کالا باغ کی اندھیر نگری جہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی

تقریباً آٹھ ہزار نفوس پر مشتمل اگر اس جگہ کو حقیقی طور پر اندھیر نگری کہا جاۓ تو غلط نہ ہوگا کیوں کہ آج تک یہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ پائی ہے۔

کالا باغ شہر کی ابتدائی آباد کاری اور تاریخی اہمیت کے حامل تنگ بازار کو ’اندھیری گلیاں‘ بھی کہا جاتا ہے جس میں درجنوں گلیاں دو سے تین فٹ تک ہی چوڑی ہیں۔

یہاں کے بالائی اور زیریں زیادہ تر مکانات لکڑی اور گارے سے ہندوؤں کے بنائے ہوئے ہیں جن کا قدیمی تعمیری ڈھانچہ ابھی تک موجود ہے جبکہ کچھ ہندو دور کے بوسیدہ جالے لگے دروازے تو ابھی تک مقفل ہیں۔

یہاں کی گلیوں کے اوپر چھت بھی ڈالی گئی ہے۔ بعض چھتیں تو اتنی نیچے ہیں کہ چلنے والوں کو سر جھکا کر گزرنا پڑتا ہے۔

تقریباً آٹھ ہزار نفوس پر مشتمل اگر اس جگہ کو حقیقی طور پر اندھیر نگری کہا جاۓ تو غلط نہ ہوگا کیوں کہ آج تک یہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ پائی ہے۔

شاید یہاں سے تازہ ہوا کا گزر بھی بڑی مشکل سے ہوتا ہو لیکن اس کے باوجود بھی ان کے اندر زندگی رواں دواں ہے یہاں پر مساجد، مزار، مدرسے اور دکانیں قائم ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہاں کے باسیوں کو دن کی روشنی میں بھی لائٹ جلانی پڑتی ہے جبکہ تاریخی حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ دریا کی وجہ سے رہائشی علاقہ ہونے کے ساتھ یہ تجارتی مرکز بھی تھا۔

یہاں غلے اور سونے کا کاروبار کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے چور اور لٹیرے گھوڑوں پر آکر یہاں لوٹ مار کرتے جن سے لوگ بہت خوف زدہ اور تنگ تھے۔

یہی وجہ تھی کہ ان گلیوں کو آج سے تقریباً دو صدی قبل بیرونی گھڑ سوار لٹیروں سے بچانے کے لیے، یہاں کے ہندو راجہ سلاگر نے یہاں بسنے والوں کی حفاظت کی غرض سے ان پر چھت بھی ڈلوا دی تھی۔

چھتیں اتنی نیچی اور گلیاں اتنی تنگ رکھیں کہ ان میں کوئی گھڑسوار داخل نہ ہو سکے جبکہ داخلی اور خارجی گیٹ بھی نصب کیے گئے اور اس دور میں تاریکی کو دور کرنے کے لیے گلیوں میں دیواری چراغ دانوں میں دیپ جلائے جاتے تھے جو اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

قیام پاکستان سے قبل یہاں کی گلیوں میں کاروبار عروج پر تھا، ہندو مسلمان اکٹھے زندگی بسر کرتے تھے اور اس وقت سے اس کا نام ’تنگ بازار‘ پڑا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ