امریکہ اپنا ورثہ آج بھی انگلستان میں کیوں ڈھونڈتا ہے؟

امریکہ کی خانہ جنگی کے بعد جب غلامی کا خاتمہ ہوا تو جنوب میں بسنے والے امریکیوں نے اس کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا بلکہ وہ عہدِ وسطیٰ کی تاریخ اور ماضی میں ڈوب کر اپنے مسائل کا حل اس میں تلاش کرنے لگے۔

1860 کی دہائی میں ہونے والی خانہ جنگی جس نے امریکہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا (پبلک ڈومین)

تاریخی ادوار کی زمانہ حاضر کے تحت تشریح کی جاتی ہے تو کبھی اسے خوشگوار بنایا جاتا ہے اور کبھی اسے تاریک کہا جاتا ہے۔

امریکہ چوں کہ ایک نیا آزاد ہونے والا ملک ہے اور اس کے ابتدائی دور میں آباد ہونے والے انگلستان سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ان کی تہذیب کی بناوٹ میں انگریزی عناصر شامل ہیں۔

بعد میں یہاں دوسری اقوام کے لوگ بھی آئے۔ خاص طور سے امریکی معاشرے میں اس وقت مزید تبدیلی ہوئی، جب یہاں پر افریقہ سے غلاموں کو لایا گیا۔ اس نے رنگ کی بنیاد پر معاشرے کو تقسیم کر دیا اور سفید فام لوگوں کو کالے لوگوں پر فوقیت دی گئی۔ امریکہ کے بانیوں نے اس بات پر زور دیا کہ اینگلو سیکسن نسل کے لوگ دوسری قوموں سے زیادہ اعلیٰ و افضل ہیں۔ اس نظریے کی بنیاد انہوں نے یورپی عہدے وسطیٰ کی تاریخ پر رکھی۔

ٹامس جیفرسن (وفات 1826) نے اس نظریے کی توسیق کی اور بار بار یہ اعلان کیا کہ امریکہ میں اینگلو سیکسن تہذیب اور کلچر کی بنیاد ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے ورجینیا یونیورسٹی میں قدیم انگلش کا شعبہ کھولا۔

جب جنوب کے علاقے میں مزید یونیورسٹیاں قائم ہوئیں تو ان سب نے عہد وسطیٰ کی تاریخ اور قدیم انگریزی پڑھانا شروع کیا۔ اس مطالعے کے نتیجے میں یہ کہا گیا کہ اینگلو سیکسن کی نسل کی اپنی تاریخ ہے اور ان کا شاندار ماضی بھی ہے، جبکہ افریقی، امریکی نسل کے لوگوں کی نہ تو کوئی تاریخ ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ماضی ہے، اس لیے یہ افریقی لوگ غلام بن کر امریکہ آئے اپنی تاریخ اور ماضی سے کٹ گئے۔ اس لیے یہ انسانیت کے کم تر درجے پر ہیں۔

امریکہ کی خانہ جنگی کے بعد جب غلامی کا خاتمہ ہوا تو جنوب میں بسنے والے امریکیوں نے اس کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا اور بلکہ وہ عہدِ وسطیٰ کی تاریخ اور ماضی میں ڈوب کر اپنے مسائل کا حل اس میں تلاش کرنے لگے۔

مثلاً کیو کلکس کلان جو سفید فاموں کی ایک دہشت گرد تنظیم تھی اور آزاد ہونے والے افریقی غلاموں کے خلاف تھی۔ اسے وہ عہد وسطیٰ کے نائٹس کا درجہ دیتے تھے جو اعلیٰ اخلاقی اقدار کے پابند تھے اور جنگ کرنا ان کا پیشہ تھا۔ اس بنیاد پر وہ سفید فام لوگوں کو افریقی، امریکی کے مقابلے میں ترجیح دیتے تھے۔

اس دلیل کا جواب افریقی، امریکی، دانش وروں نے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عہد وسطیٰ میں اینگلو سیکسن کا سماجی درجہ نورمن لوگوں کے مقابلے میں کم تر تھا۔ کیوں کہ 1012 میں فرانس کے ولیم نے انگلستان کے بادشاہ کو شکست دے کر ملک پر قبضہ کیا تو اینگلو سیکسن شکست کھا کر ان کے ماتحت ہو گئے۔ نورمن حکومت نے ان لوگوں سے محنت مزدوری کرائی اور انہیں اپنے تسلط میں رکھا۔ اس لیے عہد وسطیٰ کی تاریخ اور ماضی میں ان کا کوئی اعلیٰ مقام نہیں ہے۔ یہ تاریخ کی غلط تشریح کر کے اس کو اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افریقی دانشوروں کی ایک دلیل یہ بھی تھی کہ سفید فام نسل پرستی کی بنیاد عہد وسطیٰ میں نہیں پڑی تھی اور یہ اصطلاح نوآبادیاتی دور میں شروع ہوئی اور امریکہ میں اس کو افریقہ سے لائے گئے غلاموں کو کم تر سمجھنے کے لیے اسے استعمال کیا گیا۔

افریقی، امریکی دانشوروں نے اپنے مساوی سماجی مقام کو حاصل کرنے کے لیے یہ دلیل بھی دی کہ ان کی اپنی تاریخ بھی ہے اور ماضی بھی۔ انہیں اس سے محروم کرنے کا جرم سفید فام قوم نے کیا جس نے نہ صرف انہیں اپنے خاندانوں سے جدا کیا، بلکہ اپنے ملک اور قبائل سے بھی علیحدہ کیا، لیکن اب وہ اپنی تاریخ اور ماضی کو نہ صرف افریقہ میں تلاش کرتے ہیں، بلکہ امریکہ کی سرزمین سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

 بو بوا (وفات 1963) نے اپنی تحریروں اور سیاسی تحریکوں کے ذریعے سفید فام نسل کے نظریے کی غلط نظریے کو توڑا اور اس پر بھی تنقید کی کہ امریکہ میں اینگلو سیکسن قوم کو اپنی برتری جتانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اگرچہ اینگلو سیکسن نے عہدے وسطیٰ کی تاریخ کو اپنا ماڈل تو بنایا مگر تاریخ کے ان حصوں کو اپنایا جو ان کے مفادات کو پورا کرتے تھے۔ اس میں ان کی مذہبی انتہا پسندی بھی ہے اور نہ انصافی کے جذبات بھی ہیں۔ امریکہ کے جنوب میں خاص طور سے مذہبی رنگ و نسل کا تعصب بہت گہرا ہے۔

اگرچہ قومیں ماضی کو واپس لانے کی کوشش تو کرتی ہیں مگر ماضی دور حاضر میں کبھی واپس نہیں آتا ہے اور اگر آتا بھی ہے تو اس کی شکل مسخ ہوتی ہے۔

اینگلو سیکسن نسل کی برتری نے امریکہ میں آباد دوسری یورپی اور ایشیائی آباد لوگوں کو بھی ان کی تاریخ اور کلچر سے جدا کر کے انہیں کم تر بنا دیا ہے۔ یہ امریکی قوم کا ایک المیہ ہے کہ وہ اب تک اپنے تہذیبی رشتے انگلستان میں ڈھونڈتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ