سارہ انعام قتل کیس میں سرکاری گواہ کا بیان قلم بند

23 ستمبر کواسلام آباد میں شوہر کے ہاتھوں جان گنوانے والی سارہ انعام کے قتل کے مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے 30 گواہ ہیں، جبکہ بارہ کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

سارہ انعام کے شوہر شاہ نواز امیر نے پولیس کو بتایا تھا کہ انہوں نے لوہے کے ڈمبل سے مقتولہ کے سر پر وار کیے تھے (فیس بک)

اسلام آباد کی ایف ایٹ کچہری میں بدھ کو سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں سارہ انعام قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں کانسٹیبل محمد سرفراز نے بیان قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ مرکزی ملزم شاہ نواز امیر نے دورانِ تفتیش بتایا کہ مقتولہ کی چیزیں فارم ہاؤس میں موجود ہیں۔

’جائے وقوعہ سے مقتولہ سارہ انعام کا پیلے رنگ کا بیگ برآمد ہوا جس میں ساڑھے پندرہ ہزار روپے کرنسی موجود تھی۔‘

کانسٹیبل نے مزید بتایا کہ مقتولہ سارہ انعام کے بیگ سے 2270 اماراتی درہم بھی برآمد ہوئے۔

اس دوران مقتولہ سارہ انعام کے والد انعام الرحیم سارہ کے ذکر پر آبدیدہ ہو گئے۔

تفتیشی افسر نے عدالت میں مقتولہ سارہ انعام کا جائے وقوعہ سے برآمد بیگ عدالت میں پیش کیا۔

کانسٹیبل نے بتایا کہ سارہ انعام کے بیگ سے سو امریکی ڈالر اور ایک غیر ملکی ایئرلائن کا ٹکٹ بھی برآمد ہوئے۔

ابو ظہبی سے اسلام آباد کا ہوائی ٹکٹ 22 ستمبر 2022 کا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مقتولہ کے بیگ سے ڈرائیونگ لائسنس، ڈپارٹمنٹ آف اکانومی ڈیویلپمنٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد ہوئے۔

کانسٹیبل نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے مزید بتایا کہ ملزم شاہ نواز امیر نے مقتولہ کےموبائل کا بتایا جو فارم ہاؤس کے لان سے برآمد کیا گیا اور ٹوٹا ہوا تھا۔

کانسٹیبل نے مزید بتایا کہ مقتولہ کے والد انعام الرحیم نے یو ایس بی دی جس میں مقتولہ کو بھیجےگئے شاہ نواز امیر کے وائس میسجز تھے۔

استغاثہ کے وکیل رانا حسن عباس اور مقتولہ کے والد انعام الرحیم عدالت میں پیش ہوئے۔

گذشتہ برس ستمبر کے دوران اسلام آباد میں اندوہناک انداز میں اپنے شوہر کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترنے والی سارہ انعام کے قتل مقدمہ تیزی سے آگے بڑھنے لگا ہے۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سارہ انعام قتل مقدمے میں اب تک بارہ گواہوں کے بیان قلمبند ہو گئے ہیں، چار ان میں سے چار پر جرح بھی مکمل ہو چکی ہے۔

استغاثہ نے گیارہ گواہ غیر ضروری ہونے کی بنا پر فہرست سے حذف کر دئیے تھے، جبکہ پرائیویٹ گواہوں سمیت چھ گواہوں کے بیانات ابھی ریکارڈ ہونا باقی ہیں۔

مقدمے میں استغاثہ کے گواہوں کی کل تعداد 30 ہے۔

بعدازاں مقدمے کی سماعت دو فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

سیاق و سباق

ایف آئی آر کے مطابق سارہ انعام کے قتل کا واقعہ 23 ستمبر (جمعے) کی صبح دس سے گیارہ بجے کے درمیان پیش آیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قتل کی واردات کی اطلاع ملزم شاہ نواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو دی تھی۔

اطلاع ملنے پر پولیس چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس پہنچی تو ملزم شاہ نواز نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے کمرہ کھلوانے کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق جب ملزم کو کمرے سے نکالا گیا تو اُن کے کپڑوں پر خون کے دھبے موجود تھے۔

ملزم شاہ نواز نے ابتدائی تفتیش میں پولیس کو بتایا تھا کہ انھوں نے لڑائی کے دوران اپنی اہلیہ سارہ انعام کے سر پر ڈمبل مارا اور بعدازاں اہلیہ کی لاش کو واش روم میں چھپا دیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے آلہ قتل یعنی ڈمبل بھی خود برآمد کروایا جس پر انسانی خون اور بال لگے ہوئے تھے۔

ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے ڈمبل کے متعدد وار کر کے اپنی اہلیہ کا قتل کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان