غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 11 ہزار اموات، 41 ہزار مکانات تباہ: یو این

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کا کہنا ہے کہ غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں میں 41 ہزار سے زیادہ مکانات تباہ جبکہ سوا دو لاکھ مکانات متاثر ہوئے ہیں۔

10 نومبر، 2023 کو غزہ کی پٹی کی اس تصویر میں اسرائیل حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کا کہنا ہے کہ غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں میں 41 ہزار سے زیادہ مکانات تباہ جبکہ سوا دو لاکھ مکانات متاثر ہوئے ہیں۔

غزہ کی پٹی پر سات اکتوبر سے شروع ہونے اسرائیل کے زمینی، سمندری اور فضائی حملوں نے فلسطینی علاقے میں اتنے بڑے پیمانے پر افراتفری اور تباہی پھیلا دی جو اس علاقے میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں کے نقصانات کا تخمینہ شائع کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار غزہ کے حکام کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔

غزہ میں 11 ہزار سے زیادہ اموات

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں کے دوران غزہ میں ہونے والی اموات کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ غزہ میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 27 ہزار 490 ہو چکی ہے۔ 

اسرائیلی حملوں میں جان سے جانے والوں میں تین ہزار 27 خواتین جبکہ 4506 بچے شامل ہیں۔ 678 معمر افراد بھی ان حملوں میں جان سے گئے۔

رپورٹ کے مطابق 2700 افراد جن میں 1500 بچے شامل ہیں ابھی تک لاپتہ ہیں یا ملبے نیچے دبے ہو سکتے ہیں۔

مکانات کی تباہی

اقوام متحدہ کے دفتر رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے فلسطینی محکمہ پبلک ورکس اینڈ ہاؤسنگ  کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں 41 ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

 جب کہ  دو لاکھ 22 ہزار سے زیادہ مکانوں کو نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر غزہ کے کم از کم 45 فیصد رہائشی یونٹوں کو مبینہ طور پر نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے۔

ہسپتال اور سکول

10 نومبر کی رپورٹ میں او سی ایچ اے نے کہا کہ مبینہ طور پر 279 تعلیمی مراکز کو نقصان پہنچا جو کُل اداروں کا 51 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ غزہ کے چھ لاکھ 25 ہزار طلبہ میں سے کوئی بھی تعلیم تک رسائی کے قابل نہیں رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے نصف سے زیادہ ہسپتال اور تقریباً دو تہائی پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

 53 ایمبولینس گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر اور شمالی غزہ کے کُل 13 ہسپتالوں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پانی اور صفائی کا نظام

او سی ایچ اے کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی حملوں شروع ہونے کے بعد سے پانی کے استعمال میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔ اسرائیل سے آنے والی پانی کی تین میں سے دو پائپ لائنیں کام کر رہی ہیں۔

’مصر کی سرحد پر رفح اور جنوبی شہر خان یونس کے درمیان مرکزی پائپ لائن سے 50 فیصد پانی بہہ کر ضائع ہو رہا ہے۔ غزہ میں نکاسی آب کے لیے استعمال ہونے والے 65 فیصد پمپ ناکارہ ہو چکے ہیں۔

غذائی تحفظ

او سی ایچ اے کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں گندم جو 12 دن کے لیے کافی ہونی چاہیے، موجود ہے لیکن بجلی کی بندش کی وجہ سے علاقے کی واحد آپریشنل فلور مل اس گندم کو پیس نہیں سکتی۔ پکانے کے تیل، دالوں، چینی یا چاول کا کوئی سٹاک نہیں بچا۔‘

’لوگ کھانے پینے کا معمول سے آدھا سامان لینے کے لیے اوسطاً چار سے چھ گھنٹے قطار میں کھڑا رہنے پر مجبور ہیں۔‘

انسانی امداد

اسرائیلی حملوں سے قبل خوراک اور دوسرا سامان لے کر اوسطاً پانچ سو ٹرک روزانہ غزہ میں داخل ہوتے تھے۔ کے ٹرک خوراک اور سامان غزہ میں داخل ہوتے تھے۔

سات اکتوبر کے بعد تمام درآمدات بند ہو گئی تھیں جو 21 اکتوبر کو بحال ہوئیں جس کے بعد سے 10 نومبر تک امدادی سامان لے کر مجموعی طور پر 861 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے۔

معاشی اثرات

اقوام متحدہ کے معاشی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ای ایس سی ڈبلیو اے) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے پانچ نومبر کو مشترکہ رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک تقریباً تین لاکھ 90 ہزار ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی معاشی و معاشرتی صورت حال اسرائیلی حملوں سے پہلے بھی خراب تھی۔ 2020 میں لگائے گئے تخمینے میں غربت کی شرح 61 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔

اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی تخمینے میں غربت میں 20 سے 45 فیصد تک اضافہ متوقع ہے جس کا انحصار اسرائیلی حملوں کے دورانیے پر ہے۔

ان اداروں نے یہ پیش گوئی بھی کی ہے کہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے 2023 میں غزہ کو مجموعی قومی پیداوار میں چار سے 12 فیصد کا نقصان ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا