قوموں پر زوال کیوں آتا ہے؟

جب کوئی قوم زوال کے اس آخری مرحلے پر پہنچ جائے تو یا تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے یا پھر تبدیلی کا واحد راستہ انقلاب ہی رہ جاتا ہے۔ 

فردوس چوک میں 2003 کے امریکی حملے کے بعد صدام حسین کا مجسمہ گرایا جا رہا ہے (پبلک ڈومین)

وہ کون سی وجوہات ہوتی ہیں جو قوموں کو متحد کر کے ان میں اعلیٰ اخلاقی اقدار پیدا کرتی ہیں، جن سے قوم کا کردار بنتا ہے۔

تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کا تذکرہ کیا جاتا ہے، اس لیے قوموں کو زوال سے پہلے ان کے عروج کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی بھی قوم کے عروج کی اولین شرط یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے محدود جغرافیائی دائرے سے نکل کر اپنی ریاست کو وسعت دے۔

اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ فوجی قوت کے ذریعے نئے ممالک کو فتح کیا جائے اور ان کو اپنی سلطنت کے اندر ضم کر لیا جائے، لہٰذا اس کے لیے تربیت یافتہ فوج اور اسلحے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب فتوحات عروج کا باعث ہوتی ہیں تو اس میں ان لوگوں کی تعریف کی جاتی ہے جو بہادر اور جنگجو ہوں اور جنگ میں لڑائی کا تجربہ رکھتے ہوں۔

رومی سلطنت کے ابتدائی دور میں اس کے تمام لیڈر فوجی جنرل تھے۔ جن میں جولیس سیزر، پومپے اور آگسٹس کی فتوحات کے نتیجے میں نہ صرف مال غنیمت ہاتھ آیا بلکہ بڑی تعداد میں غلاموں کو بھی لایا گیا۔

غلاموں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے رومی امرا آرام پسند ہوتے چلے گئے۔ فتح شدہ ملکوں سے جو خراج آتا تھا اسے بھی رومی سلطنت کے خزانے میں شامل کر لیا گیا، پھر ایک بڑی سلطنت کے لیے قابل اور ذہین عہدیداروں کی ضرورت ہوتی تھی، جو صوبوں کا انتظام کرتے تھے اور وہاں اصلاحات کر کے لوگوں کو سہولتیں مہیا کرتے تھے۔ بڑھتی ہوئی سلطنت میں تاجروں کا کردار بھی اہم ہوتا تھا۔

عروج کے زمانے میں نئی فتوحات کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے فوجی جنرلوں کی بہادری اور تجربے کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہی، لہٰذا جنگجوئی کی روایات ختم ہوئیں تو سلطنت کا دفاع بھی ممکن نہیں رہا۔

 

رومی جو فاتح قوم بن گئے تھے، ان کے افراد کو رومی ہونے پر فخر ہو جاتا تھا۔ اس کا اظہار وہ اپنی بہادری، ایمانداری اور وعدے کی پابندی سے کرتے تھے، جس کی وجہ سے دوسری قوموں میں ان کی عزت کے جذبات پیدا ہو جاتے تھے۔

لیکن جب رومی سلطنت اپنے عروج کو پہنچی تو اس کے لیے یہ نا ممکن ہو گیا کہ اتنی وسیع سلطنت کا دفاع کر سکے۔ حکمران طبقوں میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہشات پیدا ہوئیں تو کبھی فوج کو رشوت دے کر حکمران بنے اور کبھی سینیٹروں کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کیا۔

عروج کے زمانے میں نئی فتوحات کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے فوجی جنرلوں کی بہادری اور تجربے کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہی، لہٰذا جنگجوئی کی روایات ختم ہوئیں تو سلطنت کا دفاع بھی ممکن نہیں رہا۔

امرا نے کسانوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں بے روزگار کر دیا اور کاشت کاری کا کام غلاموں سے کروانے لگے۔ آرام طلبی اور اچھی غذا نے امرا کو جسمانی طور پر سست اور کاہل کر دیا اور رومی سلطنت اپنی وسعت کو سمیٹتے ہوئے زوال کا شکار ہوئی۔

قوموں کا زوال کیوں ہوتا ہے؟

اس کی پہلی وجہ تو افراد کے کردار کی تبدیلی ہوتی ہے۔ جب قوم عروج کی حالت میں ہوتی ہے تو افراد کے کردار پر نظر رکھنے کے لیے مختلف روایات اور ادارے ہوتے ہیں۔ قانون کی بالادستی انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ اس کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں۔ رشوت، غبن، وعدے کی خلاف ورزی اور جھوٹ کو روکنے کے لیے سوسائٹی کی جانب سے اخلاقی پابندیاں ہوتی ہیں۔

زوال کی صورت میں یہ پابندیاں ایک ایک کر کے ٹوٹتی جاتی ہیں اور سوسائٹی کے اقوال آزاد ہوتے چلے جاتے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے اخلاقی قدروں کو پامال کریں۔

یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک فرد اپنے ذاتی مفادات کو غیر اخلاقی اقدار کے ذریعے پورا تو کر لیتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں اس جعل سازی یا دھوکے سے پوری سوسائٹی متاثر ہوتی ہے۔ جعلی ادویات بنا کر مالک تو دولت مند ہو جاتا ہے مگر اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کے استعمال سے ہزاروں لوگ اپنی جانیں کھو دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی صورت حال کھانے پینے کی اشیا کے ساتھ ہے، جس کے نتیجے میں ایک جانب لوگ دولت اکٹھی کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب لوگ بیماریوں میں مبتلا ہو کر مر رہے ہوتے ہیں۔

ذاتی مفادات آخر کیوں قومی مفادات پر غالب آجاتے ہیں۔ کیا اس کی وجہ کسی بھی ملک کی سیاسی صورت حال ہوتی ہے کہ جس میں لوگوں کو تحفظ کا احساس نہیں ہوتا ہے اور وہ ریاست پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے طور پر اپنے مفادات پورے کرتے ہیں۔ جب کسی سوسائٹی کی مالی حالت ابتر ہو جائے تو مذہبی تعلیمات بھی اس کی اصلاح کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔

زوال کے اثرات افراد کی بول چال ان کے کھانے، پینے اور ان کی رہائش سے ہوتا ہے، جس میں خوب صورتی، شگفتگی اور لطافت کے احساسات ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسی سوسائٹی کا ادب، آرٹ، موسیقی اور تھیئٹر بھی غیر معیاری ہو کر لوگوں کے ذہن کو بگاڑتے ہیں۔

اگر ہم اس تناظر میں پاکستانی سوسائٹی کا تجزیہ کریں تو اس میں ہمیں کہیں بھی عروج نظر نہیں آتا۔ آزادی کے بعد سے ہی زوال کی علامتیں شروع ہو گئی تھیں۔ مذہبی اور اخلاقی قدریں آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی تھیں، سماج کی جانب سے جو پابندیاں تھیں وہ بھی ختم ہو رہی تھیں اور بالآخر ہم اس مرحلے پر پہنچے جہاں افراد کے لیے نہ تعلیم تھی، نہ تربیت اور نہ اخلاقی اقدار کا احترام۔

جب عزت کا باعث دولت اور امارت ہو جائے چاہے اسے جیسے بھی حاصل کیا جائے، پھر سوسائٹی میں ایمان داری اور دیانت کی ضرورت نہیں رہتی۔ انسانیت کا احترام ختم ہو جاتا ہے اور فرد کے اندر خونخوا جذبات پیدا ہو جاتے ہیں، جو اسے تشدد اور دہشت گردی کی جانب لے جاتے ہیں۔

جب کوئی قوم زوال کے اس آخری مرحلے پر پہنچ جائے تو یا اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور یا پھر تبدیلی کا واحد راستہ انقلاب ہی رہ جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ