کراچی: لنڈے کے کاروبار کے لیے 12 لاکھ ڈالر کی ’سیڈ فنڈنگ‘

2019 میں کراچی کے تین دوستوں کا شروع کردہ پرانے جوتوں کا کاروبار چار سال میں ہی کامیابی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے کمپنی کے سی او او نوفل خان نے بتایا کہ 2019 میں کاروبار شروع کیا جبکہ کورونا میں ان کے کاروبار میں وقفہ بھی آیا لیکن ہار نہیں مانی(انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان میں معاشی بحران اور مہنگائی کے عالم میں تین دوستوں نے اپنی کمپنی کے لیے  لاکھوں ڈالرز کی ’سیڈ فنڈنگ‘ حاصل کر لی ہے جو ان کے مطابق تمام سرمایہ کاروں کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر ہے۔

تین دوستوں نے  پاکستان کے عوام کے لیے استعمال شدہ سستے اور معیاری جوتوں کا کاروبار شروع کیا اور 14 اگست 2019 کو کمپنی کا افتتاح کیا تھا جس کو پروان چڑھانے میں تقریبا دوسال لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے چار سالوں میں ان کے استعمال شدہ جوتوں کا کاروبار کامیابی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

انڈیپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے ’سویگ ککس‘ نامی لنڈے کی کمپنی کا دورہ کیا جہاں کثیر تعداد میں ہر برانڈ کے جوتے لگے ہوئے تھے جنہیں مختلف جانچ کے مراحل سے گزارا جا رہا تھا اور یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ آیا جوتا کتنا استعمال شدہ ہے۔

جو جوتا کم استعمال شدہ تھا اسے 10/10 کی کوالٹی کا نام دیا گیا تھا جس کے بعد ان جوتوں کی دھلائی کے بعد انہیں خشک کیا جا رہا تھا اور تیسرے مرحلے میں اشیا کی شاندار فوٹوگرافی کا عمل کا جاری تھا۔

اس سارے عمل کے بعد کمپنی کا عملہ ان تصاویر کو تمام تفصیل کے ساتھ سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر اپلوڈ کرنے میں مصروف تھا، آخری مرحلے میں جوتے کو پیک کرنے بعد آر ڈر تیار کر کے پارسل کیا جا رہا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے کمپنی کے سی او او نوفل خان نے بتایا کہ 2019 میں کاروبار شروع کیا جبکہ کورونا میں ان کے کاروبار میں وقفہ بھی آیا لیکن ہار نہیں مانی۔

’ہم تینوں دوستوں نے سر توڑ کوشش کی جس میں اب کامیابی کے سفر پر گامزن بھی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم تینوں دوست مختلف صلاحیتوں کے حامل ہیں، حمزہ عابد کو عالمی سطح پر پسندیدہ فیشن کی تجارت کا وسیع تجربہ ہے جبکہ متین انصاری سکیلنگ آپریشنز میں مہارت رکھتے تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوفل خان نے بتایا کہ ’پاکستان اس وقت معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے لیکن ایسے مایوس کن حالات میں ہماری کمپنی نے 12 لاکھ ڈالر کی سیڈ فنڈنگ حاصل کی ہے اور یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے اور ساتھ ہی مارکیٹ میں دوسرے سرمایہ کاروں کے لیے بھی حوصلہ افزاخبر ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا کاروبار (لنڈے) استعمال شدہ اشیا کا ہے جسے وہ آن لائن چلا رہے ہیں۔

’ہمارا مقصد پاکستان میں عوام کو سستے اور اعلیٰ معیار کے آئٹم فراہم کرنا ہے جو فیشن کے مطابق لباس پہننا چاہتے ہیں لیکن عالمی برینڈز تک رسائی نہیں رکھتے یا ان کی استطاعت نہیں اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ لاکھوں ٹن ضائع ہونے والے سامان کو دوبارہ سے قابل استعمال بنایا جائے یعنی لینڈ فل سائٹ سے فیشن کو محفوظ  کر کے دوسری زندگی دینا۔‘

نوفل خان کا کہنا تھا کہ ’لنڈے کا کاروبار پروان ہی اس وقت چڑھتا ہے جب مہنگائی بڑھ جاتی ہے معاشی صورت حال بگڑ رہی ہوتی ہے اور لوگوں کو ایک بہترین چیز کم قیمت میں چاہیے ہوتی ہے جو معیاری بھی ہو اور سستی بھی۔‘

سویگ کِکس کے شریک بانی متین انصاری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم معیاری سنیکرز اور سٹریٹ ویئر در آمد کرتے ہیں، انہیں دھوتے اور جراثیم سے پاک کرتے ہیں اور بالکل نئی مصنوعات کی قیمت کے ایک کم حصے پر فروخت کرتے ہیں۔‘

متین انصاری کا کہنا تھا کہ ’ہم نے چھوٹا سا بیج بویا ہے جس کے باعث ہم نے سیڈ فنڈنگ حاصل کی  ہے۔ مستقبل کے لیے یہی عزائم ہیں کہ پاکستان کی عوام کے لیے سستی اشیا فراہم کرنے کو اپنا مقصد بناتے ہوئے اس کاروبار کو مزید بلندیوں پر لے کر جائیں۔‘

حمزہ عابد بھی اس کمپنی میں برابر کی شراکت داری رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے کاروبار کو مستحکم ہونے میں دو سال لگے جس کے بعد کمپنی نے حال ہی میں SOSV سے ڈیڑھ لاکھ ڈالرز کمائے ہیں اب تک کمپنی نے ایک لاکھ سے زیادہ صارفین کی خدمت کی ہے اور ان کے پاس 25 ہزار اشیا ہیں جن میں جوتے، بیگز، کپڑے اور دیگر لوازمات شامل ہیں۔‘

سیڈ فنڈنگ کیا ہوتی ہے؟

کاروباری سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والی ویب سائٹ انویسٹو پیڈیا کے مطابق سیڈ فنڈنگ یا سیڈ کیپیٹل اس رقم یا سرمایہ کاری کو کہا جاتا ہے جو کوئی کاروبار شروع کرنے یا اسے جاری رکھنے کے لیے درکاری ہوتی ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت