سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا رمضان میں ملاقات پر اتفاق

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ٹیلی فونک رابطے میں متعدد دو طرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور رمضان میں ملاقات پر اتفاق کیا۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود (بائیں) اور ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان (دائیں) نے ٹیلی فونک گفتگو میں دو طرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ماہ رمضان میں ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان چند دنوں میں دوسری مرتبہ ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق: ’ٹیلی فون کال میں چین میں ہونے والی سہ فریقی معاہدے کی روشنی میں متعدد دو طرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے رمضان میں ملاقات پر اتفاق کیا۔‘

ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ’ایرانی وزیر خارجہ اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ وزرائے خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے میں تازہ ترین پیش رفت اور وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا اور رمضان کے دوران مشترکہ ملاقات پر بات چیت کی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے عمل میں تعمیری راستے پر بات چیت کی۔‘

قبل ازیں سعودی وزیر خارجہ نے 23 مارچ کو اپنے ایرانی ہم منصب کوآغاز رمضان کے موقع پر فون کیا تھا جس کے دوران انہوں نے ریاض کے اعلان کے مطابق ’جلد‘ دو طرفہ ملاقات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

سعودی عرب اور ایران نے سات برس بعد تعلقات کی بحالی کے لیے رواں ماہ 10 مارچ کو ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا، جس میں چین بطور مذاکرات کار موجود تھا۔

اس معاہدے کے بعد توقع ہے کہ ایران اور سعودی عرب دو ماہ کی مدت میں اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولیں گے اور تقریباً 20 برس قبل طے شدہ سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر عمل درآمد کریں گے۔

سال 2016 میں ایران میں سعودی سفارتی مشنوں پر مظاہرین کے حملے کے بعد ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات ختم ہو گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا