خیبر پختونخوا: سوات کے گرفتار صحافی کی رہائی کا حکم جاری

نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے صحافی فیاض ظفر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور گرفتاری کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بات چیت کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیق اور تمام تفصیلات مہیا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

سوات میں گرفتار کیے جانے والے سینیئر صحافی فیاض ظفر (تصویر: ایکس اکاونٹ فیاض ظفر)

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے ساتھ منسلک سوات کے صحافی پر مبینہ تشدد اور ان کی گرفتاری پر صحافیوں اور سیاستدانوں کے احتجاج اور وفاقی نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے نوٹس کے بعد ان کی رہائی کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر سوات کی جانب سے سیدو شریف ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ ضلعی بار ایسوسی ایشن اور علاقائی عمائدین کی درخواست پر مینٹیننس آف دی پبلک آرڈر (تھری ایم پی او) 1960 کے تحت بابوزئی سوات سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی فیاض ظفر کو جیل سے رہا کر دیا جائے۔

سوات یونین آف جرنلسٹس کے صدر انور انجم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ اور تقریباً 50 کے قریب دوسرے صحافی اور احباب سیدو ڈسٹرکٹ جیل کے سامنے موجود ہیں۔

’فیاض ظفر سوات اور سوات کے عوام کی آواز ہیں۔ انہوں نے جو دیکھا وہی رپورٹ کیا۔ لیکن ان پر ریاست مخالف سرگرمیوں اور بیانات کا الزام لگانا غلط ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے فیاض ظفر کے چھوٹے بھائی نواز ظفر نے بتایا کہ ان کے بھائی کی رہائی کا حکم نامہ جاری ہو چکا ہے۔

’پولیس اور انتظامیہ میرے بھائی کو ’زبردستی بیان حلفی‘ لینے پر مجبور کر رہے ہیں، تاہم فیاض اس پر راضی نہیں۔ اور یہی ان کی رہائی میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔‘

کچھ دن قبل فیاض ظفر چند گھنٹوں کے لیے منظر نامے سے غائب ہوئے تھے، تاہم ان کے ساتھی صحافی انہیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر گذشتہ روز فیاض نے ایک پوسٹ میں الزام لگایا تھا کہ ضلعی پولیس و انتظامیہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے اپنے دفتر میں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

بعدازاں 30 اگست کو سوات کے ضلعی مجسٹریٹ عرفان اللہ نے فیاض ظفر پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے سوشل اکاؤنٹس سے جعلی، شرانگیز، اور متعصبانہ مواد پر مبنی خبریں چلاتے ہیں، جس سے ریاست، حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بدنامی ہوتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسی خبریں عوام میں ان کے خلاف نفرت کا باعث بنتی ہیں۔

اسی بنا پر تھری ایم پی او کے تحت انہوں نے فیاض ظفر کی گرفتاری اور سیدو شریف جیل منتقلی کے احکامات جاری کیے تھے۔

نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے جمعرات کی صبح سوات کے صحافی فیاض ظفر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بات چیت کی اور انہیں غیر جانبدارانہ تحقیق کرنے اور تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

نگران وزیر اطلاعات کے مطابق: ’عہدے کی طاقت صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘

پولیس کا موقف

صحافی فیاض ظفر کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر صحافیوں اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے دیے جانے والے مذمتی بیانات اور ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) شفیع اللہ گنڈا پور پر صحافی کے لگائے گئے الزامات کے بعد جب انڈپینڈنٹ اردو نے ڈی پی او سوات شفیع اللہ گنڈا پور سے رابطہ کیا تو انہوں کہا کہ ’میں اس معاملے پر قطعی طور پر کوئی بیان دینے کے حق میں نہیں ہوں۔‘

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے اس معاملے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

واقعے کی تفصیل

ضلع سوات کے ایک ضلعی مجسٹریٹ عرفان اللہ خان نے گذشتہ روز ایک درخواست جمع کی تھی جس میں انہوں نے 1960 کے قانون ’مینٹیننس آف پبلک آرڈر‘ (تھری ایم پی او) کے تحت علاقے کے صحافی فیاض ظفر کی گرفتاری اور سیدو شریف جیل منتقلی کے احکامات جاری کیے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجسٹریٹ عرفان اللہ نے فیاض ظفر جن کا تعلق بابوزئی سوات سے ہے پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ (صحافی) اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جعلی، شرانگیز اور متعصبانہ مواد پر مبنی خبریں چلاتے ہیں، جس سے ریاست، حکومتی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بدنامی ہوتی ہے۔

فیاض ظفر گذشتہ کچھ عرصے سے سوات میں شدت پسندوں کی موجودگی پر خبریں دے رہے تھے۔

گرفتار صحافی نے رواں مہینے کی 22 تاریخ کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے یہ خبر بھی دی تھی کہ ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کو واپس لے لیا گیا تھا۔

کچھ دن قبل فیاض ظفر چند گھنٹوں کے لیے منظر نامے سے غائب بھی ہوئے تھے تاہم ساتھی صحافی ان کو ڈھونڈ کر بلآخر رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر گذشتہ روز فیاض نے ایک پوسٹ میں الزام لگایا تھا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے دو اعلی عہدیداروں نے انہیں گرفتار کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

گرفتاری کے خلاف ردعمل

ضلع پشاور کی صحافتی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے فیاض ظفر کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور ان کی گرفتاری کو آزاد صحافت پر پابندی قرار دیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فیاض ظفر پر سرکاری دفتر میں تشدد کیا گیا ہے اور انہیں جلد از جلد رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صحافی کی گرفتاری پر سابقہ رکن قومی اسمبلی اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیئرمین محسن داؤڑ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فیاض ظفر پر مبینہ تشدد اور گرفتاری ایک شرمناک فعل ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’صحافت جرم نہیں اور فیاض ایک منجھے ہویے صحافی ہیں اور سوات میں دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے ان کی رپورٹس نے ریاست کو بے نقاب کردیا ہے۔ ہم ان کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

پاکستان کے سابق سینیٹر اور سیاست دان افراسیاب خٹک اپنے ایک ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ ’یہ ایک انتہائی شرمناک فعل ہے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا، سیکریٹری داخلہ اور انسپیکٹر جنرل پولیس کو واقعے کا نوٹس لینا چاہیے۔‘

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سوات جیسے پہاڑی علاقے میں وہیل چیئر پر صحافت کے فرائض سرانجام دینے والے انتہائی ایماندار انسان فیاض ظفر کو بھی تھری ایم پی او میں گرفتار کر لیا ہے۔ مزید لکھنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔ افسوس۔‘

فیاض ظفر مختلف قومی وغیر ملکی میڈیا اداروں جیسے کہ یونائیٹڈ سٹیٹس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کے تحت چلنے والے وائس آف امریکہ (وی او اے ڈیوا) کے ساتھ منسلک ہیں۔

فیاض ظفر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کےمطابق گرفتاری کے بعد انہیں سیدو شریف میں واقع جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان