کابل حملہ، داعش کے دعوے کی تصدیق کی جا رہی ہے: پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ داعش کی جانب سے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کی تصدیق کر رہا ہے۔

10 مئی 2016 کی اس تصویر میں کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانے کے باہر تعینات افغان سکیورٹی اہلکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

پاکستان نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ داعش خراساں کی جانب سے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کی تصدیق کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق داعش نے جمعے کو کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سفارت خانے پر فائرنگ میں ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے آج ایک بیان میں کہا ’ہم نے ایسی رپورٹس دیکھی ہیں کہ داعش خراساں نے دو دسمبر، 2022 کو پاکستانی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔‘

بیان کے مطابق: پاکستان آزادانہ طور پر اور افغان حکام کے ساتھ مل کر ان رپورٹس کی سچائی کی تصدیق کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ اس خطرے کی ایک اور یاد دہانی ہے جو دہشت گردی سے افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کو لاحق ہے۔

’اس لعنت کو شکست دینے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر اجتماعی طاقت کے ساتھ عزم سے کام لینا چاہیے۔‘

پاکستان نے اس حملے کو اپنے ناظم الامور عبید الرحمان نظامانی کو قتل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا، جو اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔

اتوار کو داعش سے منسلک ٹیلی گرام چینل پر جاری ایک بیان میں تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

بیان کے مطابق داعش کے دو عسکریت پسند اس حملے میں ملوث تھے جن کے پاس ’درمیانے درجے اور سنائپر‘ جیسے ہتھیار تھے۔

حملے میں سفارت خانے کے صحن میں موجود پاکستانی ناظم الامور اور ان کے گارڈز کو نشانہ بنایا گیا۔

کابل کی پولیس نے بتایا تھا کہ حملے کے بعد ایک مشکوک شخص کو اسلحے سمیت حراست میں لیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل پولیس نے بیان میں کہا کہ کارتہ پروان کے علاقے میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب ایک عمارت سے فائرنگ کی گئی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور عمارت سے ایک مشکوک شخص کو دو عدد ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ گرفتار کر لیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حملے کا نشانہ عبید الرحمان نظامانی تھے۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ اس کا حملے کے بعد افغانستان میں سفارت خانہ بند کرنے یا سفارتی عملہ واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں۔

بیان میں زور دیا گیا کہ افغانستان کی عبوری حکومت فوری طور پر تحقیقات کرتے ہوئے ملزمان کو پکڑے اور ان کے خلاف کارروائی کرے۔

اسلام آباد نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستانی سفارتی حکام اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ٹویٹ میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات اور حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

افغان انتظامیہ نے پاکستانی سفارت خانے پر ’فائرنگ کی کوشش‘ اور ’ناکام حملے‘ کی مذمت کی تھی۔

افغانستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عبد القھار بلخی نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’واقعے میں زخمی ہونے والے سکیورٹی گارڈ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘

اس حملے کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ان کے افغان قائم مقام ہم منصب امیر خان متقی نے انہیں فون کر کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی سفیروں اور مشن کی سکیورٹی بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا