موسم سرما میں زیادہ سونا کیوں مفید ہے؟

اگر آپ کو زیادہ تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے اور سردیوں میں زیادہ آرام اور نیند کی طلب ہوتی ہے تو اس کی مزاحمت نہ کریں۔

موسمی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرتے ہوئے معمول سے زیادہ سونے کے بہت سے فوائد ہو سکتے ہیں (تصویر: انواتو)

سردیوں کی آمد آمد ہے اور اب دن یقینی طور پر چھوٹے، کم روشن اور سرد محسوس ہو رہے ہیں، اس لیے آپ کی فطری جبلت آپ کو ہائبرنیٹ (موسم سرما میں آرام پرستی) کے لیے اُکسا رہی ہیں۔

یہ وہ وقت ہے جب ہم اپنی پسندیدہ جنگلی حیات کی طرح تھوڑا زیادہ سونے، سماجی سرگرمیوں اور باہر نکلنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ یعنی ہم سردیوں میں بنیادی طور پر زیادہ سست ہو جاتے ہیں۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ شاید ہمیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

لندن سلیپ سینٹر کی کنسلٹنٹ کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر زو گوٹس کہتی ہیں کہ ’کم روشن صبح اور عام طور پر چھوٹے دنوں کا مطلب ہے کہ ہم سردیوں کے مہینوں میں کم روشنی کا سامنا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے جسموں کو بیداری کا اشارہ نہیں مل پاتا خاص طور پر صبح کے وقت جو قدرتی روشنی حاصل کرنے کے لیے ہماری باڈی کلاک کے لیے اہم ہے۔‘

تاہم اس موسمی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرتے ہوئے معمول سے زیادہ سونے کے بہت سے فوائد ہو سکتے ہیں جو مندرج ذیل ہیں:

ونٹر بگز اور نزلہ زکام سے بچنے میں مدد

جیسا کہ گوٹس کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم اچھی نیند نہ لیں تو ایک غیر صحت مند مدافعتی نظام کا سامنا کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ نیند صحت یابی، جسمانی مرمت، شفا یابی، بیماریوں سے لڑنے اور بیماریوں کو دور رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لہذا موسم سرما میں اچھی نیند کو ترجیح دینا بہت معنی رکھتا ہے۔‘

ماہر نفسیات، نیورو سائنٹسٹ اور نیند کی ماہر ڈاکٹر لنڈسے براؤننگ کہتی ہیں کہ ’موسم سرما میں ہمیں سردی اور فلو لگنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے کیونکہ لوگ کم تازہ ہوا لیے بغیر گھر کے اندر زیادہ وقت گزارتے ہیں جس سے وائرس لوگوں کے درمیان آسانی سے اور زیادہ تیزی سے منتقل ہوتے ہیں۔ نیند کے دوران ہم اپنا مدافعتی نظام بہتر بناتے ہیں۔ بہت سارے مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب ہم مکمل نیند نہیں لیتے ہیں تو ہمارا مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے۔‘

پوری نیند اور مکمل آرام

اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ سال کے اس وقت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو یہ چیزوں کے نیچرل سرکل کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

آرام کرنے کی خواہش پر مزاحمت کی بجائے کیا ہم اس میں شامل ہو سکتے ہیں؟

گوٹس کہتی ہیں: ’سردیوں کے مہینوں میں آرام پرستی اور زیادہ سونے کی خواہش عام طور پر ہمارے دن کی روشنی کے اوقات میں کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کم روشنی لوگوں کے باڈی کلاک کو متاثر کرتی ہے اور وہ زیادہ سونا چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’اپنے باڈی کلاک سے مطابقت پیدا کرنے سے آپ کی نیند بہتر اور کم بکھری ہوئی ہوگی۔ یہ خاص طور پر ضروری ہے کہ جاگنے کے وقت کو باقاعدہ بنانا اور اسے برقرار رکھا جائے۔‘

ان کے بقول: ’نیند کے شیڈول میں باقاعدگی کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور یہ بہتر نیند کا باعث بن سکتا ہے۔ نتیجتاً بہتر نیند صحت مند وزن کو برقرار رکھنے، صحت کے مسائل کے خطرے کو کم کرنے، تناؤ کو کم کرنے اور موڈ کو بہتر بنانے میں معاونت کرتی ہے۔‘

موسم سرما میں دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا

سال کے اس وقت دن کی روشنی کا دورانیہ کم ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں چاہیے کہ ہم اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔

صحت مند نیند کے ساتھ ساتھ دن کی روشی ہمیں سست دنوں میں توانائی محسوس کرنے اور موڈ کو بہتر بنانے میں مدد دے گی۔

جیسا کہ براؤننگ بتاتی ہیں کہ ’ہماری باڈی کلاک ہمارے اندر چستی اور سونے کے لیے میلاٹونن پیدا کرتی ہے۔ اسے دن کے وقت روشنی اور رات اور دن کے درمیان فرق جاننے کے لیے شام کو اندھیرے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ ہم دن میں سستی اور تھکاوٹ محسوس کرنے لگیں گے اور رات کو سونے کے لیے مشکل کا سامنا کریں گے۔‘

ان کے بقول: ’اگرچہ موسم بدل رہا ہے اور باہر ٹھنڈ، نمی اور اندھیرا ہونا شروع ہو گیا ہے پھر بھی یہ بہت ضروری ہے کہ باہر نکلیں اور ہر روز قدرتی روشنی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔‘

ہمارے جسموں کی ضروریات کو سننا، چاہے سال کا کوئی بھی وقت کیوں نہ ہو، ایک اچھا خیال ہے، اور اگر آپ کو زیادہ تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے اور سردیوں میں زیادہ آرام اور نیند کی طلب ہوتی ہے تو اس کی مزاحمت نہ کریں۔

ہمارے اندرونی ہائبرنیشن موڈ میں چینلنگ ضرورت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق