کیا ’بلیسڈ فرائی ڈے‘ سیل سے خریداروں کو کچھ فائدہ بھی ہوتا ہے؟

لاہور کی معروف لبرٹی مارکیٹ کی کاروباری شخصیت سہیل سرفراز منج کا کہنا ہے کہ بلیسڈ فرائی ڈے سیل کی روایت کو پاکستان میں شروع ہوئے صرف پانچ، چھ سال ہی ہوئے ہیں اور یہ سیل زیادہ تر کپڑوں اور جوتوں وغیرہ پر لگتی ہے۔

نو مئی 2023 کی اس تصویر میں راولپنڈی کی ایک مارکیٹ میں واقع ایک دکان کا منظر(اے ایف پی)

سال کے آخری مہینے آتے ہی ہمیں بلیسڈ فرائی ڈے سیل، وائٹ فرائی ڈے، بگ فرائی ڈے، فنٹاسٹک فرائی ڈے، برائٹ فرائی ڈے سیل، گریٹ ویک اینڈ سیل اور ایسے ہی کئی اور نام سننے کو ملتے ہیں۔

ویسے تو نومبر کے مہینے میں مختلف برانڈز پر مختلف اشیا پر سیلز لگ جاتی ہیں، لیکن نومبر کے آخری جمعے کو خاص سیل کا اہتمام کیا گیا ہے، جو مختلف برانڈز کی دکانوں اور آن لائن شاپنگ کے لیے ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اسی حوالے سے مزید جاننے کے لیے کاروباری شخصیات اور صارفین سے بات کی تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ عوام ’بلیسڈ فرائی ڈے‘ سیل سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں۔

چین سٹور ایسوسی ایشن کے چیئرمین رانا طارق محبوب اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ان سیلز سے عوام کو تو فائدہ ہوتا ہی ہے لیکن تاجر بھی اس حوالے سے پوری حکمت عملی بناتے ہیں کہ انہیں کون سا مال پوری قیمت پر اور کون سا ڈسکاؤنٹ پر فروخت کرنا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: ’پہلے یہ ہوتا تھا کہ خریدار کو موسم کے آخر میں ڈسکاؤنٹ ملتا تھا لیکن اب موسم شروع ہوتے ہی اسے فائدہ ہو جاتا ہے۔ دکانوں پر سردیوں کا سٹاک چند روز پہلے ہی آیا ہے اور بلیسڈ فرائی ڈے پر خریدار کے پاس یہ موقع ہے کہ اسے اپنی مرضی کی چیز خریدنے کے لیے رعایت مل رہی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سیلز کا یہ سلسلہ صرف بلیسڈ فرائی دے تک محدود نہیں ہے بلکہ اب تو کئی لوگ سیزن شروع ہوتے ہی 15، 15 دن کی سیل لگا دیتے ہیں۔ مختلف برانڈز مختلف اشیا پر مختلف ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں جس سے خریدار کے لیے آسانی ہو گئی ہے کہ وہ اس مہنگائی کے دور میں موسم کی مناسبت سے اپنی ضروریات کی چیزوں کو خرید سکے۔‘

رانا طارق کے خیال میں ’بزنس مین کی بات کریں تو ان کے پاس ایک سٹریٹجی ہوتی ہے کہ انہوں نے کتنا مال پوری قیمت پر بیچنا ہے، کتنا ڈسکاؤنٹ پر بیچنا ہے اور جو نہیں بکے گا اس کا کیا کرنا ہے۔‘

انہوں نے واضح کیا: ’اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اگر آپ ایک جہاز کا ٹکٹ خریدتے ہیں تو وہ ایک خاص وقت میں آپ کو سستی مل جاتی ہیں تو کیا وہ واقعی میں سستی ہوتی ہیں؟ وہ سستی ہی ہوتی ہیں لیکن جیسے جیسے بکنگ ہوتی جاتی ہیں باقی بچنے والی سیٹس کی قیمت بڑھ جاتی ہیں۔ پورے جہاز کے لیے منصوبہ بنا ہوتا ہے کہ اس فلائٹ کی کتنی سیٹیں کس کس قیمت پر بُک کرنی ہیں۔‘

لاہور کی معروف لبرٹی مارکیٹ کے صدر سہیل سرفراز منج نے جمعے کی اس سیل کے حوالے سے بتایا: ’جمعے کی اس سیل کی روایت کو پاکستان میں شروع ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ یہی کوئی پانچ، چھ سال ہی ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ویسے تو ہمارے ہاں جتنے برانڈز ہیں وہ سیل لگا کر ہی رکھتے ہیں کیونکہ اسی طرح ان کا سٹاک بکتا ہے ورنہ تو اب سیلز ہوتی ہی نہیں۔ ہمارے لوگوں کی ایک نفسیات ہے کہ سیل لگے گی تو ہم چیز خریدیں گے چاہے اس چیز کی قیمت اتنی ہی ہواور کم ہی نہ کی گئیں ہوں۔‘

بقول سہیل سرفراز: ’یہ سیل زیادہ تر کپڑوں اور جوتوں وغیرہ پر لگتی ہے، اس میں الیکٹرانکس کی چیزیں یا ہوم اپلائنسسز کے اوپر کوئی سیل نہیں لگتی۔‘

ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’اس جمعے کی سیل پنجاب میں دکان داروں کے لیے متاثر ہوئی ہے کیونکہ حکومت نے سموگ کی صورت حال کے پیش نظر مارکیٹیں جمعے اور ہفتے کی سہ پہر تین بجے تک بند رکھنے کا نوٹفیکیشن جاری کیا ہوا ہے۔ ‘

سہیل کا کہنا تھا کہ ’اس بلیسڈ فرائی ڈے کے نام پر برانڈز والوں کو سیل لگانے کا ایک اضافی دن مل گیا ہے۔‘

تہمینہ خاکوانی لاہور کی رہائشی ہیں اور شاپنگ کا شوق رکھتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے تہمینہ نے بتایا: ’چند برس پہلے جب بلیسڈ فرائی ڈے کی سیل کا آغاز ہوا تو میں اپنی بیٹی کے ساتھ شاپنگ کرنے نکلی ہوئی تھی۔ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس قسم کی کوئی سیل لگی ہوئی ہے۔

’ہم کپڑوں کے ایک معروف برانڈ کی دکان پر گئے تو وہاں بہت رش لگا ہوا تھا۔ ہم نے وہاں سیل سے ایک قمیص خریدی جو اپنی اصل قیمت سے 500 روپے سستی ملی۔ ہم خوش ہو گئے اور قمیص خرید کر گھر آگئے، بعد میں ٹی وی پر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہم نے وہ قمیص بلیسڈ فرائی ڈے سیل سے خریدی تھی۔‘

ایک بین الاقوامی چین کے ایک سٹور کی فنانس ہیڈ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا کہ ’بلیسڈ فرائی ڈے دراصل نان فوڈ انڈسٹری کے لیے سال کے آخر میں سیلز میں اضافہ کرنے کی غرض سے منایا جاتا ہے۔ اس میں ٹیکسٹائل، بیگز، میک اپ انڈسٹری اور جوتوں وغیرہ کے برانڈز سیل لگاتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ ’جب کلیئرنس سیل لگتی ہے تو برانڈز کی سیل میں اضافہ ہوتا ہے اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کتنا مارجن کھینچ کر وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ٹرن اوور پیدا کر سکتے ہیں اور اسی میں برانڈز اپنا پرانا سٹاک بھی نکال دیتے ہیں، جس سے ان کو فائدہ ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سیل نئی چیزوں پر نہیں لگتی بلکہ زیادہ تر گذشتہ سال کے سٹاک پر لگتی ہے اور نہ ہی یہ 100 فیصد اشیا پر ہوتی ہے بلکہ چند گنے چنے آئٹمز پر ہوتی ہے۔‘

لاہور کی رہائشی ملیکہ بخاری آن لائن شاپنگ کی دلدادہ ہیں اور ان قسم کی سیلز سے ضرور فائدہ اٹھاتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ملیکہ کا کہنا تھا: ’جمعرات کی رات 12 بجے سے مختلف برانڈز نے سوشل میڈیا پر شور مچایا ہوا ہے۔ کوئی 20 سے 30 فیصد ڈسکاؤنٹ دے رہا ہے تو کئی 40 فیصد اور کوئی 50 فیصد۔

’میں تو حیران ہوں کیونکہ رات میں نے بھی کوشش کی لیکن یا تو میرے من پسند کپڑوں میں سائز نہیں تھا، یا پھر کپڑے خریدنے کے لیے آن لائن باسکٹ میں ڈالے تو الرٹ آگیا کہ ایک ہی پیس رہ گیا ہے اس لیے جلدی کریں اور یوں باقی چیزیں دیکھتے دیکھتے جو سوٹ چنا تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل گیا اور اسے میری باسکٹ سے نکال کر کسی اور کو بیچ دیا گیا۔‘

ملیکہ کہتی ہیں: ’مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ برانڈز پر اب تو سیل سارا سال ہی لگی رہتی ہے۔ کچھ برانڈز نے تو اپنی آن لائن شاپنگ سائٹ پر سیل کا آپشن مسلسل رکھا ہوا ہے۔ اس میں دکھائی دینے والا سٹاک ایک دو سال پرانا بھی ہوتا ہے لیکن کیا فرق پڑتا ہے کہ چیز آپ کو اپنے سائز میں اور سستی گھر بیٹھے مل جائے۔‘

لاہور کی ہی رہائشی مسز انیق نے بلیسڈ فرائی ڈے سیل کے حوالے سے کہا کہ ’یہ سیل بڑی مزے دار ہوتی ہیں۔ اگر آن لائن کچھ نہ کچھ ہاتھ لگ جائے تو ضرور لے لیتی ہوں لیکن ویب سائٹس بھی سیل کے وقت جام ہو جاتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو معمول کی قیمتوں پر چیز نہیں خرید پاتے جیسے کہ طالب علم، لہذا وہ ایسی سیلز کا انتظار کرتے ہیں اور جہاں ایک قیمت میں ایک چیز لینی ہوتی ہے وہ اس قیمت میں دو تین چیزیں خرید لیتے ہیں اور بعض اوقات تو انہیں بڑی اچھی ڈیلز بھی مل جاتی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت