دلیپ کمار سے شاہ رخ خان تک: بالی وڈ ستاروں کی کرکٹ سے نہ ختم ہونے والی دلچسپیاں 

دلیپ کمار اور موسیقار نوشاد کا یارانہ بالی وڈ تاریخ کی ناقابل فراموش دوستیوں میں سے ایک ہے۔ دونوں نے ’مغل اعظم‘ سمیت 14 فلمیں ساتھ کیں۔ اپنے اپنے شعبے کے یہ دو مہان پہلی بار کرکٹ سٹیڈیم میں ایک دوسرے سے ملے اور ہمارے حافظے میں ہمیشہ کے لیے یکجا ہو گئے۔

دلیپ کمار 2006 میں اداکار شاہ رخ خان کے ساتھ ممبئی میں (گوتم سنگھ/ایسوسی ایٹڈ پریس)

آسٹریلیا اور انڈیا کے درمیان کرکٹ ورلڈکپ کے فائنل میں آشا بھوسلے، شاہ رخ خان، دیپیکا پڈوکون، رنویر سنگھ، انوشکا شرما اور رنبیر کپور کو دیکھ کر نگاہوں میں کئی منظر گھوم گئے۔ انڈیا میں پھیلے کرکٹ سٹیڈیم جہاں سے کئی رومان پرور کہانیوں نے جنم لیا، بالی وڈ اور کرکٹ کی سانجھے داری، جو کئی فلموں کی بنیاد بنی۔ 

دلیپ کمار اور موسیقار نوشاد کا یارانہ بالی وڈ تاریخ کی ناقابل فراموش دوستیوں میں سے ایک ہے۔ دونوں نے ’آن‘، ’میلہ‘، ’دیدار‘، ’امر‘ اور ’مغل اعظم‘ سمیت 14 فلمیں ساتھ کیں۔ اپنے اپنے شعبے کے یہ دو مہان پہلی بار کرکٹ سٹیڈیم میں ایک دوسرے سے ملے اور ہمارے حافظے میں ہمیشہ کے لیے یکجا ہو گئے۔

دلیپ کمار کے بقول وہ ایک میچ دیکھنے کے لیے بمبئی کے جم خانہ کرکٹ سٹیڈیم میں موجود تھے۔ وہیں بیٹھے دو شخص ان کی طرف دیکھتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ انہیں تھوڑا تجسس ہوا۔ جب ہیلو ہائے ہوئی تو پتہ چلا کہ ایک موسیقار نوشاد علی ہیں اور دوسرے پروڈیوسر ڈائریکٹر محبوب خان۔ کھڑے کھڑے نوشاد نے انہیں ملاقات کی دعوت دی۔ اس وقت رتن کے موسیقار نوشاد فلم میں کامیابی کی ضمانت تھے۔ ایک موسیقار جو کسی بھی سپرسٹار سے بڑا سپرسٹار تھا۔

اگلے دن نوجوان دلیپ کمار پروڈیوسر ڈائریکٹر یو ایس سنی کے دفتر میں ان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ سنی صاحب نوشاد کو بطور موسیقار لے کر ایک فلم بنانا چاہ رہے تھے۔ یہ بھی دیکھیے کہ موسیقار پہلے کاسٹ ہو چکا ہے، مرکزی کردار ابھی دیکھا جا رہا ہے۔ 

دلیپ صاحب کے سامنے ’میلہ‘ فلم کی کہانی رکھی گئی جو انہیں پسند نہ آئی۔ اتنی دیر میں نوشاد نے ہارمونیم چھیڑا، جس نے نوجوان کو گرفت میں لے لیا۔ نوشاد نے کہا کہ یہ اسی فلم کا گیت ہے۔ کہانی پسند نہ آنے کے باوجود دلیپ کمار راضی ہو گئے اور اس طرح فلم بنی۔ یہ گانا تھا میرا دل توڑنے والے۔ 

محبوب خان کے ساتھ دلیپ کمار کی پہلی فلم ’انداز‘ تھی۔ یہ واحد فلم ہے جس میں دلیپ کمار، راج کپور اور نرگس نے ایک ساتھ کام کیا۔ ’انداز‘، ’آن‘ اور ’امر‘ اپنے وقت کی کامیاب ترین فلمیں تھیں جن میں نوشاد، محبوب خان اور دلیپ کمار تینوں شامل تھے۔ کرکٹ سٹیڈیم سے شروع ہونے والی یہ اننگز بالی وڈ کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ گئی۔ 

 ذاتی زندگی میں گہرے دوست راج کپور اور دلیپ کمار پروفیشنل زندگی میں ایک دوسرے کے حریف تھے۔ یہ مقابلہ بازی فلم کی دنیا سے ایک بار کرکٹ گراؤنڈ تک پہنچی۔ 

1961 کی چین انڈیا جنگ کے بعد بالی وڈ ستاروں نے فنڈ ریزنگ کے لیے ایک میچ کھیلا۔ ایک ٹیم کی قیادت راج کپور اور ایک کی دلیپ کمار کر رہے تھے۔ آئی ایس جوہر، آشا پاریکھ، وحیدہ رحمان، سائرہ بانو، شمی کپور، ششی کپور، منوج کمار، راجندر کمار اور محمود سمیت کئی نامور اداکار مدمقابل تھے۔ کیمرہ ایکشن کی صداؤں اور زرق برق ملبوسات سے دور سفید وردی پہنے گراؤنڈ میں ماہر فیلڈرز کی طرح گیند پر جھپٹ رہے تھے۔ یوٹیوب پر اس میچ کی مختصر ویڈیو موجود ہے۔ بالخصوص دلیپ کمار سفید وردی ایسے ہینڈسم نظر آتے ہیں کہ اففف۔

دلیپ صاحب کا ایک میچ عاصمہ رحمان کے ساتھ بھی کرکٹ سٹیڈیم سے شروع ہوا تھا۔ 1981 میں ہونے والی یہ خفیہ شادی دو سال چلی، جس پر دلیپ صاحب ہمیشہ ’شرمندگی‘ کا اظہار کرتے رہے۔

 بالی وڈ کی خوبصورت ابھینیتری رینا رائے ’ضرورت‘، ’جیسے کو تیسا‘ اور ’زخمی‘ جیسی فلموں سے 70 کی دہائی میں مشہور ہوئیں، مگر انہیں زیادہ شہرت پاکستانی اوپنر محسن خان کے ساتھ بیاہ رچانے سے ملی۔ 1980 کی دہائی کے آغاز میں بالخصوص پاکستانی اخبارات نے کئی رنگین ایڈیشن شائع کیے۔ رینا رائے اس کے بعد کافی عرصہ پاکستان میں رہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 بالی وڈ اور کرکٹ کے جس تعلق نے سب سے زیادہ پیار سمیٹا، وہ انوشکا اور ویرات کوہلی کا ہے۔ اگر انڈیا اور پاکستان کے نوجوانوں کے لیے کہیں کوئی مثالی جوڑا وجود رکھتا ہے تو وہ یہی ہیں۔ ویسے کرن جوہر کو دیے گئے انٹرویو سے پہلے رنویر اور دیپیکا بھی ایسا ہی درجہ رکھتے تھے۔ 

2019 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کوہلی کے آؤٹ ہونے کو انوشکا شرما سے جوڑا گیا تھا۔ توہم پرست انڈین شائقین کے لیے انوشکا کی موجودگی کوہلی کے لیے بدقسمتی کا باعث بنتی ہے۔ کوہلی نے کبھی اس بات کا یقین نہیں کیا۔ چند روز قبل نیوزی لینڈ اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے سیمی فائنل میں کوہلی نے ٹنڈولکر کی 50 سینچریوں کا ریکارڈ توڑا۔ اس دوران کیمرہ مین سمیت پوری دنیا کی توجہ ٹنڈولکر اور انوشکا کے ری ایکشن پر تھی۔ یہ بہت خوبصورت منظر تھا جو آج کی نوجوان نسل کبھی نہ بھول سکے گی۔ 

عامر خان نے ’لگان‘ فلم بنائی، جس کی کہانی کرکٹ کے گرد گھومتی ہے، لیکن حقیقی زندگی میں شاہ رخ اس کھیل سے بہت گہرے جڑے۔ انہوں نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی فرنچائز خریدی اور عامر، سلمان کے برعکس ہمیشہ کرکٹ کے میدانوں میں نظر آئے۔ 

ورلڈ کپ فائنل کے دوران وہ اسی سٹیڈیم میں تھے جس کے دروازے 2012 میں ان پر پانچ سال کے لیے بند کیے گئے تھے۔ سکیورٹی اہلکار سے الجھنے اور فیلڈ میں جانے کی ضد کرنے پر ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن نے ان پر یہ پابندی لگائی تھی۔ عام طور پر سٹیڈیم میں ان کی موجودگی ایک پورا ایونٹ ہوتا ہے، لیکن اس بار فائنل خود انڈیا کے لیے ایونٹ نہ بن سکا تو بالی وڈ کنگ بیچارے کیا کرتے۔ خاموش، گم سم ایک طرف ایسے بیٹھے رہے جیسے میر کے شعروں میں عاشق نامراد سہما رہتا ہے۔ 

کپل دیو انڈیا کیا دنیا کے بہترین آل راؤنڈر میں سے ایک ہیں۔ 1983 میں انڈین ٹیم نے ان کی قیادت میں ورلڈ کپ جیتا تھا۔ کرکٹ کے میدانوں سے بالی وڈ سٹارز جیسی مقبولیت حاصل کرنے والے پہلے دو انڈین کھلاڑی کپل دیو اور سنیل گواسکر تھے۔ المیہ یہ ہے کہ کپل دیو نے شکایت کی کہ انہیں ورلڈکپ فائنل دیکھنے کے لیے دعوت نہیں دی گئی تھی۔ لطیفہ یہ ہے کہ رنویر سنگھ نے ان پر بننے والی فلم 83 میں مرکزی کردار ادا کیا، انہیں خصوصی دعوت دی گئی تھی۔ 

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ