ممکنہ استعفوں کے خلاف اتحادی حکومت کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

آئین پاکستان کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کی صورت میں 90 اور اراکین کے استعفوں کی صورت میں 60 روز میں ضمنی انتخابات کروانا ضروری ہیں۔

  1. 28 ستمبر 2022 کی اس تصویر میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے(تصویر: حکومت پاکستان/ٹوئٹر)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے لانگ مارچ کا اختتام صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے اعلان پر کیا، تاہم اس پر عمل درآمد کا وقت پارلیمانی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت سے مشروط کیا گیا ہے۔

جہاں حکومتی حلقوں میں اس فیصلے کو ’من پسند آرمی چیف تعینات نہ ہونے کے بعد فیس سیونگ کا اقدام‘ قرار دیا جا رہا ہے، وہیں مبصرین اسے سابق وزیراعظم کا ’ماسٹر سٹروک‘ بھی گردان رہے ہیں۔

عمران خان کے اسمبلیوں سے استعفے دینے یا اسمبلیاں تحلیل کرنے کو کس حد تک ممکن اور حتمی فیصلہ سمجھا جا رہا ہے اور حکومت کے پاس کاؤنٹر سٹریٹجی کیا ہو سکتی ہے اس حوالے سے مبصرین کی بھی اہم اور مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

یہاں یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا صوبائی اسمبلیوں سے بڑی تعداد میں استعفوں کے بعد فوری ضمنی انتخابات ممکن ہیں؟ وفاقی حکومت کے پاس ان استعفوں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے کون سے آپشن ہو سکتے ہیں؟ گورنر راج کا نفاذ کس حد تک ممکن ہے؟ کیا وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ جائے تو اسمبلیاں تحلیل ہو سکتی ہیں؟ یا پھر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جائے تو کیا صورت حال پیدا ہو سکتی ہے؟

ان سوالوں کے جوابات جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے پارلیمانی، آئینی و قانونی ماہرین سے بات کی۔

پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ’صوبائی اسمبلیوں سے اتنی بڑی تعداد میں استعفوں کی صورت میں فوری ضمنی انتخابات ممکن ہیں، لیکن یہ ایک مہنگی مشق ہو گی کیونکہ ایک نشست پر دس کروڑ روپے تک اخراجات ہوتے ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اتنے بڑے پیمانے پر متحرک کرنا اور وہ بھی صرف اگلے دس ماہ کے لیے، یہ مشق سیاسی طور پر مشکل ہو گی۔‘

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’اس پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ سب کچھ مناسب ہو گا؟‘

احمد بلال کی نظر میں حکومت کے پاس ایسی صورت حال کو کاؤنٹر کرنے کے لیے کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد نئے سپیکر نے استعفے روک لیے تھے اور صرف چند ایک کو قبول کیا۔‘

صوبائی اسمبلیوں میں ایسا بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہاں سپیکرز پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں، تو وہ استعفے فوراً قبول کر کے الیکشن کمیشن کو بھیج دیں گے اور60 روز کے اندر انتخابات کروانا ہوں گے۔‘

احمد بلال محبوب کے خیال میں: ’کسی بھی صوبے میں گورنر راج کا نفاذ ممکن ہو سکتا ہے، جس میں چھ ماہ تک توسیع بھی ہو سکتی ہے، تاہم ایسا کرنے کی غرض سے صوبائی اسمبلی سے قرار داد منظور کروانا ہو گی۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’پی ٹی آئی ایم پی ایز کے استعفوں کے بعد باقی جماعتوں کے رہ جانے والے اراکین گورنر راج سے متعلق قرارداد آسانی سے منظور کر سکیں گے۔‘

احمد بلال محبوب کے مطابق: ’گورنر راج کے نفاذ کی دوسری صورت پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اس کے حق میں قرارداد کی منظوری ہے اور سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مجموعی طور پر اکثریت ہونے کے باعث یہ آپشن بھی اتحادی حکومت کے پاس موجود ہے۔‘

ان کے مطابق: ’صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے استعفوں کے بعد باقی بچ جانے والے اراکین اسمبلی سے قابل عمل صوبائی حکومت چلائی جا سکتی ہے، کیونکہ حکومتی اتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی و پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم) کے درمیان زیادہ نشستوں کا فرق نہیں ہے۔‘

تاہم ان کے خیال میں: ’صوبہ خیبر پختونخوا میں شاید وفاق کو گورنر راج کا نفاذ کرنا پڑے گا اور اس سے متعلق حکومت عملی اقدامات کرنے کی پوزیشن میں بھی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’کسی وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کی صورت میں وہ عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ ہونے یا اس کے واپس لیے جانے تک اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش نہیں کر سکتے۔

’ایک تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں اسی طرح کی دوسری تحریک بھی پیش کی جا سکتی ہے اور یوں اسمبلیوں کی تحلیل کو لٹکایا جا سکتا ہے۔‘

آئینی امور کے ماہر ظفر اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’بڑی تعداد میں استعفوں کے بعد ضمنی انتخابات ممکن ہیں، تاہم اسمبلی کی مدت بہت کم رہ جانے کی صورت میں الیکشن نہیں ہو سکتے۔‘

ان کے خیال میں: ’کسی صوبے کے وزیراعلیٰ اسمبلی توڑ سکتے ہیں، جو ان کا آئینی حق ہے اور گورنر کی مخالفت کے باوجود وزیراعلیٰ کے فیصلے کے بعد 48 گھنٹوں میں اسمبلی خود بخود تحلیل ہو جائے گی۔‘

حکومت کے پاس ڈائیلاگ واحد آپشن

وفاقی حکومت کے پاس صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کو روکنے کے لیے ڈائیلاگ واحد آپشن نظر آرہا ہے، جس کے لیے مخالف فریق کی رضامندی ضروری ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں بات چیت بھی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ 

ظفر اللہ خان کے مطابق: ’18 ویں ترمیم کے بعد کسی صوبے میں گورنر راج لگ ہی نہیں سکتا اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو چند روز بعد ہی اسمبلی خود بخود بحال ہو جاتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کی مثال دیتے ہوئے کہا: ’اسمبلیاں آئین میں دیے گئے وقت کے بعد خود بخود بحال ہو گئی تھیں۔

’پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں تو وفاق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، وفاق صرف ان دو اسمبلیوں اور دو صوبوں کا نام نہیں، بلکہ چاروں صوبوں کا نام ہے، 50 فیصد صوبے تو موجود رہیں گے۔‘

ظفراللہ خان نے یاد دلایا کہ ’1973 میں بلوچستان کی حکومت کو گرا دیے جانے کے بعد وہاں انتخابات کروائے گئے تھے، لیکن وفاقی حکومت پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔‘

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کی صورت میں ضمنی انتخابات 90 اور اراکین صوبائی اسمبلیوں کے استعفوں کی صورت میں 60 روز میں کروانا ضروری ہیں۔‘

ان کے خیال میں: ’وفاقی حکومت کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کا راستہ روکنے کے لیے ایک آپشن موجود ہے کہ وہ گورنر پنجاب کے ذریعے وزیراعلیٰ کواعتماد کا ووٹ لینے کا کہے۔ اس دوران اگر کچھ اراکین اسمبلی ادھر ادھر ہو جاتے ہیں تو پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ ’آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کسی صوبے میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہونے کی صورت میں ہی لگایا جا سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست