گھڑیاں پیچھے کرنے کے صحت پر اثرات

صحت سے متعلق کچھ خدشات بھی گھڑیوں کے وقت تبدیلی سے وابستہ ہیں، کیونکہ کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے جسم کے قدرتی نیند کے سائیکل میں خلل پڑتا ہے۔

جس دن گھڑیاں پیچھے ہوتی ہیں اسے بعض اوقات ’اچھا‘ سمجھا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کو آرام کرنے کے لیے ایک اضافی گھنٹہ مل جاتا ہے (پکسابے)

برطانیہ میں ہر سال، اکتوبر کے آخری اتوار کی رات دو بجے، گھڑیاں پچھے ہو جاتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ موسم سرما قریب آ رہا ہے اور دن چھوٹے ہو رہے ہیں۔

اگرچہ جس دن گھڑیاں پیچھے ہوتی ہیں اسے بعض اوقات ’اچھا‘ سمجھا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کو آرام کرنے کے لیے ایک اضافی گھنٹہ مل جاتا ہے، لیکن سال میں دو بار گھڑیوں کا وقت تبدیل کرنے کا نظام متنازعہ ہوسکتا ہے۔

سال 2019 میں، اس وقت یورپی پارلیمنٹ نے گھڑیوں کے وقت کی تبدیلی سے جان چھڑانے کے لیے ووٹ دیا تھا جب ایک مطالعے سے پتہ چلا کہ جن ممالک نے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم میں حصہ لیا وہاں کے 84 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ اسے ختم ہونا چاہیے۔

ایک عالمی رائے عامہ اور ڈیٹا کمپنی یوگوو کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ برطانیہ کی اکثریت اسے برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔ 44 فیصد نے موجودہ نظام کو برقرار رکھنے جبکہ 39 فیصد نے اسے ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

صحت سے متعلق کچھ خدشات بھی گھڑیوں کے وقت تبدیلی سے وابستہ ہیں، کیونکہ کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے جسم کے قدرتی نیند کے سائیکل میں خلل پڑتا ہے، جس سے جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔

گھڑی کا وقت تبدیل کرنے کا جسمانی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟

ایک غیر منافع بخش امریکی تعلیمی طبی مرکز میو کلینک کے مطابق، انسانی دماغ میں ایک حیاتیاتی گھڑی ہے، جسے سرکیڈین ردم بھی کہا جاتا ہے، جو 24 گھنٹے کے سائیکل پر چلتی ہے۔

چاہے یہ نیند ایک گھنٹہ اضافی ہو یا ایک گھنٹہ کم، اس سے نیند کے سائیکل میں خلل پڑتا ہے اور کچھ لوگوں کے لیے معمول کے شیڈول میں ایڈجسٹ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ ڈسٹربڈ نیند سے بھی ممکنہ طور پر دل کی بیماری کا خطرہ  بڑھ سکتا ہے۔

ہارورڈ میڈیکل سکول اور میساچوسٹس جنرل ہسپتال کے محققین کی طرف سے 2019 کے ایک مطالعے میں چوہوں میں دل کی بیماری پر نیند کی کمی کے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

اس سے پتہ چلا کہ 16 ہفتوں بعد، جن چوہوں کے نیند کے سائیکل میں خلل پڑا تھا، نارمل نیند لینے والے چوہوں کی نسبت ان کے آرٹیریل پلکس زیاد بڑے تھے۔

نیند کی کمی والے چوہوں میں سفید خون کے کچھ خلیات کی سطح دوگنی اور ہائپوکریٹن کی مقدار کم تھی، یہ ایک ایسا ہارمون ہے جو سونے اور جاگنے کی حالتوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ میں نیشنل ہارٹ، لنچ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ کے نیشنل سینٹر آن سلیپ ڈس آرڈرز ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل ٹویری کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ خون اور دل کے خطرات کے عوامل کو نیند سے جوڑنے والے مالیکیولر کنکشن کا یہ اب تک کا سب سے براہ راست مظاہرہ ہے۔‘

موسم بہار میں وقت کی تبدیلی کے دوران نیند میں ایک گھنٹے کی کمی کا تعلق دل کے دورے اور سٹروک  کے امکان میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔

جب اتوار کی رات گھڑی کا وقت ایک گھنٹہ آگے کیا جاتا ہے تو ہر سال امریکی ہسپتال پیر کو دل کے دورے کے کیسز میں 24 فیصد اضافہ رپوٹ کرتے ہیں۔

تحقیق سے گاڑیوں کے حادثات میں بھی اضافے کا پتہ چلتا ہے۔

زیورخ انشورنس کے اعداد و شمار کے مطابق، نومبرمیں شام چار سے سات بجے کے درمیان ڈرائیوروں کے ساتھ حادثے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ شام پہلے گہری ہوچکی ہوتی ہے۔

کمپنی کو پتہ چلا کہ گھڑیوں میں وقت کی تبدیلی کے بعد، باقی دن کے مقابلے میں اس وقت کے دوران حادثات میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہوا۔

گھڑی کا وقت تبدیل کرنے سے دماغی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟

موسم خزاں میں جب گھڑیوں کا وقت پیچھے کیا جاتا ہے تو، صبح کے وقت ہمیں دن کی روشنی کا ایک اضافی گھنٹہ ملتا ہے۔

تاہم، ایسا صرف دن مختصر ہونے سے قبل صرف چند ہفتوں تک رہتا ہے اور طلوع آفتاب مزید دیر سے ہونے لگتا۔

سال کے سب سے مختصر دن، 21 دسمبر کو، برطانیہ آٹھ گھنٹے سے بھی کم سورج کی روشنی لے پاتا ہے۔

اندھیرے والے زیادہ گھنٹوں کے نتیجے میں کچھ لوگوں میں ڈپریشن کے ساتھ ساتھ سورج کی روشنی کی کمی سے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے تھکاوٹ، پٹھوں میں درد اور ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں۔

دن مختصر ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں کو سیزنل ایفکٹیو ڈس آرڈر (ایس اے ڈی) بھی ہوتا ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق، ایس اے ڈی علامات میں مسلسل  سستی، عام روزمرہ کی سرگرمیوں میں خوشی یا دلچسپی کی کمی، چڑ چڑاپن، مایوسی یا جرم کے احساسات اور معمول سے زیادہ دیر تک سونا شامل ہے۔

ہیلتھ سروس کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی کی کمی دماغ کے ایک ہائپوتھیلیمس نامی حصے کے کام میں رکاوٹ بن سکتی ہے، جس سے میلاٹونن (نیند کا ہارمون) اور سیروٹونن (موڈ ہارمون) کی پیداوار کے ساتھ ساتھ جسم کا سرکیڈین ردم بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

گھڑی کا وقت پیچھے کرنے کے ساتھ کیسے ایڈجسٹ کریں؟

گھڑی کا وقت پہلے ہی پیچھے ہوچکا ہوتا ہے، لیکن اگر آپ وقت میں تبدیلی کے بارے میں حساس ہیں تو اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کچھ عملی کام کر سکتے ہیں۔

دی سلیپ سائٹ کے بانی ڈیو گبسن نے ایک بلاگ پوسٹ میں اچھی نیند کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

نیند کی صحت سے مراد روزمرہ کے معمولات اور بیڈروم کا ماحول ہے جو مستقل، بلا تعطل نیند میں مددگار ہوتا ہے۔

گبسن لکھتے ہیں کہ ’صبح ورزش کرنے سے شام کو آسانی سے سونے میں مدد مل سکتی ہے اور شام کے وقت ایسی چیزیں کرنا بھی فائدہ مند ہوتا ہے جن سے آرام ملے۔‘

’تاہم لیوینڈر کے ساتھ غسل کرنے سے جسم ریلکس کیا جا سکتا ہے، یا کچھ سٹریچنگ یا یوگا کریں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اپنے دماغ کو سست ہونے میں مدد کرنے کے لیے، ٹی وی دیکھنے کے بجائے لائٹس کو مدھم کرنے اور ایک کتاب پڑھنے جیسے طریقے آزمودہ ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت