عظیم فاتح یا پاگل انا پرست قاتل: نپولین کون تھے؟

کچھ کے نزدیک وہ ایک شاندار بصیرت رکھنے والے شخص تھے جنھوں نے فرانس کو عظیم بنایا جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک جابر اور مطلق العنان تھے۔

فلم نپولین سے لیا گیا ایک منظر (اے پی)

سب قوموں کے ماضی میں ایسی شخصیات اور واقعات ہوتے ہیں جن کے بارے میں وہ منقسم ہیں۔ انگریزوں کے لیے بلاشبہ یہ سلطنت ہے۔

اگرچہ ان کا دفاع کرنے والوں کے بقول انہوں نے بہت ساری دنیا کو مہذب بنایا، لیکن ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سلطنت نے اسے (بہت ساری دنیا کو) غلام بنایا ہے۔

فرانسیسیوں کے معاملے میں، جو موضوع سب سے زیادہ تقسیم کا باعث بنتا ہے وہ ان کا اپنا شاہی منصوبہ نہیں، بلکہ نپولین بوناپارٹ کے کردار اور وراثت کا ہے۔

کچھ لوگوں کے نزدیک وہ سپاہی اور حکمران، ایک شاندار بصیرت رکھنے والے شخص تھے جنھوں نے فرانس کو عظیم بنایا، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک جابر اور مطلق العنان تھے، اور فرانس کو ایک ایسے شخص پر شرم آنی چاہیے جو ہٹلر یا پوتن سے تھوڑا ہی بہتر تھا۔

نپولین حال ہی میں ریلیز ہوئی ایک اور بڑے بجٹ والی بائیوپک (فلم) کا موضوع ہے۔ ریڈلے سکاٹ کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں جوکوئن فینکس نے بگ مین کا کردار ادا کیا ہے بلکہ اگر نپولین کے چھوٹے قد کی کہانیوں پر یقین کیا جائے تو اتنے بڑے آدمی بھی نہیں۔

اور وینیسا کربی نے ان کی مہارانی جوزفین کا کردار نبھایا ہے۔ فلم میں نپولین کے اقتدار میں آنے کے ہنگامہ خیز پس منظر میں جوڑے کے تعلقات دکھائے گئے ہیں۔

اگرچہ فلم کو اینگلوفون (برطانوی) ناقدین کی طرف سے کافی زیادہ سراہا گیا، لیکن کچھ فرانسیسی سکاٹ کی کہانی سے خوش نہیں۔

فرانسیسی ناظرین نے اسے تاریخی غلطیوں کی ایک جھلک کے طور پر پیش کیا۔ ان میں لیس انویلیڈس میں فوجی عجائب گھر کی کیوریٹر ایمیلی روبی بھی شامل ہیں، جنہوں نے نشاندہی کی کہ نپولین میری انتونیت کی تقریب میں موجود نہیں تھے، اور نہ ہی وہ ان کے آدمیوں کے ساتھ گئے، اور نہ ہی اہرام مصر پر فائرنگ کی۔

دیگر فرانسیسی ناقدین نے ’فرانسیسی مخالف اور برطانیہ نواز‘ ہونے اور نپولین کی اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے فلم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

لی فیگارو نے کہا کہ جو شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ’سادہ ذہن، اوسط درجے کی اور مضحکہ خیز‘ ہے، اور اس کے علاوہ یہ کورسیکن شیطان، ایک اداس اور اپنی بیوی کے ساتھ برے‘ سے زیادہ کچھ نہیں۔

سکاٹ نے اس طرح کی تنقید کو اچھی طرح سے قبول نہیں کیا، اور جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا 49 سالہ فینکس اپنی آدھی عمر کے شخص کا کردار ادا کرنے کے لیے زیادہ بوڑھے نہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس کی پرواہ نہیں اور انٹرویو لینے والے کو چاہیے کہ وہ ’آپ کے مؤرخین کو بتائے۔‘

جب اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ فلم تاریخی طور پر غلط ہے، تو سکاٹ نے اس طرح کے بہانوں کا بھی سہارا لیا، ’میرا جواب ہے کہ آپ کو کیسے پتہ؟ کیا آپ وہاں تھے؟‘

یقیناً اس طرح کا ردعمل تاریخی کاوشوں کے خلاف ہے، اور اتنا ہی مضحکہ خیز جتنا کسی قتل میں ایک جاسوس کا بتانا کہ وہ سچ نہیں جانتا۔ (اسے ثبوت کہتے ہیں) لیکن جس طرح یہ فلم تفرقہ انگیز ثابت ہو رہی ہے، اسی طرح خود نپولین کا کردار بھی، ایک ایسی شخصیت ہے جو آج بھی فرانس کو تقسیم کرتی ہے۔

ایسا ہی سلطنت برطانیہ کے ساتھ ہے، مخالفین کے لیے مقدمہ تیار کرنا کافی آسان کام ہے۔ جن لوگوں کے پاس نپولین کے لیے زیادہ وقت نہیں ان میں فرانس کے سابق وزیراعظم لیونل جوسپن بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک بار نیوز ویک کو بتایا تھا کہ وہ ’نپولین کی عظمت اور فرانس اور یورپ میں سامنے آنے والے حقیقی نتائج کے درمیان فرق سے حیران ہیں۔‘

جوسپن کی بات میں دم ہے۔ اگرچہ نپولین نے یقینی طور پر بہت زیادہ فوجی کامیابی حاصل کی، لیکن جب وہ ناکام ہوئے تو، وہ کئی بار ناکام رہے۔

ٹریفلگر کی جنگ نپولین کے لیے اتنی اچھی نہیں رہی اور نہ ہی واٹرلو۔ صرف جزیرہ نما کی جنگ میں پانچ لاکھ فرانسیسیوں کے مرنے کا تخمینہ لگایا گیا۔

یہ وہ اعداد و شمار ہیں جنہیں 1812 میں روس کے اندر نپولین کی انتہائی تباہ کن مہم کے دوران دہرایا جانا تھا۔

اس طرح کے اعداد و شمار ایک صدی یا اس کے بعد ہونے والی دونوں عالمی جنگوں میں بھی بہت بڑے سمجھے جائیں گے، لیکن جب فرانس کی کل آبادی صرف تین کروڑ تھی تو 10 لاکھ افراد کا مرنا واضح طور پر بالکل تباہ کن تھا۔

اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جوسپن جیسے لوگ نپولین کو ’ایک واضح ناکامی‘ سمجھتے ہیں، جنھوں نے بالآخر فرانس کو تنہا اور کمزور چھوڑا۔

اس کے علاوہ نپولین کے ناقدین یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ خود کو بادشاہ بنا کر اور اپنے خاندان کے افراد سے ایک نئی اشرافیہ تشکیل دے کر، انہوں نے فرانسیسی انقلاب کے اصولوں کو کمزور کیا، جس نے آخر کار، ایک ناجائز بادشاہت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

مزید برآں نپولین اور جوزفین کے زندگی کی معمولی چیزوں – جیسا کہ تقریباً 40 محلات اور 54 ہزار قیمتی پتھروں – پر خرچ نے لوئس16 اور میری انتونیت کو مثبت طور پر کفایت شعار بنا دیا۔

پھر یہ کڑوا سچ ہے کہ نپولین جلاوطنی میں مرے، ایک شکست خوردہ آدمی جو گھر سے ہزاروں میل دور جنوبی بحر اوقیانوس میں قید تھے۔

انھیں سینٹ ہیلینا کے جزیرے پر ایک ایسے گھر میں رکھا گیا، جس کو ان کے ساتھ رہنے والوں میں سے ایک نے ’چند فٹ مربع، ایک چھوٹی سی بدبودار جگہ‘ کے طور پر بیان کیاا، اور جس کے متعلق ان کے نوکروں نے ’سردی، گرمی، نم فرش اور ناقص انتظام‘ کی شکایت کی تھی۔

اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ چوہوں کے طاعون سمیت جلاوطنی نے کبھی طاقت ور رہنے والے نپولین کو تقریباً پاگل کر دیا۔

ایک موقعے پر نپولین نے اپنے برطانوی اغوا کاروں کی مسلسل نگرانی کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اپنے گھر کی تمام کھڑکیوں کو شٹروں سے بند کر دیا تھا، جس میں پائپ ہول کھودے گئے تھے تاکہ وہ باہر دیکھ سکیں، لیکن کوئی اندر نہیں دیکھ سکتا تھا۔

موت ان کی واحد رہائی تھی، لیکن وہ بھی، صرف 51 سال کی عمر میں، بدترین تھی، کیوں کہ وہ مہینوں تک پیٹ میں شدید درد کا شکار رہے، یا تو حادثاتی طور پر آرسینک زہر یا پیٹ کے کینسر کی وجہ سے۔

جب کوئی ویلنگٹن، نیلسن اور چرچل جیسے برطانوی قومی ہیروز کے بارے میں سوچتا ہے، تو بہت کم لوگ ہمت ہارے اور تنہائی میں مارے گئے، جنہیں ہمارے دشمنوں نے دور دراز جزیروں پر یرغمال بنا رکھا تھا۔

ناقدین کے لیے بہت کچھ ہے۔ فرانس میں آج بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جو کمزور بوڑھے کی عزت کرتے اور کہتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریہ کو بچایا۔

وہ جن کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ان میں سے ایک نپولین کوڈ ہے، جس نے بہت سارے ظالمانہ جاگیردارانہ قانون کی جگہ لے لی، اور جو بہت سارے ممالک میں آج کے بہت سے قوانین کی بنیاد ہے۔

ان کے مداح اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بوناپارٹ ایک انتہائی اچھے منتظم تھے، جن کی نگاہ تفصیلات کے لیے سب سے زیادہ حیرت انگیز تھی۔

اس حد تک کہ انھوں نے ایک بار ایک جنگ کے موقعے پر لڑکیوں کے بورڈنگ سکول کے قواعد لکھے تھے۔

اس کے علاوہ، انھوں نے بینک آف فرانس، ایک قومی آڈٹ آفس، سکولی تعلیم کا ایک نظام ، اور یہاں تک کہ میٹرک سسٹم بھی قائم کیا۔

یقیناً یہ جنگ تھی کہ نپولین نے واقعی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اور انھوں نے جو 60 جنگیں لڑیں، ان میں سے صرف آٹھ میں شکست ہوئی۔

انھوں نے کچھ شاندار فتوحات بھی حاصل کیں، جن میں سب سے بہترین فتح دسمبر 1805 میں آسٹرلٹز میں تھی، جس میں انھوں نے روسی اور آسٹریا دونوں سلطنتوں کو شکست دی اور جس کے بعد معاصر فرانس میں بہت ساری سڑکوں کے نام رکھے گئے۔

لیکن ان تمام کامیابیوں میں، چاہے وہ عسکری ہوں یا انتظامی، سب سے بڑا کارنامہ نپولین کا خود تھا۔

وہ ایک ایسے شخص تھے جو کورسیکا کے ایک چھوٹے سے شریف خاندان سے اٹھ کر دنیا کی سب سے طاقت ور قوموں میں سے ایک کا بادشاہ بنے۔

برطانیہ میں ان جیسا شخص جرسی جیسے جزیرے پر ایک غیر معروف لیکن خوش حال خاندان میں پیدا ہوگا اور ملکہ وکٹوریہ اور وزیراعظم دونوں کا مرکب ان کا اختتام ہوگا۔

ان کے عزائم بے مثال تھے۔ ایک بار ان کے بھائی نے کہا تھا: ’وہ مجھے ظالم ہونے کے لیے موزوں معلوم ہوتے ہیں، اور مجھے لگتا ہے کہ اگر وہ بادشاہ ہوتے، اور ان کا نام آنے والوں کے لیے خوف ناک ہوتا۔‘

مت بھولنا، وہ ایک ایسے شخص تھے جنھوں نے خود کو بادشاہ کا تاج پہنایا تھا۔ چونکہ وہ صرف 5 فٹ 7 انچ کے تھے ، اس طرح کے انداز کو کلاسک سمال مین سنڈروم سے منسوب کیا جاسکتا ہے، لیکن اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ نپولین کا قد ان کے وقت کے لیے خاص طور پر جھینگے جیسا نہیں تھا۔

درحقیقت، وہ اوسط قد کے تھے، اور ان کے چھوٹے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ برطانوی کارٹونسٹوں نے انھیں اس طرح بنایا تھا۔

ان کا رپورٹ کردہ قد 5 فٹ 2 انچ، انچ کے نظام پر مبنی تھا جو 2.54 سینٹی میٹر کے بجائے 2.7 سینٹی میٹر تھا۔

سلطنت برطانیہ کے مسئلے کے طرح، نپولین کے بارے میں فرانسیسی نقطہ نظر کم و بیش پارٹی لائنوں تک میں منقسم ہے۔

سیاسی منظرنامے کے دائیں بازو کے لوگ نپولین کو ایک ہیرو کے طور پر دیکھتے ہیں، جنھوں نے مضبوط ادارے بنائے اور طویل عرصے کے لیے فرانس کو عظیم بنایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بائیں بازو کے لوگ انھیں ایک ظالم کے طور پر دیکھتے ہیں، ایک ایسا شخص جس نے لوگوں کو غلام بنایا، آمریت سے حکومت کی اور بالآخر فرانس کو کمزور کیا، اور ہٹلر کی طرح، ملک کو صرف اپنے عزائم کے لیے ایک گاڑی کے طور پر استعمال کیا۔

اگرچہ دونوں فریق نپولین کی وراثت پر کبھی متفق نہیں ہوسکتے، لیکن شاید ایک چیز ہے جس پر پورا فرانس متفق ہوسکتا ہے- بوناپارٹ بہت، بہت بہت فرانسیسی تھے۔

وہ یقینی طور پر ایک عام فرانسیسی کے دقیانوسی تصور سے مطابقت رکھتے تھے، کم از کم ان کے فکری غرور، انگریزوں کے لیے ان کی نفرت – جنھیں وہ ’دکانداروں کی قوم‘ کہتے تھے – اور ازدواجی وفاداری کے لیے ان کا لچک دار رویہ۔

اپنی ملکہ جوزفین کے ساتھ ان کے تعلقات اس بات کی ایک مثال تھے کہ ایک فرانسیسی سیاست دان کو اپنی بیوی کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔

نپولین جوزفین کے متعلق جذباتی تھے، جیسا کہ ان کے خطوط سے پتہ چلتا ہے: ’مجھے امید ہے کہ میں بہت جلد آپ کو اپنی بانہوں میں لوں گا،‘ جبکہ دوسرے میں، انھوں نے دکھایا کہ وہ جوزفین کے لیے کتنا ترستے ہیں۔

’میں اکیلا اور دور، بہت دور رہوں۔ گا لیکن آپ آ رہے ہیں، ہے نا؟‘

یہ سارا جذبہ نپولین کو خواتین رکھنے سے نہیں روک سکا، جن میں سے ایک ان کے ساتھی افسر کی بیوی تھی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کم از کم دو غیر قانونی بچوں کے والد ہے۔

تاہم، نپولین کی شادی میں بے وفائی یک طرفہ نہیں تھی کیونکہ جوزفین کے بھی بہت سے عاشق تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی شادی بہت فرانسیسی تھی۔

یقیناً جو بات اہم ہے وہ یہ کہ عام طور پر فرانسیسی ہونا ایک اچھی چیز یا بری ہے۔ یہ ایک ایسی بحث ہے جو یقینی طور پر کبھی حل نہیں ہوگی۔

’نپولین‘ 22 نومبر سے سینما گھروں کی زینت بنی ہوئی ہے اور ایپل ٹی وی پلس پر بھی سٹریم کے لیے دستیاب ہوگی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فلم