پاکستان: بارش و ژالہ باری، پنجاب میں ’سموگ کا زور ٹوٹ گیا‘

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں جمعرات کی شب سے بارشوں، برف باری اور ژالہ باری کا سلسلہ شروع ہوا۔

17 اگست 2023 کو لوگ موٹروے پر تیز بارش کے دوران جاتے ہوئے (اے ایف پی/ فاروق نعیم)

پاکستان کے مختلف علاقوں خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب میں جمعرات کو بارش و ژالہ باری کے بعد موسم سرد ہوگیا ہے جبکہ پنجاب میں سموگ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں جمعرات کی شب سے بارشوں، برف باری اور ژالہ باری کا سلسلہ شروع ہوا۔

لاہور اور پنجاب میں جمعرات کو رات گئے بارش ہوئی جو آٹھ ملی میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔ مگر راولپنڈی، اسلام آباد اور گردو نواح کے ساتھ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارش 80 ملی میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔

بعض علاقوں میں ژالہ باری بھی ہوئی۔ اس کے علاوہ ملکہ کوہسار مری کے اطراف اور شمالی علاقہ جات میں بارش کے بعد سے سردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سموگ: پنجاب میں جزوی لاک ڈاؤن کا پہلا دن

پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور اور بالائی پنجاب کے مختلف شہروں میں سموگ پر قابو پانے کے لیے جزوی لاک ڈاون کا پہلا دن ہے۔

لیکن بارش ہونے سے لاہور سمیت پنجاب میں ایئر کوالٹی انڈیکس بارش کے بعد 450 سے 150 تک دیکھنے میں آیا۔

محکمہ موسمیات پنجاب کے ڈائریکٹر چوہدری محمد اسلم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بارشوں کے اس سلسلے سے نہ صرف موسم سرد ہوگیا ہے بلکہ سموگ کا زور بھی ٹوٹ چکا ہے۔ بارش کا یہ سلسلہ پنجاب میں آئندہ 24 گھنٹے جبکہ شمالی علاقہ جات میں آئندہ 36 گھنٹے تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ پھر بارشوں کا یہ سلسلہ انڈیا اور دیگر ہمسایہ ممالک کی طرف چلا جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انڈیا کی طرف بادلوں کے جانے سے دہلی میں بارش کا امکان ہے جس سے وہاں بھی سموگ اور ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی آئے گی۔‘

چوہدری اسلم کے بقول، ’بارشوں کا یہ سلسلہ پاکستان سے اگلے 36 گھنٹے بعد نکلنے کا امکان ہے مگر آئندہ ہفتے پنجاب اور سندھ میں بارش کا امکان نہیں ہے۔ لیکن ان بارشوں اور برف باری سے ہوائیں سرد ہوں گی جس سے سردی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔‘

ماہر ماحولیات رافع عالم کے مطابق بارش کے اس سلسلے سے فضائی آلودگی اور سموگ میں کمی فطری ہے لیکن ہمیں اس کا مستقل حل کرنا پڑے گا۔

حکومت کی جانب سے انڈسٹریل ٹریفک، بھٹوں اور فصلوں کی باقیات جلانے سے متعلق سختی ہی واحد حل ہے کہ سموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پایا جائے۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حالیہ بارشوں سے لاہور اور پنجاب میں ایئر کوالٹی انڈیکس ضرور نیچے آیا ہے لیکن احتیاطی تدابیر پر مستقل عمل نہ کیا گیا تو چند دن بعد دوبارہ آلودگی کی شدت میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس لیے ہمیں قبل از وقت اور مستقل بنیادوں پر موثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ یہ مسئلہ پوری طرح حل ہوسکے۔‘  

اکتوبر کے آخری ہفتے سے ہی لاہور اور بالائی پنجاب کے مختلف شہروں میں سموگ نے فضا کو شدید آلودہ کر رکھا تھا۔ جس پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے کارروائی تو جاری تھی لیکن مکمل قابو نہیں پایا جاسکا۔

حکومت پنجاب نے اسی ضمن میں جمعے سے اتوار تک جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ جس کے تحت لاہور، گجرانوالہ، حافظ آباد، گجرات، منڈی بہاؤالدین سمیت کئی شہروں میں تعلیمی ادارے اور دفاتر بند ہیں طلبا اور ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب تاجر برادری کے مطالبے پر مارکیٹیں اور دکانیں ہفتے اور اتوار کو دو دن بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موسلا دھار بارش کے باعث واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) راولپنڈی نے ہائی الرٹ جاری کر دیا، نکاسی کے لیے واسا کا عملہ مشینری کے ساتھ نشیبی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا۔

ترجمان واسا کا کہنا ہے کہ مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) واسا شہر میں جاری نکاسی آب آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں، نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے عملہ مصروف عمل ہے۔

اسلام آباد، لاہور میں بجلی کی صورت حال

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بارش کے باعث 40 سے زائد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپینگ ہوئی ہے۔ لوہی بھیر، انگوری بلیو ایریا، یوسی روڈ، کھنہ ڈاک، ہائی وے، کورال فیڈرز پر فالٹ کا سامنا ہے۔

ترجمان آئیسکو کا کہنا ہے کہ خیابان اقبال، ترامڑی، پنڈی گھیب، سکیم تھری، لال کرتی، کہوٹہ سٹی چکلالہ فیڈرز بھی فالٹ کر گئے ہیں، آپریشن سٹاف فالٹ اور ٹریپنگ کلیئر کرنے کے لیے فیلڈ میں موجود ہے۔

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) ترجمان کے مطابق لاہور میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 75 سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے۔

فیڈرز ٹرپ ہونے اور دیگر تکنیکی خرابیوں کے باعث متعدد علاقے بجلی سے محروم ہوگئے۔

لیسکو فیلڈ سٹاف کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے بجلی بحالی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اوربجلی کی بندش سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لیسکو ترجمان نے کہا ہے کہ لیسکو فیلڈ سٹاف کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاہم بارش کے باعث بجلی بحالی کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان