طالبان کی طرف چین کا جھکاؤ: بین الاقوامی برادری کے لیے مسائل؟

گذشتہ ماہ چین افغانستان میں سفیر تعینات کرنے والا پہلا بڑا ملک بن گیا جس کے سفارت کار نے کابل میں طالبان رہنماؤں کو اپنی سفارتی اسناد پیش کیں اور ایک تقریب میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، یہ عزت افزائی شاذونادر ہی کسی دوسرے عہدیدارکو دی گئی ہے۔

پانچ اکتوبر، 2023 کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹرانس ہمالیائی اجلاس کے دوران مصافحہ کرتے ہوئے (تصویر: چینی سفارت خانہ کابل/ایکس اکاؤنٹ)

طالبان نے چین کے شہریوں کو اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کا پختہ عزم کا اظہار کیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی نئی قربت کا اشارہ ہے لیکن یہ بین الاقوامی مبصرین کے لیے ایک پریشان کن خبر بھی ہے۔

چین پہلی بڑی عالمی طاقت تھی جس نے 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد کابل میں اپنا سفارت خانہ بحال کیا اور بیجنگ اب طالبان حکومت کے ساتھ اپنے تجارتی اور بنیادی ڈھانچے کے روابط کو بڑھا رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان میں چینی کارکنوں پر متعدد حملوں کے بعد طالبان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ ان کی حکومت ایسی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گی۔

افغان وزیر خارجہ نے جمعرات کو تبت کے شہر نینگچی میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’ہم نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بہت کام کیا ہے اور ہم چین کے خلاف سکیورٹی خطرات کو اپنے لیے ایک چیلنج کی طرح لیتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم افغانستان میں ایسی کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں دیں گے جس سے چین کے سلامتی و استحکام کو نقصان پہنچے۔‘

امیر متقی نے افغانستان میں چینی شہریوں کی سلامتی کے بارے میں بیجنگ کو ’موثر ضمانت‘ فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات شیئر نہیں کی  گئیں۔

تبت میں ہونے والی ملاقات، جسے طالبان کی تازہ ترین سفارتی مہم میں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، پہلا موقع ہے جہاں چینی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے اعلامیوں میں ’دہشت گردی‘ کے خلاف ایسی زبان استعمال کی گئی ہے۔

جمعرات کو چین کی جانب سے جاری اعلامیے میں امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا اور اپنی سرزمین پر چینی علیحدگی پسند تحریک ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کی ’دہشت گرد‘ قوتوں کا مکمل خاتمہ کرے گا۔

چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے مقرر کیے گئے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ چین ’افغانستان کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے اور علاقائی اقتصادی تعاون کو بہتر طور پر مربوط ہونے میں مدد فراہم کرنا چاہتا ہے۔‘

گذشتہ ماہ چین افغانستان میں اپنا سفیر تعینات کرنے والا پہلا بڑا ملک بن گیا جس کے سفارت کار نے باضابطہ طور پر کابل میں طالبان رہنماؤں کو اپنی سفارتی اسناد پیش کیں جن کا ایک تقریب کے دوران پرتپاک استقبال کیا گیا، یہ عزت افزائی شاذ و نادر ہی کسی دوسرے عہدیدار یا ایلچی کو دی گئی ہے۔

عالمی ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر چین افغانستان میں ایک ’بڑے بھائی جیسے اتحادی‘ کے طور پر موجود رہا تو یہ طالبان پر لڑکیوں، خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے مسائل کے حل کے لیے مغربی سفارتی دباؤ کو کمزور کر دے گا۔

طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد لڑکیوں پر ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور خواتین کو زیادہ تر کام کی جگہوں سے بے دخل کر دیا تھا۔

لندن کے کنگز کالج میں کنگز انڈیا انسٹی ٹیوٹ کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہرش وی پنت کے مطابق ’چین بین الاقوامی معاملات میں مغرب کے سامنے متبادل پوزیشن لینے کے لیے تیزی سے آمادہ نظر آتا ہے اور طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر پنت نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’وہ (چینی) طالبان کو مزید مواقع دیں گے تاکہ وہ اپنا کھیل کھیل سکیں۔ بین الاقوامی برادری کے ایک بڑے حصے کے لیے طالبان کا داخلی رویہ ایک مسئلہ ہے لیکن چین کے لیے یہ تشویش کی بات نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ چین کے اقدامات روس جیسے دوسرے اتحادیوں کے لیے مثال پیش کرتے ہوئے اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے طالبان کو 1990 کی دہائی کے آخر میں افغانستان میں اپنے سابقہ دور اقتدار کے مقابلے میں زیادہ قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔‘

ان کے بقول: ’یہ تشویش ناک بات ہے کہ چین کھل کر اور فعال طور پر اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہے جس سے طالبان کو مزید حوصلہ ملے گا اور یقیناً اس کے عام افغان شہریوں کے حقوق اور بہبود اور اقلیتوں کے حقوق کے مسائل پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔‘

پروفیسر پنت نے مزید کہا کہ ’ایک ایسے وقت جب عالمی سطح پر طالبان کے لیے حالات بہت سازگار نہیں ہیں، تب بھی انہوں نے داخلی اصلاحات پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ ہم نے اقلیتوں، خواتین اور انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت نہیں دیکھی۔ یہ اور بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے اور خاص طور پر مغرب کے لیے۔ طالبان کو تسلیم نہ کرنے پر دنیا کے اتحاد کو قائم رکھنا بہت مشکل ہو گا۔‘

چین سمیت کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر طالبان کی سخت پابندیوں کے باعث طالبان حکومت کو تسلیم کرنا ’تقریباً ناممکن‘ ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا