کرنل شیر خان کے مزار سے چوری شدہ سامان کباڑ سے برآمد: پولیس

مزار کے نگران  نعمان نے بتایا کہ کرنل شیر خان کے مزار پر حکومت کی طرف سے کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی ہے اور وہ خود مزار کی نگرانی اور مزار سے متصل مسجد کی رکھوالی بھی کرتے ہیں۔ 

مقامی پولیس کے مطابق مزار سے چوری شدہ سامان برآمد کر لیا گیا ہے (وائس آف کرنل شیر خان کلے فیس بک پیج)

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں واقع کرنل شیر خان کے مزار سے چوری کیا گیا سامان کباڑیے کی دکان سے برآمد کر کے صوابی پولیس نے دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

چوری کا واقعہ 18 اکتوبر کو تھانہ کالو خان کی حدود میں پیش آیا تھا جب مزار کی نگرانی پر تعینات نعمان شیر، جو کرنل شیر خان کے بھتیجے ہیں، رات کو گھر واپس آئے اور جب صبح  پہنچے تو سامان غائب پایا۔ 

 نعمان شیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ خود مزار کی نگرانی کرتے ہیں اور رات کو سونے کے لیے گھر چلے جاتے ہیں، اسی دوران ملزمان نے سامان چوری کیا تھا۔

انہوں نے بتایا ’مزار کے گیٹ پر لگے پیتل سے بنائے گئے نشان حیدر کے تین ریپلیکا، دو عدد پیتل سے بنے مارخور، جھنڈے کے دو عدد پول، ایک یو پی ایس، دو بیٹریاں، ایک سولر پینل، واٹر فلٹر، ایک پنکھا اور مزار کی پارکنگ سے میرا موٹرسائیکل چوری کیا گیا تھا۔‘

کالو خان پولیس سٹیشن کے اہلکار اشفاق احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جنہوں نے چوری کیا ہوا سامان کباڑیے کو بیچ دیا تھا اور سامان کو ریکور کر لیا گیا ہے۔

اشفاق نے بتایا ’ملزمان حلیے سے نشے کے عادی لگتے ہیں اور سامان کو چوری کر کے کباڑی کے پاس پیسوں کے لیے بیچ دیا تھا۔‘

مزار کے نگران  نعمان نے بتایا کہ کرنل شیر خان کے مزار پر حکومت کی طرف سے کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی ہے اور وہ خود مزار کی نگرانی اور مزار سے متصل مسجد کی رکھوالی بھی کرتے ہیں۔ 

نعمان نے بتایا ’پولیس کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور سارا سامان ان سے برآمد کیا گیا ہے لیکن اس میں نشان حیدر کے میڈلز اصلی نہیں تھے بلکہ پیتل سے بنائے گئے تھے جو گیٹ پر چسپاں تھے۔‘

پولیس اہلکار نے بتایا ’اصلی نشان حیدر کا میڈل تو کرنل شیر خان کے اپنے یونٹ میں موجود ہے لیکن یہاں ہم گیٹ پر ریپلیکا لگاتے ہیں اور مزار پر آنے والے لوگ اسے دیکھتے ہیں۔’

کرنل شیر خان کون تھے؟

کیپٹن کرنل شیر خان 1970 میں صوابی کے گاؤں نوے کلے (جو اب کرنل شیر کلے ہے) میں پیدا ہوئے تھے اور 1994 میں سندھ رجمنٹ میں بھرتی ہوئے تھے۔

بچپن سے وہ کرنل شیر خان کہلاتے تھے حالاں کہ وہ پاکستان آرمی میں بطور کیپٹن خدمات سر انجام دے رہے تھے اور اسی رینک میں ہی جان قربان کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گورنمنٹ کالج صوابی سے انٹر کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان ایئر فورس میں بطور ایئرمین بھرتی ہوئے تھے تاہم اسی دوران وہ پاکستان آرمی کے لیے بھی اپلائی کرتے رہے اور دوسری کوشش کے بعد وہ 1992 میں ٹیسٹ پاس کر کے ٹریننگ کے لیے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول چلے گئے۔

کارگل پر 1999 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کے دوران انہوں نے گلٹاری کے مقام پر 17 ہزار فٹ کی بلندی پر پانچ سٹریٹجک پوسٹیں قائم کیں، وہ ان پوسٹوں کے نگران تھے۔

پاکستان آرمی ویب سائٹ کے مطابق پانچ جولائی 1999 میں انڈین فوج کی دو بٹالین نے کرنل شیر خان کے زیر انتظام پانچ پوسٹوں میں سے ایک پوسٹ کے ایک حصے پر قبضہ کیا۔

اس کے بعد ویب سائٹ کے مطابق کرنل شیر خان نے انڈین فوج سے پوسٹ کا قبضہ واپس لے لیا لیکن ان کے تعاقب میں وہ انڈیا کی احاطے میں داخل ہو گئے اور ان کو سینے پر گولی لگی۔ 

کارگل کی لڑائی کے بعد انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان