سرمایہ داروں کا ’پانچواں ستون‘ معیشت کو سہارا دے سکے گا؟

تنظیم کے منشور میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ دار اور کاروباری طبقہ حکومت کے ساتھ مل کر تجارت کی نئی قانون سازی، برآمدات، درآمدات سے متعلق مسائل کا حل اور مقامی انڈسٹری کو فروغ دینے میں کردار ادا کرے گا۔

سرمایہ دار طبقہ کاروباری سرگرمیوں سے معیشت کو مضبوط کرکے ٹیکس ریکوریوں سے متعلق بھی حکمت عملی تیارکرنے کا عزم رکھتا ہے (پانچواں ستون تنظیم)

لاہور کے 100 سرمایہ داروں نے مل کر ’پانچواں ستون‘ کے نام سے تنظیم تشکیل دی ہے جس کا مقصد ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے سرمایہ داروں اور تاجروں کے ذریعے حکومت کا ساتھ دینا ہے۔

تنظیم کے منشور میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ دار اور کاروباری طبقہ حکومت کے ساتھ مل کر تجارت کی نئی قانون سازی، برآمدات، درآمدات سے متعلق مسائل کا حل اور مقامی انڈسٹری کو فروغ دینے میں کردار ادا کرے گا۔

اس مقصد کے لیے ملک بھر کے چیمبر آف کامرس و دیگر تجارتی فورمز سے مل کر ممبر شپ کا آغاز کرنا بھی ہے۔

سرمایہ دار طبقہ کاروباری سرگرمیوں سے معیشت کو مضبوط کرکے ٹیکس ریکوریوں سے متعلق بھی حکمت عملی تیارکرنے کا عزم رکھتا ہے۔

اس معاملے میں باقاعدہ عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے اور کاروباری طبقے سے ملاقاتیں جاری ہیں تاکہ وہ اپنے مکمل اورجامع منصوبے کے ساتھ حکومت کی معاونت کر سکیں۔

تنظیم کے ممبران کے مطابق ان کا مقصد صرف تجاویز دینا نہیں بلکہ اپنے طور پر عملی اقدامات کے بعد لائحہ عمل تیار کیا جائے گا جس سے معیشت مستحکم ہوسکتی ہے۔

معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ فارمولہ اسی صورت میں کامیاب ہوسکتا ہے جب حکومت اس کی سرپرستی کرے اورکسی معاشی ادارے سے ملک کر اس طرح کا کوئی فورم تشکیل دے ورنہ اپنے طور پر ریاستی امور میں قانونی طور پرحکومت کو کسی بھی پالیسی یا حکمت عملی کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

البتہ اگر اس ماڈل کو حکمت عملی سے ترتیب دیا جائے تو بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں کہ سرمایہ دار اور تاجر برادری اپنے طور پر ذمہ داری ادا کرے مگر نگرانی حکومت کی ہونی چاہیے۔

لاہور کے سرمایہ دار عابد بٹ جو پانچواں ستون نامی تنظیم کے صدر ہیں انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’لاہور کے 100سرمایہ داروں اور تاجروں نے مل کر تنظیم بنائی ہے۔ اس کا مقصد تاجروں اور سرمایہ داروں کو متحد کر کے ملکی معیشت کو بہتر کرنا ہے۔ یہ اقدام بالکل غیر سیاسی ہے کسی کے سیاسی مقاصد نہیں ہیں نہ کسی پارٹی سے منسلک ہونے کی بنیاد پر کام کررہے ہیں۔‘

عابد بٹ نے کہا: ’تمام کاروباری حضرات ان حالات میں کاروباری مشکلات سے دوچار ہیں اور پرانے قوانین نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کے لیے ناکافی ہیں بلکہ حکومتی ریونیو بھی موجودہ نظام کے تحت اتنا نہیں بڑھ رہا جتنا بڑھنا چاہیے اس لیے ہم نےمنشور بھی پیش کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ سب مل کر موجودہ معاشی قوانین میں جہاں جہاں روکاوٹیں ہیں وہ تبدیل کر کے معاشی سرگرمیاں بڑھانے کی تجاویزتیار کر رہے ہیں تاکہ وسائل پیدا کر کے کاروبار اور انڈسٹری کو وسعت فراہم کی جائے اس میں خامیاں دور کر کے بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

کاروباری طبقے کے لیے اکنامک زون بنا کر وہاں بنیادی سہولیات فراہم کر کے کاروبار کے ساز گار حالات پیدا کیے جاسکتے ہیں اس معاملے میں سکیورٹی کی فراہمی بھی اہم جز ہے اور سرمائے کی بنیاد پر بزنس کے مواقع کی فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

کاروبار کے نئے مواقع

پانچویں ستون کی جانب سے نئے لوگوں کو کاروبار شروع کرنے کے لیے تربیت اور آگاہی فراہم کرنا شامل ہے اور چھوٹے پیمانے پر آسان قرضوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔

مقامی طور پر کام کرنے والی کمپنیوں اور برینڈز کو ان کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی و غیر ملکی سطح پرمتعارف کرانے کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں تاکہ مقامی انڈسٹری اور کاروبار کو فروغ حاصل ہوسکے۔

اس کی حکومتی سطح پر تشہیر لازمی ہے۔

گوادر منصوبے کے تحت چین کی کمپنیوں کے ساتھ مقامی کمپنیوں کو بھی منسلک کرنا چاہیے تاکہ انڈسٹریل زونز میں پاکستان کی تیار کردہ اشیا بھی عالمی منڈیوں تک پہنچ سکیں اور یہ سرمایہ ملک میں آنا چاہیے۔

پانچویں ستون نامی تنظیم کا موقف ہے کہ درآمدات اور برآمدات سے متعلق موجودہ قانون سازی میں ایسی شرائط ہیں جنہیں پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔

قانونی مجبوریوں کا فائدہ دوسرے ممالک کی کمپنیاں اورر تاجر اٹھاتے ہیں جن میں بہتری سے اربوں روپے سرمایہ اپنے ملک میں لایا جاسکتا ہے۔

نائب صدر پانچواں ستون نجم مزاری کے بقول وہ ایسا فارمولہ مرتب کر رہے ہیں جس میں دوسرے فورمز کے مقابلہ میں تنظیم کھڑی کرنا مقصد نہیں بلکہ ممبر شپ کے ذریعے ہر سطح پر کاروباری اور سرمایہ دار طبقے کی مشکلات حل کرکے معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑے سرمایہ داروں کے مسائل تو وہ اپنے اثر ورسوخ سے حل کرلیتے ہیں مگر چھوٹے تاجر اور سرمایہ دار ان روکاوٹیں میں پھنسے رہتے ہیں جس کا انہیں تو نقصان ہے ہی ملکی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ چھوٹے کاروباری افراد اور تاجروں کی تعداد زیادہ ہے۔

’مسائل حل ہونے سے ٹیکس بھی زیادہ جمع ہوگا اور زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔‘

ماہرِ معیشت ڈاکٹر شہباز احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ داروں اور تاجروں کے پہلے ہی ملک میں رجسٹرڈ فورم موجود ہیں جو درپیش مسائل سے متعلق حکومت سے بات کر کے اپنے کاروبار میں مشکلات دور کروا لیتے ہیں۔

جہاں تک نئی تنظیمیں بننے کا سوال ہے تو یہ ایک فطری عمل ہے جتنے بھی لوگ متحد ہو کر اپنے اور ملکی مفادات کا تحفظ کرنے میں کردار ادا کریں کم ہے۔

ڈاکٹر شہباز کے مطابق: ’فورم یا تنظیم کوئی بھی ہو وہ اپنے طور پر ایک حد تک کام کر سکتی ہے جو بھی تنظیم ہو اسے ریاستی قوانین اور متعلقہ اداروں کی شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ حکومتی عہدیداروں سے مل کر کوئی ایسا فارمولہ بنایا جاسکتا ہے کہ آئینی و قانونی شکل دے کر کسی بھی تنظیم کو مشروط کام کی اجازت دے دی جائے۔

ان کے بقول معیشت سے متعلق اداروں کو تاجروں اور سرمایہ داروں کی بات سننی چاہیے اور ان کی تجاویز کو مدِ نظررکھتے ہوئے انہیں لازمی سہولیات فراہم کی جانی چاہییں اگر کچھ لوگ ملکی معیشت کی بہتری میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی لازمی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت