سینیارٹی کی بنیاد پر نئے آرمی چیف کی تقرری پر رائے منقسم

چند ماہرین کے خیال میں اس سال اس اہم ترین تعیناتی سے متعلق بیان بازی ماضی سے کچھ زیادہ ہی ہو رہی ہے۔

اے ایف پی

پاکستان میں آج کل ملک کے طاقتور ترین عہدوں میں سے ایک یعنی چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کے بارے میں بیانات اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو نے چند تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں سے گفتگو کی ہے لیکن ان کی رائے اس اہم عہدے پر سینیارٹی کی بنیاد پر تعیناتی پر منقسم رہی ہے جس سے اسے سیاست کے اکھاڑے میں سے ہمیشہ کے لیے نکالنے میں شاید مدد ملے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب کچھ ہی عرصہ بعد نئے آرمی چیف کی تقرری یا مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق فیصلہ ہونا ہے۔

پاکستان میں فوجی سربراہ کا عہدہ طاقتور ترین عہدوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تقریبا ہر تین سال بعد نئی تعیناتی کے موقع پر بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ تاہم بعض ماہرین کے خیال میں اس سال اس اہم ترین تعیناتی سے متعلق بیان بازی ماضی سے کچھ زیادہ ہی ہو رہی ہے۔

پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ وہ سیاست سے دور رہنا چاہتی ہے اور اسے بے وجہ تنازعات میں نہ گھسیٹا جائے لیکن حکومت وقت اور حزب اختلاف اکثر کسی ایک فیصلے پر متفق نظر نہیں آتے اور سمجھا جاتا ہے کہ حکومت وقت نئے آرمی چیف کی تقرری یا توسیع کے فیصلے پر کافی دباؤ میں ہوتی ہے۔ ماضی کی بعض حکومتیں اقتدار سے جانے کے بعد اس بات کا اعتراف بھی کرچکی ہیں کہ ان پر اس حوالے سے کتنا دباؤ تھا۔

اس مسئلہ کا حل آخر کیا ہے؟

کیا نئے آرمی چیف کی تقرری پر سیاست کو ختم کرنے کے لیے قانون (آرمی ایکٹ) میں تبدیلی کر کے سینیارٹی کی بنیاد پر تقرری کی جائے تو اس کے گرد سیاست ختم ہو سکتی ہے؟ کیا اس سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کم ہو جائیں گے؟

’آرمی چیف کے انتخاب میں سیاسی زاویہ ہمیشہ حاوی رہتا ہے‘

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی میں سینیارٹی ایک عنصر ہو سکتا ہے۔ ’اس میں کسی افسر کی قابلیت اور گرومنگ کے عوامل بھی شامل ہیں۔ بعض اوقات اعلی سطح کے افسرکے پاس کوئی خاص قابلیت نہیں ہوتی اس لیے تین چار افراد کا موازنہ کیا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو دیکھا جائے تو یہاں سیاست دانوں کے ذاتی مفادات ہیں، یہاں آرمی چیف کے انتخاب میں سیاسی زاویہ ہمیشہ حاوی رہتا ہے اس لیے ایک معیار بنایا جانا چاہیے۔

ان کی تجویز تھی کہ قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے تمام افواج کے چیف آف سٹاف کا انتخاب کیا جائے اور اس کی صدارت وزیراعظم کو کرنی چاہیے جہاں کمیٹی اراکین اس معاملہ پر رائے دیں۔ چوں کہ یہ اراکین پروفیشنل ہوں گے تو اس حوالے سے سیاسی حلقہ کو فیصلہ سازی میں بھی آسانی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے تجربہ کے مطابق عموماً رہنما دائیں بائیں سے اس فرد کی ’سوچ کیا ہے‘ اور ’ہمارے مطابق ہوگا یا نہیں‘ سے متعلق پتہ کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ اچھے افسران رہ جاتے ہیں۔

سینیئر ترین ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اتنا ہی تجربہ کار بھی ہو۔ سینیارٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے تقرری پر سیاست تو ختم کر سکتی ہے لیکن اس سے پیشہ ورانہ پہلو نظرانداز ہو جائے گا۔

’نظام کو درست کریں، فوج کو متنازع نہ بنائیں‘

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ 15 سال سے ملک میں سویلین قیادت ہے، اس نے سیاسی نظام کو مضبوط کیوں نہیں کیا؟ جب کوئی قانون سازی نہ ہو اور جب سب فوج یا اسٹیبلشمنٹ کی طرف مدد کی خاطر دیکھیں، یہ ہمیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان بھاری اکثریت اور نوجوانوں میں مقبولیت کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے عوام کو ریلیف دینے اور گورننس بہتر کرنی ہوگی۔ ’عمران خان کی مقبولیت کا گراف نیچے تھا، اگر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تحریک عدم اعتماد نہ لاتی اور یہ مزید چھ ماہ اقتدار میں رہتے تو آئندہ الیکشن میں ان کی جماعت کا ٹکٹ کوئی نہ لیتا۔ لیکن موجودہ حکومت کے آنے کے بعد ڈیلیور کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے نیب اور الیکٹرونک ووٹنگ مشین جیسے قوانین میں ترامیم کیں اور اس کے علاوہ کیا کام کیا؟ اس نظام کو درست کریں، فوج کو متنازع نہ بنائیں۔‘

’جیسے چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج بنتے ہیں ایسے ہی سینیارٹی کی بنیاد پر تقرری کرنے کے لیے آئین میں ترامیم کرنا ہوگی۔‘

’عمران خان نے تعیناتی کے معاملے پر سیاست کی‘

پاکستانی فوج میں اہم عہدے پر رہنے والے ایک ریٹائرڈ افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آرمی چیف کی سینیارٹی کی بنیاد پر تقرری سے اس معاملے پر سیاست ختم نہیں ہوگی اور نہ ہی تمام لیفٹیننٹ جنرلز اس اہم عہدے کے لیے مناسب ہوتے ہیں۔ اس لیے سینیارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف کی تقرری ادارے کے لیے بہتر نہیں ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اسے اسی طرح جاری رہنے دیا جانا چاہیے تھا جیسا کیا جا رہا تھا۔ عمران خان نے تعیناتی کے معاملے پر سیاست کی اور اسے متنازع بنایا، یہ نہ فوج کے لیے اور نہ ہی ملک کے لیے اچھا ہے۔‘

’سب جانتے ہیں کیوں صرف عمران خان ہی توسیع کی بات کر رہے ہیں۔‘

وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق بیان پر کہا ہے کہ سابق وزیراعظم غیر معمولی حالات میں آرمی چیف کی تعیناتی روکنے کی بات کر رہے ہیں۔ آئینی اور قانونی طریقے کے مطابق اس وقت جو بھی جی ایچ کیو تجویز کرے گا اس کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

’آرمی چیف تعیناتی معاملے پر تاحال کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔ سب جانتے ہیں کیوں صرف عمران خان ہی توسیع کی بات کر رہے ہیں۔

مشاورت اکتوبر کے آخر اور نومبر کے شروع میں ہوگی۔ اس سے متعلق وزیراعظم فیصلہ کریں گے اور سب سے اہم مشاورت ادارے کے ساتھ ہوگی جس کی سفارشات وزارت دفاع وزیراعظم کو بھیجیں گے۔ عمران خان نے تو انہیں ’نیوٹرلز‘ ڈکلیئر کیا ہوا ہے۔‘

اس معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو نے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما فواد چوہدری سے موقف لینے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن تاحال ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اتنے اہم عہدے پر تعیناتی متنازع حکومت نہیں کرسکتی۔ ’پی ٹی آئی اس تعیناتی سے قبل انتخابات چاہتی ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خورشید شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف کی تقرری سینیارٹی کی بنیاد پر کرنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’اس وقت سپریم کورٹ میں سینیارٹی کی بنیاد پر تقرریوں کی مثال سب کے سامنے ہے۔ پہلے چن کر جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منیر کو لائے تھے تو انہوں نے کیا کیا؟ اس لیے سینیارٹی اور میرٹ پر جانے سے مسائل الجھنے کے بجائےسلجھیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست