عام انتخابات کے جنوری میں ہونے کا یقین نہیں ہے: صدر پاکستان

جنوری 2024 میں انتخابات کے حوالے سے صدر پاکستان عارف علوی نے کہا کہ ’جنوری میں انتخابات پر مجھے اعتماد نہیں ہے لیکن جب اعلی عدلیہ نے اس بات کو نظر میں لے لیا ہے تو مناسب فیصلہ آئے گا۔‘

نو ستمبر 2018 کو صدر مملکت کا حلف اٹھانے والے عارف علوی پاکستان کے 13 ویں صدر ہیں(صدر عارف علوی فیس بک اکاؤنٹ)

پاکستان میں آزادانہ، منصفانہ اور قابل اعتماد انتخابات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بدھ کو کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ملک میں جنوری 2024 میں انتخابات ہوں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے سال جنوری کے آخری ہفتے میں ملک بھر میں عام انتخابات کرائے گا۔

جنوری میں انتخابات کے حوالے سے صدر عارف علوی نے کہا کہ جنوری میں انتخابات پر مجھے اعتماد نہیں ہے لیکن جب اعلی عدلیہ نے اس بات کو نظر میں لے لیا ہے تو مناسب فیصلہ آئے گا۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے صدر پاکستان نے کہا کہ جب چاروں صوبائی اسمبلیاں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مدت مکمل ہونے پر ہی صدر کا انتخاب ہوگا اور یہ خلا پاکستان کے لیے غیرمناسب ہے کہ میں چھوڑ کر چلا جاؤں کیوں کہ آئین نے اس کا اہتمام کیا ہوا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کو اپنا لیڈر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے پاس عمران خان سمیت تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا بیانیہ آگے بڑھانے کا اچھا موقع ہے جو انہیں عوام نے دیا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان مشکلات سے گزر کر بھی جمہوریت کے راستے پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کو لکھے گئے دو خطوط میں فرق کے حوالے سے سوال پر صدر مملکت نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت میں نے خط میں لکھا تھا کہ انتخابات نہ کرانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں اس لیے میں نے اس خط میں واشنگٹن پر حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس صورت حال میں بھی وہاں انتخابات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے خط میں لکھا تھا کہ ابراہم لنکن کو لوگوں نے کہا کہ ملک میں خانہ جنگی ہے تو انتخابات کیسے ہوں گے لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے کہا کہ انتخابات ہر حال میں ہوں گے لیکن اس خط کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

انتخابات ترمیمی بل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ جب اس کی منظوری دی گئی تھی تو وہ حج کے لیے ملک سے باہر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 57 (1) کو تبدیل کیا گیا مگر میں نے اس پر دستخط نہیں کیے، میں حج پر گیا ہوا تھا لیکن واپس آنے تک قائم مقام صدر نے اس ایکٹ پر دستخط کرلیے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’قائم مقام صدر (صادق سنجرانی) پہلے ہی اس پر دستخط کر چکے تھے، اگر میں ایوان صدر میں ہوتا تو میں اس پر دستخط نہ کرتا۔‘

صدر عارف علوی نے اگست 2024 میں ایک بڑا تنازع کھڑا کردیا تھا جب انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے متنازعہ بلوں پر دستخط نہیں کیے تھے۔

عارف علوی نے کہا کہ ’خدا میرا گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکریٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیوں کہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے عملے سے بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ انہیں ’غیر موثر‘ بنایا جا سکے، لیکن ان کے عملے نے ایسا نہیں کیا اور جھوٹ بولا کہ بل واپس کر دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نواز شریف کے وطن واپسی کے موقع پر کیے گئے خطاب پر صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) ایک بیانیے کی تلاش میں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ عوام نے ان کو یہ بیانیہ تھمایا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف کے بیانیہ پر کیے گئے سروے میں 70 فیصد لوگوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، جس میں عمران خان کا نام بھی شامل تھا۔‘

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ اس بیانیے کو آگے بڑھائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ملک میں صاف و شفاف انتخابات ہوجائیں، جس میں سب کو حصہ لینے کا موقع ملے۔

نو مئی 2023 کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’میں نے بطور صدر اس واقعے کی مذمت کی تھی کہ اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا اور میں یہ بھی کہتا ہوں کہ آگے جانے کا راستہ کھلنا چاہیے۔‘

صدر نے کہا کہ ’میں نے عمران خان کو ہمیشہ مالی طور پر ایماندار پایا ہے، بہت کم لوگ ہیں جو ان پر مالی بے ایمانی کا الزام لگائیں گے، مجھے یقین ہے کہ وہ ایک محب وطن ہیں، مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں صدر پاکستان نے کہا کہ ’عمران خان میرے لیڈر ہیں کیونکہ قوم ان کی حمایت کرتی ہے، وہ وطن دوست ہیں۔‘

صدر مملکت نے پروگرام کے میزبان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سراہنا چاہتا ہوں، جنہوں نے متحد ہوکر دکھایا، عوامی سماعتیں شروع کیں اور قوم کو ان سے بڑی امیدیں ہیں، لہٰذا ان کے خلاف جاری ہونے والے ریفرنس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔

’وہ ریفرنس وزیراغظم ہاؤس سے آیا تھا، بعد میں وزیراعظم نے کہہ دیا تھا کہ میں تو دینا ہی نہیں چاہتا تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست