٹگرام، لوئر دیر، ٹانک، بنوں، کرک، شمالی وزیرستان، خیبر، پشاور، چترال، دیر بالا، ہنگو، کوہاٹ، اورکزئی، ملاکنڈ، شانگلہ، سوات، مردان، نوشہرہ، اور صوابی شامل ہیں۔

صوبائی اسمبلی میں محکمہ صحت کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق: ’صوبے میں آٹھ ہسپتال 2017 سے پی پی پی کے تحت چل رہے ہیں اور اس کے کافی بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔‘

محکمہ صحت کے دستاویزات کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت نے دیگر ہسپتالوں کو بھی پی پی کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

کیا پی پی پی کے بعد مریضوں میں اضافہ ہوا ہے؟

دستاویزات میں کچھ اعدادوشمار بھی پیش کیے گئے ہیں جن میں محکمہ صحت نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح یہ ماڈل کامیاب رہا ہے۔ 

محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق:

  • ضلع اورکزئی کے علاقے میشتہ میلا کے ہسپتال کو 2017 میں پی پی پی ماڈل کے تحت کر دیا گیا۔ اس ہسپتال میں مریضوں کی تعداد دیکھی جائے تو ستمبر 2020 میں تین ہزار مریض جبکہ ستمبر2021 میں 11 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔
  • شمالی وزیرستان کے ملا خان سرائے ہسپتال میں ستمبر 2020 میں 222 مریض او پی ڈی میں آئے جبکہ پی پی پی ماڈل کے بعد ستمبر 2021 میں او پی ڈی مریضوں کی تعداد بڑھ کر 3858 تک پہنچ گئی تھی۔
  • ضلع اورکزئی کے غیلجو ہسپتال میں پی پی پی سے پہلے او پی ڈی مریضوں کی ماہانہ تعداد 1701 جبکہ پی پی پی کے بعد یہ تعداد چار ہزار سے زائد تک پہنچ گئی۔
  • کرم کے ڈوگر ہسپتال میں ماہانہ مریضوں کی تعداد پی پی پی کے بعد 1700 سے بڑھ کر اب پانچ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

او پی ڈی کے علاوہ ان ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

دستاویزات کے مطابق:

  • شمالی وزیرستان کے میلہ خان سرائے ہسپتال میں مریضوں کے داخلے کا کوئی بندوبست نہیں تھا تاہم پی پی پی ماڈل پر منتقل ہونے کے بعد ستمبر 2021 میں 266 داخل مریضوں کا علاج معالجہ ہوا۔ 
  • ضلع مہمند کے مہمند گٹ ہسپتال میں پی پی پی ماڈل سے پہلے مریضوں کا داخلہ صفر تھا تاہم اس کے بعد اسی ہسپتال میں ستمبر 2021 میں 1127 داخل مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔
  • غلجو اورکزئی میں پی پی پی ماڈل سے پہلے صرف چھ مریض ستمبر 2020 میں داخل ہوئے تھے تاہم ستمبر 2021 میں 204 داخل مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔
  • ڈوگر ضلع کرم ہسپتال میں پی پی پی سے پہلے داخل مریضوں کی تعداد صفر تھی لیکن پی پی پی ماڈل کے بعد ستمبر 2021 میں 466 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔
  • توئی خلہ جنوبی وزیرستان کے ہسپتال میں پی پی پی ماڈل سے پہلے ستمبر2020  میں صرف 10 مریض داخل ہوئے لیکن ستمبر 2021 میں 122 داخل مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا کا موقف

اس حوالے سے جب صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’پی پی پی کے تحت ہسپتال چلانا بالکل بھی نجکاری نہیں ہے۔ ہم نجکاری کی جانب جا رہے ہیں اور نہ سرکاری پوسٹیں ختم کر رہے ہیں۔‘

’پی پی پی ماڈل کی طرف ہم اس لیے جا رہے ہیں تاکہ غیر فعال ہسپتالوں کو مریضوں کے فائدے کے لیے کھول سکیں کیونکہ جن ہسپتالوں کو پی پی پی ماڈل پر ہم لے جا رہے ہیں وہاں تین ہزار سے زائد بیڈز ہیں لیکن استعمال صرف ایک فیصد ہو رہا ہے۔‘ 

’کوئی بھی ہسپتال جاتا ہے تو وہاں سہولیات کی جانب دیکھتا ہے، مریض یہ نہیں دیکھتے کہ یہاں پر جو ڈاکٹر ہے یہ سرکاری ملازم ہے یا نہیں، یا یہ ڈاکٹر سرکار سے پینشن لیتا ہے یا نہیں؟ ہم یہی کر رہے ہیں کہ مریضوں کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کر سکیں۔‘

 تیمور سلیم جھگڑا کے مطابق: ’پی پی پی ماڈل کے بعد صوبے کے بڑے ہسپتالوں سے رش کم ہوجائے گا کیونکہ اگر کسی کو اپنی دہلیز پر علاج معالجے کی سہولت ملتی ہے تو وہ پشاور کے کسی بڑے ہسپتال میں کیوں جائیں گے؟

’ابھی 58 کیٹیگری ڈی ہسپتالوں کو پی پی پی ماڈل پر لے کر جا رہے ہیں۔ ایک ہسپتال کی عمارت پر ایک ارب روپے خرچ ہوتے ہیں تو مطلب حکومت کے 58 ارب روپے ان ہسپتالوں کی عمارت پر لگے ہیں لیکن مریض وہاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘

پی پی پی ماڈل کے تحت یہ ہسپتال کس کے حوالے کیے جائیں گے؟ اس کے جواب میں تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا: ’بڑے بڑے گروپس جیسا کہ رحمٰن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، آغا خان ہسپتال، شفا ہسپتال اور اسی طرح دیگر کئی ہسپتالوں نے پی پی پی ماڈل کے لیے اپلائی کیا ہے تو اسی سے بڑی بات مریض کے لیے کیا ہوسکتی ہے کہ ان دیہی علاقوں میں بہترعلاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں۔‘

حکومتی خزانے پر بوجھ کے حوالے سے جھگڑا کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے ان ہسپتالوں کو وہی رقم ملے گی جو پہلے ملتی تھی لیکن سروسز فراہمی کی ذمہ داری شراکت دار کی ہو گی اور ان ہسپتالوں کو ہم صحت سہولت کارڈ میں بھی شامل کریں گے۔

پی پی پی ماڈل پر چلنے والے ہسپتالوں پر آزاد آڈٹ رپورٹ

خیبر پختونخوا میں جو ہسپتال پہلے سے اسی ماڈل کے تحت چل رہے ہیں ایڈم سمتھ انٹرنیشنل نامی غیر سرکاری ادارے نے ان ہسپتالوں کی ایک آڈٹ رپورٹ مرتب کی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا پی پی پی ماڈل کے بعد ان ہسپتالوں میں کوئی بہتری آئی ہے یا نہیں۔

ایڈم سمتھ کی رپورٹ میں ہسپتالوں کو مختلف عوامل، جیسے سٹاف کی فراہمی، ہائرنگ، صفائی، ہیلتھ سروسز کی فراہمی سمیت مختلف خدمات، پر نمبر دیے گئے۔ 

رپورٹ کے مطابق: ’آڈٹ کے دوران اور فیلڈ وزٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ پی پی پی ماڈل کے تحت چلنے والے ہسپتالوں نے 100 میں سے 89 نمبر جبکہ بغیر پی پی پی ماڈل ہسپتالوں نے 55 نمبر حاصل کیے۔‘

رپورٹ کے مطابق:

  • پی پی پی ماڈل کے تحت چلنے والے 98 فیصد ہسپتالوں میں بجلی کی سہولت موجود تھی جبکہ بغیر پی پی پی ماڈل کے سروے کیے گئے ہسپتالوں میں صرف 56 فیصد میں بجلی موجود تھی۔
  • پی پی پی ماڈل کے تحت ہسپتالوں میں 100 فیصد پینے کے صاف پانی کی سہولت فراہم کی گئی تھی جبکہ دیگر ہسپتالوں میں سے صرف 25 فیصد میں یہ سہولت پائی گئی۔ 
  • ہسپتالوں سے فضلے کے اخراج کی اگر بات کی جائے تو پی پی پی ہسپتالوں میں 83 فیصد میں ویسٹ مینیجمنٹ کا بندوبست موجود تھا جبکہ دیگر میں ہسپتالوں میں سے صرف 41 فیصد میں یہ سہولت موجود تھی۔ 
  • پی پی پی ماڈل کے ہسپتالوں میں ڈس انفیکٹکشن کا بندوبست کیا گیا تھا جبکہ دیگر کسی بھی ہسپتال میں یہ سہولت موجود نہیں تھی۔

’سرکاری ڈاکٹروں کو موقع دیں گے‘

تیمور سلیم جھگڑا نے ان ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف کی ہائرنگ کے بارے میں بتایا: ’سرکاری ڈاکٹرز کو ہم موقع دیں گے اگر وہ ان ہسپتالوں میں کام کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں اور ان کی تنخواہیں بھی اچھی ہیں۔ پہلے سے رائج طریقہ کار موجود ہے تاہم اس میں بہت خامیاں ہے اور ہم اسی کو دور کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہسپتالوں کے معیار میں بہتری لا سکیں۔‘

اس منصوبے کی فنڈنگ کون کرے گا؟

اس منصوبے کو ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کو صحت کی مد میں ایک گرانٹ کے تحت سپورٹ کیا جا رہا ہے اوردیگر صوبوں سمیت اس میں خیبر پختونخوا بھی شامل ہے تاکہ صحت کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔ 

ورلڈ بینک کی جانب سے تمام صوبوں کو بتایا گیا تھا کہ وہ مراکز صحت میں علاج کے حوالے سے ایک ایسا پیکج لائیں گے جس پر پیسے کم لگیں اور مریضوں کو اس کا فائدہ زیادہ ہو۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے ایک اہلکار جو خود صحت ریفارمز کے ماہر ہیں اور جو اس منصوبے کے تیاری میں موجود تھے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہلے ورلڈ بینک چاہتا تھا کہ کچھ اضلاع میں ابتدائی طور پر پرائمری اور سیکنڈری مراکز صحت میں سہولیات کی بہتر فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور صحت کے شعبے میں ریفارمز لائے جائیں۔ 

اسی سلسلے میں اہلکار نے بتایا کہ ورلڈ بینک منصوبے کے تحت خیبر پختونخوا کے 200 بنیادی مراکز صحت میں سہولیات کی فراہمی سمیت ڈاکٹروں اور دیگر ملازمین کو تعینات کیا گیا اور اس میں ورلڈ بینک کی جانب سے فی مریض 28 ڈالر فی سال فراہم کیے گئے جبکہ 24 ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ریفارمز کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

’اب جو ہسپتال پی پی پی ماڈل پر چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو یہ انہی ریفارمز کا ایک حصہ ہے کیونکہ حکومت سمجھ رہی ہے کہ ان ہسپتالوں کو ہر سال بجٹ دیا جاتا ہے اور خرچ بھی ہوتا ہے لیکن ہسپتالوں میں صحت کی سروسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘

’اسی وجہ سے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان ہسپتالوں کو نجی سیکٹر کے حوالے کیا جائے اور اسی بجٹ میں مریضوں کو بہتر خدمات بھی فراہم کی جا سکیں۔ یہ منصوبہ خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے تحت چلایا جائے گا یعنی حکومت کی طرف سے ہسپتالوں کا بجٹ فاؤنڈیشن کو اور فاؤنڈیشن کی جانب سے یہ بجٹ اوپن نیلامی کے ذریعے نجی سیکٹر کو دیا جائے گا۔‘

اہلکار نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 132 مختلف منصوبے شامل ہیں جن میں حکومت خیبر پختونخوا سمیت عالمی بینک و دیگر عالمی ادارے سرمایہ کاری کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت