کیا پاکستان کے شہری مسجد اقصیٰ جا سکتے ہیں؟

پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانیوں پر مسجد اقصٰی کے دروازے بند ہو گئے یا بین الاقوامی قانون یہ حق دیتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ جا سکتے ہیں؟

22 اپریل 2022 کو فلسطینی شہری مسجدِ اقصیٰ کی حدود میں قومی پرچم لہراتے ہوئے (اے ایف پی)

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جب فلسطین کو تقسیم کرتے ہوئے یہاں فلسطین کے ساتھ ایک یہودی ریاست کے قیام کی قرارداد منظور کی تو اسی قرارداد میں یہ اصول طے کیا کہ بیت المقدس (یروشلم) کسی بھی ریاست کا حصہ نہیں ہو گا، اس کی بین الاقوامی حیثیت ہو گی اور یہ اقوام متحدہ کے انتظام میں دیا جائے گا۔

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کریں 

بیت المقدس فلسطین کا حصہ تھا، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اقوام متحدہ کے چارٹر کو پامال کرتے ہوئے جہاں یہودی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا، وہیں اس شہر کو فلسطین سے الگ کر دیا۔ جنرل اسمبلی قرارداد 181 کا پارٹ تین بیت المقدس شہر سے متعلق ہے۔ وہاں لکھا ہے:

  1. یروشلم شہر نہ اسرائیل کا حصہ ہو گا نہ فلسطین کا۔
  2. یہ ایک سپیشل اور بین الاقوامی حکومت ہو گی جو یروشلم کے معاملات کو دیکھے گی۔
  3. یہ سپیشل بین الاقوامی حکومت یہاں اقوام متحدہ کی جانب سے حکومت کرے گی۔
  4. اس خصوصی بین الاقوامی حکومت کا تعین بھی اقوام متحدہ کرے گی۔

یعنی پہلے اقوام متحدہ نے ناجائز طور پر فلسطین کو تقسیم کیا اور اس کی سلامتی کو پامال کرتے ہوئے وہاں ایک یہودی ریاست قائم کی، پھر اقوام متحدہ نے فلسطین سے بیت المقدس کا شہر بھی چھین کر اپنی عمل داری میں لے لیا جہاں مقامات مقدسہ تھے، پھر اقوام متحدہ اس شہر کی حفاظت بھی نہ کر سکی۔ آج یہ شہر اسرائیل کے قبضے میں ہے اور اقوام متحدہ بےبس کھڑی ہے۔

جنرل اسمبلی نے بین الاقوامی قانون کے تمام ضابطے پامال کرتے ہوئے اسرائیلی ریاست تو بنوا دی، لیکن بیت المقدس کا شہر کبھی بھی اسرائیل کا حصہ نہیں تھا۔ یہ آج بھی اسرائیل کا حصہ نہیں ہے، لیکن یہاں قبضہ اسی کا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریح پامالی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی وضع کردہ حدود سے باہر اسرائیل کے جتنے قبضے ہیں، اقوام متحدہ نے انہیں ناجائز قرار دے رکھا ہے۔ جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 194 میں بھی اسی اصول کا اعادہ کیا گیا۔

اقوام متحدہ کا کمیشن UNCCP بھی 1949 میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی کانفرنس میں یہی اصول طے کر چکا ہے۔ خود اسرائیل نے مصر اردن اور شام کے ساتھ جو معاہدہ 1949 میں کیا تھا جسے Armistice agreement  کہتے ہیں، اس کے مطابق بھی بیت المقدس اسرائیل کا حصہ نہیں ہے۔

 مشرقی بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ 1967 کی جنگ میں ہوا۔ اس جنگ میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کا قبضہ تو ہو گیا لیکن اقوام متحدہ نے اس قبضے کو ماننے سے انکار کر دیا اور قرار دیا کہ یہ اسرائیل کا حصہ نہیں ہے۔ چنانچہ اقوام متحدہ کی دستاویزات اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اس ناجائز قبضے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس علاقے کو آج بھی اسرائیل نہیں کہا جاتا بلکہ ’مقبوضہ فلسطین‘ کہا جاتا ہے۔

جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 22 نومبر 1967 کو قرارداد نمبر 242 منظور کی جس میں اسرائیل کو مقبوضہ جات خالی کرنے کا کہا گیا۔ بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا اور اسے یہاں سے نکل جانے کا کہا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ کوئی ایک ووٹ بھی مخالفت میں نہیں آیا، نہ ہی کوئی ملک ووٹنگ سے غیر حاضر رہا۔ امریکہ نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ خود اسرائیل نے اس پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔

مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل کے ناجائز قبضے کو جنرل اسمبلی میں بھی زیر بحث لایا گیا۔ چار جولائی 1967 کو قرارداد نمبر 2253 پاس کی گئی اور بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا۔

اس قرارداد کا مسودہ پاکستان نے تیار کیا تھا۔ 99 ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور کوئی ایک ملک بھی ایسا نہ تھا جس نے مخالفت میں ووٹ دیا ہو۔

اس قرارداد میں پانچ باتیں کہی گئیں:

  1. اسرائیل ایسے اقدامات کر رہا ہے جس سے وہ اس شہر کا سٹیٹس بدلنا چاہتا ہے۔
  2. اسرائیل کے یہ اقدامات ناجائز ہیں۔
  3. اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ ایسے اقدامات واپس لے اور مزید ایسے اقدامات سے باز رہے جن سے اس شہر کی حیثیت پر فرق پڑتا ہو۔
  4. سیکرٹری جنرل سے کہا گیا کہ وہ سلامتی کونسل کے سامنے معامالہ رکھے اور سات دن کے اندر اندر رکھے۔

لیکن جو اسرائیل خود جنرل اسمبلی کی محض ایک قرارداد سے وجود میں آیا اس کے نزدیک جنرل اسمبلی کی ان قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں جو اس کی راہ میں حائل ہوں۔

چنانچہ جنرل اسمبلی نے قرارداد 2253 کے بعد ایک اور قرارداد پاس کی، قرارداد نمبر 2254، اور اس میں اسرائیل کی مذمت فرما دی کہ وہ اس کی قراردادوں پر عمل نہیں کر رہا۔ deepest regret and concern of the non-compliance by Israel with resolution 2253  کے الفاظ استعمال کیے گئے۔

1980  میں اسرائیل نے اپنا دارالحکومت بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو سلامتی کونسل نے دو مزید قراردادوں ( قرارداد نمبر 476 اور قرارداد نمبر 478) میں اسرائیل کے اس ااقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا کہ جو شہر اسرائیل کو علاقہ ہی نہیں ہے وہ اس شہر میں دارالحکومت کیسے منتقل کر سکتا ہے۔

 سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ جنرل اسمبلی نے بھی اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ جنرل اسمبلی نے اسے چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی قرار دیا۔ یعنی یہ ایک جنگی جرم قرار پایا۔

 سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 672 میں ایک بار پھر واضح کیا گیا کہ بیت المقدس اسرائیل کا حصہ نہیں ہے اور اس پر اسرائیل کا قبضہ ناجائز اور غیر قانونی ہے۔

یہاں پر دو بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اگر اقوام متحدہ نے بیت المقدس کو اپنی نگرانی میں لیا تھا تو اب وہ اس کا دفاع کرنے میں کیوں ناکام ہو رہی ہے؟ کیا یہ اس کا فریضہ نہیں ہے کہ بیت المقدس کی اس حیثیت کو برقرار رکھے جو اس نے اپنی قرارداد میں طے کر دی تھی؟

اگر وہ اس میں ناکام ہوتی ہے تو کیا پھر قرارداد نمبر 181 فرسودہ نہیں ہو جاتی؟ اور فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام پر ہی سوال نہیں اٹھتے؟ کیا یہ مان لیا جائے کہ اسرائیل اقوام متحدہ سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور اس کے زیر انتظام علاقے پر بھی قابض ہو چکا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ جن ممالک نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا کیا یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری نہیں کہ اس کے باشندوں کو بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ تک آنے کی اجازت دے اور اس معاملے میں سہولیات فراہم کرے؟ یہ شہر بین الاقوامی قانون کی روشنی میں اسرائیل کا شہر نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کے انتظام میں ہے۔

تو کیا پاکستان جیسے ممالک کو اقوام متحدہ سے کہنا نہیں چاہیے کہ ہمارے شہریوں کو مسجد اقصیٰ کی زیارت کے لیے وہ اب خصوصی انتظامات کرے؟

بین الاقوامی قانون کی روشی میں جو شہر corpus separatum ہو اس کے دروازے ان ممالک کے شہریوں پر کیسے بند کیے جا سکتے ہیں جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہ کیا ہو؟

اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے والے ممالک کے شہریوں کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے corpus separatum میں آزادانہ طور پر جائیں اور مقامات مقدسہ کی زیارت کریں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر