طالبان کے 13 رہنماؤں پر پابندیاں، بیرون ملک سفر سے قاصر

سلامتی کونسل کی 2011 کی قرارداد کے تحت کل 135 طالبان عہدیداروں پر پابندیاں عائد ہیں، جن میں اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔

طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی 3 اپریل 2022 کو کابل میں پوست کی کاشت اور ہر قسم کی منشیات پر پابندی سے متعلق امارت اسلامیہ افغانستان کے سپریم لیڈر کے سرکاری فرمان کو پڑھنے کے دوران ایک کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں (اے ایف پی/ احمد سہیل ارمان)

افغانستان میں طالبان کے 13 رہنما بشمول وزیر خارجہ امیر خان متقی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے سفری اجازت میں گذشتہ اگست کے بعد توسیع نہ کرنے سے بیرون ملک جانے سے بدستور قاصر ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کی تحقیق کے مطابق وہ 13 طالبان رہنما جن پر دوبارہ پابندی عائد کی گئی ہے ان میں وزیر خارجہ امیر خان متقی، وزیر اعظم ملا عباس اخوند، نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، کمانڈر خلیل الرحمن حقانی، خیر اللہ خیرخواہ، ملا مظلوم فاضلی، نور اللہ نوری، مولوی شہاب الدین دلاور، ملا حسن، وزیر خزانہ ملا آغا اسحاق زئی، دین محمد حنیف اور ملا سلام حنفی شامل ہیں۔ 

سلامتی کونسل کی 2011 کی قرارداد کے تحت کل 135 طالبان عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔

اگرچہ ان 13 افراد کو سفری پابندی سے استثنیٰ دی گئی تھی تاکہ وہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کے حکام کے ساتھ امن مذاکرات کر سکیں اور سلامتی کونسل نے باقاعدگی سے استثنیٰ کی تجدید کی۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے انڈپینڈنٹ اردو کو اس بابت بتایا کہ وہ ایسی تمام فہرستوں کے مکمل خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’افغان وزرات خارجہ تعلقات کے بہتری اور بداعتمادی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ اس قسم کی تمام فہرستیں ختم ہوں۔ ان پابندیوں سے مفاہمت میں مدد نہیں ملتی اور خطے اور دنیا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی راہ میں یہ آڑے آتی ہیں۔ ہم آہنگی میں اس خطے اور دنیا سب کا فائدہ ہے۔‘

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ اس موضوع پر مزید بات نہیں ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پابندیاں لگانا، سفر سے منع کرنا دباؤ ڈالنا جیسے ماضی میں بھی تجربات نے کوئی اچھے نتائج نہیں دیے۔ ’مصالحت، مفاہمت اور بات چیت کے راستے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔‘

اسلام آباد میں ایک سفارتی اہلکار کے مطابق امریکہ نے قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ ان رہنماؤں کی دوسرے ناموں سے سفر کرنے کی کوشش پر نظر رکھیں۔ 

یہ سب انتہائی اہم طالبان رہنما ہیں تاہم عبد الغنی برادر کا شمار طالبان تحریک کے سرکردہ رہنماؤں اور طالبان سربراہ ملا محمد عمر کے انتہائی اہم اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ ملا برادر طالبان شوری کے اہم رکن اور ملا محمد عمر کے نائب کے طور پر جانے جاتے تھے۔

اروز گان سے تعلق رکھنے والے اس دھیمے مزاج کے رہنما کو فروری 2010 میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم 2013 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان نے افغان مصالحتی عمل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے انہیں رہا کر دیا ہے۔

سراج الدین حقانی والد کے انتقال کے بعد حقانی نیٹ ورک کے سربراہ مقرر ہوئے اور اس سال مارچ میں منظر عام پر آئے۔ ان کے سر کی قیمت امریکہ نے ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔ اس انعام کی صورت حال بھی اب واضح نہیں۔

خلیل الرحمن حقانی کے سر پر بھی امریکہ کی جانب سے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام ہے۔ انہیں خلیل حقانی یا خلیل احمد حقانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ وہ چندہ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کی جانب سے ان طالبان رہنماؤں کو بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دینے والے استثنیٰ کی میعاد 19 اگست 2022 کو ختم ہو گئی تھی، جب رکن ممالک استثنیٰ میں ممکنہ توسیع پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے تھے۔

افغان طالبان اس پابندی سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے اس پابندی کو بات چیت کے دروازے بند کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ سہیل شاہین کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ فیصلہ پرامن ذرائع سے مسائل کے حل کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مغربی اقوام کو جن وجوہات کی بنا پر اس کی خودکار تجدید پر اعتراض تھا ان میں طالبان کی جانب سے اپنے وعدوں کو برقرار رکھنے میں ناکامی، خواتین سمیت تمام افغانوں کے انسانی حقوق کا احترام، وسیع البنیاد حکومت اور دہشت گردی سے نمٹنا شامل تھا۔

سینیئر صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سفری پابندیاں بھی بین الاقوامی برادری کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالنے کا ایک آلہ ہے۔ ’تکنیکی طور پر 1998 میں طالبان پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں وہ اب بھی قائم ہیں۔ ان پر اب بھی اقوام متحدہ اور امریکہ کی پابندیاں بدستور موجود ہیں۔‘

کیا سفری اجازت دینے سے طالبان کے ساتھ مسائل پر بات چیت سے مدد نہیں ملے گی، تو سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ طالبان کو جتنی رعایت دی جاسکتی تھی دی گئی ہے لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوا ہے۔ ’قطر میں دفتر کے قیام کے نتیجے میں انہوں نے ملک پر عسکری زور سے قبضہ کر لیا۔ اسی وجہ سے سلامتی کونسل نے اجازت میں مزید توسیع نہیں دی۔‘ 

فارن پالیسی جریدے کے مطابق بائیڈن انتظامیہ اس بات پر شدید داخلی بحث میں پھنسی ہوئی ہے کہ آیا ٹرمپ کے دور کی اس سفری چھوٹ میں توسیع کی جائے یا نہیں۔

مبصرین کے مطابق ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود توسیع کی جانب کسی پیش رفت کا نہ ہونا امریکی پالیسی کی اس وقت واضح عکاسی کر رہا ہے۔

امریکہ اور اتحادی ممالک نے تاہم طالبان عہدیداروں کی کم تعداد کو سفری چھوٹ دینے اور ان کے سفر کو صرف قطر تک محدود کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جہاں امریکی حکام نے حالیہ مہینوں میں متقی کی قیادت میں طالبان کے وفود سے معمول کے مطابق بات چیت کی ہے۔

تاہم چین اور روس نے ایک سال قبل افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے والے طالبان کے تمام 13 اہلکاروں کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دینے کی وکالت کی۔

جب تک سلامتی کونسل کے ارکان کسی معاہدے پر نہیں پہنچ جاتے، پابندیوں کی فہرست میں شامل طالبان کا کوئی بھی اہلکار بیرون ملک سفر نہیں کر سکتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا