آرمی چیف کی تعیناتی: سمری میں شامل چھ سینیئر جنرل کون ہیں؟

جنرل ہیڈکوارٹرز نے جن چھ سینیئر ترین جنرلوں کے نام وزارتِ دفاع کو بھجوائے ہیں انہی میں سے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا انتخاب ہو گا۔ یہ جنرل کون ہیں اور ان کا پس منظر کیا ہے؟

وزیرِ اعظم شہباز شریف انہی چھ ناموں میں سے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا انتخاب کریں گے (آئی ایس پی آر) 

کئی دنوں کے الجھاؤ کے بعد بالآخر گذشتہ روز آدھی رات کو فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ ’جی ایچ کیو نے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کی سمری وزارتِ دفاع کو بھجوا دی ہے جس میں چھ سینیئر ترین جنرلوں کے نام شامل ہیں۔‘

اس سے قبل گذشتہ روز اس بات پر کشکمش کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی جب مقامی میڈیا کے ایک حصے نے سمری موصول ہونے کی خبر چلانی شروع کر دی، تاہم حکومت نے ایسی کسی سمری کے موصول ہونے کی تردید کر دی۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی بدھ کی صبح ایک بیان کے ذریعے تصدیق کی کہ وزارت دفاع کی طرف سے بھجوائی گئی سمری وزیراعظم آفس کو موصول ہو گئی ہے اور یہ کہ اس سمری میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف کے عہدوں پر تقرری کے لیے ناموں کا پینل بھجوایا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف انہی چھ ناموں میں سے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا انتخاب کریں گے اور یہ اعلان ایک دو روز میں متوقع ہے۔  آئی ایس پی آر یا حکومت نے ان چھ جنرلز کے نام تو جاری نہیں کیے لیکن فوج کی سینارٹی لسٹ کے مطابق سینیئر ترین جنرل یہ ہیں:

1 لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر

جنرل عاصم منیر نے جنرل باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوج کی کمان سنبھالی جب جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈر ٹین کور (راولپنڈی) تھے۔

جنرل عاصم منیر کو 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر مدت کے لیے رہا اور آٹھ ماہ کے اندر ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر عمل میں آیا۔

اس کے بعد جنرل عاصم منیر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کیا گیا، جہاں وہ دو سال گزارنے کے بعد جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہوئے۔

اگر انہیں آرمی چیف لگایا گیا تو معلومات کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے جو پاکستان ملٹری اکیڈمی لانگ کورس سے نہیں بلکہ او ٹی ایس کمیشنڈ آفیسر ہوں گے۔

جنرل عاصم منیر آفیسر منگلا میں ٹریننگ سکول سے پاس آؤٹ ہوئے اور فوج میں فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔

آرمی میں او ٹی ایس پروگرام 1989 کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اور 1990 میں آفیسر ٹریننگ سکول کو جونئیر کیڈٹ اکیڈمی کا درجہ دیا گیا۔

2 لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا 76 لانگ کورس سے تعلق رکھنے والے چار امیدواروں میں سب سے سینیئر ہیں۔ ان کا تعلق سندھ رجمنٹ سے ہے، جو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کا پیرنٹ یونٹ ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب معلومات کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا فوج میں بہت متاثر کن کیریئر رہا ہے۔ انہوں نے بطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میڈیا کی توجہ حاصل کر رکھی تھی۔ انہوں نے گذشتہ سات برسوں کے دوران اہم لیڈرشپ عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔

وہ جی ایچ کیو میں جنرل راحیل شریف کی کور ٹیم کا حصہ تھے جس نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن کی نگرانی کی اور کواڈریلیٹرل کوآرڈینیشن گروپ میں بھی کام کرتے رہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو 2019 میں چیف جنرل سٹاف تعینات کیا گیا۔ اس عہدے کے باعث وہ خارجہ امور اور قومی سلامتی سے متعلق اہم فیصلہ سازی میں بھی شامل رہے۔

دو سال اس عہدے پر رہنے کے بعد انہیں ستمبر 2021 میں کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کر دیا گیا۔

3 لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس

لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کا تعلق پاکستان آرمی کی بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ اس وقت جنرل اظہر عباس چیف آف جنرل سٹاف (سی جی ایس) ہیں۔ سی جی ایس کے عہدے کی اہمیت ایسے ہے جیسے وہ جی ایچ کیو میں آپریشنز اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹس کی نگرانی کرتے ہوئے عملی طور پر فوج کے امور کو چلا رہے ہیں۔

اس سے قبل وہ 10 کور (راولپنڈی کور) کی کمانڈ کر چکے ہیں چونکہ راولپنڈی کور تعیناتی میں توجہ کشمیر اور گلگت بلتستان پر بھی ہوتی ہے اس لیے سیاسی حوالے سے بھی یہ اہم کور ہے۔

جنرل اظہر کو اکتوبر 2020 میں کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کیا گیا۔ ان کی تعیناتی کے دوران فروری 2021 میں بھارت اور پاکستان کی افواج 2003 کے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کے احترام کا معاہدہ ہوا تھا، اور اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کی ذمہ داری تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس ماضی میں انفنٹری سکول کوئٹہ کے کمانڈنٹ رہ چکے ہیں۔ وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے پرسنل سٹاف آفیسر بھی تھے جبکہ اس کے علاوہ مری میں تعینات 12 انفنٹری ڈویژن کی بھی کمانڈ کر چکے ہیں، جہاں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر ان کی ذمہ داری کے علاقے میں شامل تھا۔

4 لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود

جنرل نعمان محمود اس وقت نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ پشاور کور کی کمان بھی کر چکے ہیں۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے مغربی سرحد پر اہم ذمہ داریاں ادا کی ہیں جس کے باعث انہیں ان علاقوں کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔

جنرل نعمان بطور میجر جنرل آئی ایس آئی کے تجزیاتی ونگ کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ جنرل نعمان محمود کو اپریل 2019 میں میجر جنرل سے لیفٹینیٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔

جنرل نعمان محمود دسمبر 2019 میں کور کمانڈر پشاور کے عہدے پر تعینات ہوئے جبکہ کور کمان کرنے سے قبل آئی جی کمیونیکیشن اینڈ ٹیکنالوجی جی ایچ کیو میں تعینات تھے۔ نعمان محمود جی او سی میران شاہ بھی رہ چکے ہیں۔

وہ پشاور میں 2014 میں کور کمانڈر کے ساتھ چیف آف سٹاف کی ذمہ داری بھی ادا کر چکے ہیں۔

نعمان محمود کا تعلق پاکستان آرمی کے بلوچ رجمنٹ سے ہے جبکہ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 76 ویں لانگ کورس میں پاس آؤٹ ہوئے تھے۔

پاکستان کی تاریخ میں اب تک صرف دو جنرل (مرزا اسلم بیگ اور اشفاق پرویز کیانی) سینیارٹی کے حساب سے آرمی چیف بنے ہیں۔


4 

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اب تک پانچ آرمی چیف تعینات کر چکے ہیں جو ریکارڈ ہے۔

 

5 لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید

چکوال سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پاس آؤٹ ہونے کے بعد بلوچ رجمنٹ کا حصہ بنے۔ 

آئی ایس آئی میں بحیثیت ڈی جی سی جنرل فیض حمید کا نام میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنتا رہا، اور بعد ازاں اگست 2021 میں جنرل فیض حمید کا دورہ کابل بھی میڈیا کی نظر میں رہا، جہاں سے ان کی انٹر کانٹیننٹل ہوٹل میں چائے پیتے ہوئے تصویر وائرل ہوئی۔

ان کا نام میڈیا بلکہ سوشل میڈیا پر کافی عرصے سے موضوع بحث رہا ہے۔ تحریک انصاف پر الزام ہے کہ وہ جنرل فیض کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے لیکن عمران خان کہہ چکے ہیں کہ وہ میرٹ پر تعیناتی چاہتے ہیں۔ 

اپریل 2019 میں ان کی ترقی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ہوئی، جبکہ اسی سال جون میں آپ آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور مقرر کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے، جبکہ اس سے قبل راولپنڈی میں ٹین کور کے چیف آف سٹاف، پنوں عاقل میں جنرل آفیسر کمانڈنگ اور آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس (سی آئی) سیکشن کے طور بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔  

اکتوبر 2021 میں ان کی بطور کور کمانڈر پشاور تعیناتی ہوئی، جس کا چارج انہوں نے نومبر میں سنبھالا، جبکہ دس ماہ کے مختصر عرصے میں ہی انہیں پشاور سے بہاولپور بحیثیت کور کمانڈر ٹرانسفر کر دیا گیا۔

جنرل فیض حمید کا نام 2017 میں منظرعام پر اس وقے آیا، جب تحریک لبیک پاکستان نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا اور اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر کئی دنوں تک دھرنا دیا۔

جنرل فیض حمید اس دھرنے کو ختم کرانے میں اہم کردار ہونے کے باعث خبروں میں رہے۔ ان کا نام چند دیگر سیاسی تنازعات میں بھی حزب اختلاف کے رہنما زور و شور سے لیتے رہے۔

پانچ سے 26 نومبر 2017 تک جاری رہنے والا تحریک لبیک کا دھرنا انتخابی فارموں میں ایک ترمیم کی بنا پر کیا گیا تھا، تاہم اس وقت کی وفاقی حکومت نے مذکورہ ترمیم کو واپس لے لیا تھا۔ 

دھرنے میں مظاہرین اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ 20 روزہ دھرنا حکومت کی جانب سے مظاہرین کے مطالبات ماننے اور وزیر قانون کے استعفے کے بعد ختم ہوا۔

تحریک لبیک کے سربراہ مرحوم خادم حسین رضوی نے میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ شہباز شریف اور احسن اقبال سمیت کسی حکومتی شخصیت سے نہ مذاکرات ہوئے اور نہ معاہدہ، بلکہ مذاکرات جنرل فیض سے ہوئے اور وہی ضامن بھی ہیں۔

6 لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر 

لیفٹینیٹ جنرل محمد عامر کا تعلق پاکستان آرمی کی آرٹلری رجمنٹ سے ہے اور وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 76 لانگ کورس سے گریجویٹ ہوئے۔

سنیارٹی فہرست میں چھٹے نمبر پر موجود لیفٹینیٹ جنرل محمد عامر کا تعلق پاکستان کے شہر راولپنڈی سے ہے۔

اس وقت جنرل عامر کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات ہیں جبکہ اس سے قبل وہ جنرل ہیڈ کوارٹر میں ایڈجوٹینٹ جنرل کے عہدے پر تعینات تھے۔

ستمبر 2019 میں انہیں لیفٹینیٹ جنرل کے عہدے پہ ترقی ملی۔ اس سے قبل بطور میجر جنرل انہوں نے 10 انفنٹری ڈویژن لاہور کی کمان کی۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ انہوں نے بطور ڈی جی سٹاف ڈیوٹیز ذمہ داری ادا کی۔

جنرل عامر جب بریگیڈیر تھے  تو 2011 سے 2013 کے دوران اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ بطور ملٹری سیکرٹری بھی تعینات رہے ہیں۔

لیفٹینیٹ جنرل عامر کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ وہ بہت ہنس مکھ شخصیت کے مالک ہیں۔ سخت اور مشکل حالات میں بھی خوشگوار تاثر رکھتے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں اور جونئیرز کا بہت خیال رکھتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان