کراچی کی بارش اور ننگی تاریں

کراچی میں نالوں کی صفائی سے ہاتھ کھڑے کرنے والی صوبائی حکومت اور اختیارات کی کمی کے دکھڑے سناتی بلدیاتی سرکار کے جھگڑوں میں دو کروڑ سے زائد آبادی کا شہر، چکی کے دو پاٹوں کے درمیان گندم کی طرح پس گیا۔

کراچی میں 30 جولائی کی بارش کے بعد ایک محلے کا منظر۔ (اے ایف پی)

بارش کا چھینٹا پڑا تو احمد کی آنکھوں میں جگنو جگمگانے لگے۔ سیڑھیاں پھلانگتا ماں کے پاس کچن میں جا پہنچا۔ ’امی باہر کھیلنے جاؤں؟ نہیں کوئی ضرورت نہیں ابھی کوئی نہیں ہے باہر۔ اوپر سے تم کپڑے خراب کرکے آجاو گے۔ بہت شوق ہے تمہیں پانی میں چھلانگیں مارنے کا؟‘

’امی جانے دیں ناں! اچھا عبیر کو بلا لیتا ہوں ہم گلی میں سائیکل چلا لیں گے۔ پکا پرامس۔ بس یہیں گھومیں گے۔ زیادہ دور نہیں جائیں گے۔‘

ماں تھی بچے کے چہرے پہ خوشی دمکتے دیکھا تو کہا اچھا جاؤ بس قریب ہی رہنا۔

اور نارتھ ناظم آباد بلاک ایل کا 12 سالہ معصوم بچہ گھر سے نکل گیا۔ پڑوس کا دروازہ کھلا تھا۔ ’عبیر آو چلو کھیلتے ہیں۔‘ اس نے اپنے ہم عمر ہم جولی کو آواز دی تو وہ بھی شوق کے ہاتھوں باہر نکلا، سائیکل گلی سے آگے بڑھی ،کھل کھلاتے ایک دوسرے پہ ہاتھوں کے کٹورے سے پانی اچھالتے دونوں بچوں نے سائیکل گھمائی تو پانی کے ریلے نے کھمبے سے جا لگایا بس پلک جھپکی اور سب ختم ہوگیا۔ سائیکل پانی میں تیرتی رہ گئی پچھلا پہیہ گھوم گیا، اور پھر ماں کے بین، باپ کے بے بسی کے آنسو، بہنوں کی پکاریں، احمد اور عابر ایک لمحے میں زندگی سےناطہ توڑ گئے۔

دو روز کی بارش میں بےحسی، ڈھٹائی اور ظلم کا کھیل کراچی کے 19 گھرانوں کو اجاڑ گیا۔ کہیں بجلی کے کھمبے میں کرنٹ موت بن کر دوڑا، کہیں ننگے تاروں نے جیتے جاگتے انسانوں کو ناگ بن کر ڈس لیا، کہیں بجلی کا پلگ جان لے گیا اور کہیں چلتی موٹر نے سانسوں کی ڈور کھینچ لی۔ سب کے نام الگ، عمریں جدا، لیکن سب بدنصیبوں کا نصیب ایک، بجلی کا ایک جھٹکا پورے خاندانوں پہ بجلی گرا گیا۔ کسی کا لعل بچھڑ گیا، کوئی جوان باپ کی کمر جھکا گیا اور کوئی اپنے پیچھے رونے والوں میں معصوم بچے اور بیوی چھوڑ گیا۔ رشتوں کا درد رکھنے والوں کی آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگی رہی لیکن کراچی کی بجلی کمپنی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ کوئی ندامت شرمندگی نااہلی کا اعتراف کہیں ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کے الیکٹرک جس کا نعرہ تھا ’انرجی دیٹ مووز لائف‘ اب ’انرجی دیٹ ٹیکس لائف‘ میں بدل چکا ہے۔ کراچی والوں کے نصیب میں روشنی کم ہے، اندھیرا بڑھ چکا ہے، رات کی نیند اور دن کا سکون چھیننے میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ کراچی والے ٹمٹماتی موم بتیوں میں خون کے گھونٹ بھرتے غصہ پیتے ہیں اور پیچ و تاب کھاتے ہیں۔ ’آپ کا ایریا ٹیکنیکل فالٹ کی وجہ سے بند ہے۔ ہماری ٹیمیں علاقے میں موجود ہیں، براہ مہربانی تعاون کریں‘، کسٹمر سروس پر فون کالز، ایس ایم ایس اور ٹوئٹس کا وہی رٹا رٹایا، گھسا پٹا جواب صبر کی ٹرانسمیشن لائنیں اڑاتا ہے اور برداشت کے فیڈر ٹرپ کراتا ہے۔ کوئی کے الیکٹرک سے پوچھے کہ ب2200 میگاواٹ جو بجلی بنانے کے دعوے کرتے ہیں وہ بجلی کہاں اڑتی ہے، کس پر گرتی ہے۔

بل آسمان پر اور تاریں زمین پر، ٹیکنیکل فالٹ ہو تو بجلی غائب، پانی کی دو بوندیں گر جائیں تو پورے نظام کا فیوز اڑ جائے، آندھی آ جائے تو ہائی ٹینشن وائر کی ٹرپنگ کے نام پہ یہ ٹینشن پھیلاتے ہیں، گرمی بڑھ جائے تو لوڈ مینجمنٹ کا بہانہ بنا کر عوام کے دماغ کا میٹر شارٹ کر دیتے ہیں، گیس کا پریشر کم ہو جائے تو پبلک کا بلڈ پریشر بجلی بند کرکے بڑھا دیتے ہیں، نیشنل گرڈ سے مسئلہ ہو جائے تو کراچی والوں کے چودہ طبق روشن ہو جائیں، پرزہ خراب ہوجائے تو یہ بھی پر پرزے نکال کر سامنے آ جاتے ہیں۔

دو ہزار آٹھ سے 2019 آگیا، سندھ میں پیپلز پارٹی کا مسلسل تیسرا دور حکومت ہے۔ کراچی کی سیاست کے دعوے دار پہلے پانچ سال اتحادی رہے اگلے پانچ برس میں سے تقریباً نصف مدت تک اقتدار میں حصہ دار رہے اس سے پہلے کئی برسوں تک اس شہر کے اپنے بنے رہے لیکن کے ای ایس سی سے کے الیکٹرک میں تبدیل ہونے والی بجلی کمپنی کے بارے میں ان دونوں کی زبان بند رہی۔ پہلے شہر سے تانبے کے تار لپیٹ کر المونیم کے تار لگا دیے کوئی نہیں جاگا پھر تگنی کی رفتار سے بھاگنے والے ڈیجیٹل میٹر شہریوں کے گھروں پہ نصب کر دیے، شہریوں کے حقوق کے دعوے داروں کی آنکھ نہ کھلی، تاریں گرنے سے لوگوں کی اموات ہوئیں، بچوں کے بازو قلم ہوگئے ارباب اختیار برا نہ کہو، برا نہ دیکھو، برا نہ سنو کی مثال بن گئے۔ اوور بلنگ اور ایورج بلنگ کے نام پہ شہریوں کی جیبیں خالی کرالی گئیں، کسی کے کان پہ جوں تک نہ رینگی۔

ایک دوسرے کے خلاف کوئی موقع نہ چھوڑنے والے ایک نجی بجلی کمپنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کتراتے رہے۔ کراچی میں نالوں کی صفائی سے ہاتھ کھڑے کرنے والی صوبائی حکومت اور اختیارات کی کمی کے دکھڑے سناتی بلدیاتی سرکار کے جھگڑوں میں دو کروڑ سے زائد آبادی کا شہر، چکی کے دو پاٹوں کے درمیان گندم کی طرح پس گیا۔ کچرے پہ سیاست کی جاتی رہی، لیکن روزانہ کی بنیاد پہ بارہ ہزار ٹن جمع ہونے والا کوڑا اٹھانے کے لیے انتظامات کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ ایک دوسرے پہ انگلی اٹھانے کے لیے پانی جیسی بنیادی ضرورت کو سیاست زدہ کر دیا۔ لوگ پانی کے لیے ہلکان ہوتے رہے، ٹینکر مافیا پانی کو بیچ بیچ کر کروڑ پتی بن گیا۔ یہ شرم سے پانی پانی نہ ہوئے، کھیل کے میدان اور پارکس قبضہ مافیا کے شکنجے میں جاتے رہے یہ اپنے اپنے مفاد کے لیے چپ چاپ شہر کے لٹنے کا تماشا دیکھتے رہے۔ شہر بدامنی کی آگ میں برسوں جلتا رہا، یہ اس پہ اپنے اپنے مطلب کی روٹیاں سینکتے رہے۔

ماس ٹرانزٹ پروگرام سے لے کر کراچی میں چھ سو بسیں چلانے کے دعوے دار سابق وزیر ٹرانسپورٹ ہر بار  نئی توجیہات لے کر سامنے آتے رہے اور باالآخر اپنی سرکار سے وفاداری نبھا کر چلے گئے۔ جو نام کے اپنے تھے وہ اپنوں میں ہی تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے۔ شہر والے بنیادی حقوق کی دہائی دیتے رہ گئے، لیکن پنگ پانگ کا کھیل ختم نہ ہوا۔

روشنیوں کا شہر اندھیروں میں دھنستا چلا گیا۔ ہمارا کراچی کچراچی بن گیا، پاکستان کا سب سے بڑا شہر سب سے بڑا تو رہا لیکن ایک پسماندہ مضافاتی علاقے سے بھی بدتر ہوگیا۔ بدنصیبی کا سیاہ دھواں اس شہر کو دھیرے دھیرے نگل رہا ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں، کیونکہ کوئی اسے اپنانے کو تیار نہیں۔ وہ شہر جو ہر کسی کو ماں کی طرح اپنی آغوش میں سمو لیتا ہے کوئی اس کا بیٹا بننے کو تیار نہیں۔

میر تقی میر کی روح سے معذرت کے ساتھ 

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو 

ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے 

کراچی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب 

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے 

اس کو اپنوں نے لوٹ کے برباد کر دیا 

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر