مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف میں اتحاد کن شرائط پر ہوا؟

مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ کے اتحاد اور ملاقاتوں سے سیاسی منظر نامہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو بڑی سیاسی جماعتوں میں اتحاد کن شرائط پر ہو رہا ہے۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف چار دسمبر 2023 کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا استقبال کرتے ہوئے (مسلم لیگ ن ایکس اکاؤنٹ)

پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے، سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ اور میل ملاقاتوں کا سلسلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) فضل الرحمٰن کے اتحاد اور ملاقاتوں سے سیاسی منظر نامہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں جن کا چاروں صوبوں میں اثر و رسوخ موجود ہے، ان میں اتحاد کن شرائط پر ہو رہا ہے۔

مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کے بقول تمام سیاسی اتحادیوں کے ساتھ معاملات کو حتمی طور پر طے کر لیا گیا ہے۔ ’اتحادیوں کے ساتھ مل کر انتخابی حکمت عملی بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ کہیں اتحادی ہمیں سپورٹ کر رہے ہیں اور کئی جگہ ہم اپنے اتحادیوں کی حمایت کریں گے، تاہم حکومت کی تشکیل سے متعلق فیصلے انتخابی نتائج کے بعد ہی کیے جائیں گے۔‘

دوسری جانب جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن سے ہمارا اتحاد پی ڈی ایم سے بھی پہلے کا ہے۔ ’ہم نے ان کے ساتھ بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں نہ صرف سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بلکہ متحد ہو کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں ہمارے امیدوار مضبوط ہوں گے، وہاں مسلم لیگ ن اور جس حلقے میں مسلم لیگ ن کا امیدوار ہوگا وہاں ہم ان کی حمایت کریں گے۔ حلقوں سے متعلق جائزہ لینے کے لیے صوبائی سطح پر مشترکہ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاست میں لین دین کے بغیر اتحاد نہیں بنتے، اس لیے مسلم لیگ ن اور جے یو آئی میں اتحاد سے ویسے تو دونوں کو فائدہ ہے، لیکن خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حمایت ملنے پر جے یو آئی کو زیادہ فائدہ پہنچنے کا امکان ہے اور مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت نے زیادہ نشستیں حاصل کر لیں تو وہ حکومتی عہدوں میں نمایاں حصہ لینے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔

تاہم مولانا فضل الرحمٰن کے کامیابی کی صورت میں ان کے صدر مملکت بننے کے امکان پر تجزیہ کاروں کی رائے منقسم ہے۔

دونوں جماعتوں میں کیا طے پایا؟

اس سوال کے جواب میں ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہم نے گذشتہ کئی سالوں سے مسلم لیگ ن کے ساتھ مضبوط سیاسی اتحاد بنایا ہوا ہے۔ ان عام انتخابات کے حوالے سے بھی ہمارے معاملات طے ہیں، جس کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہمارے امیدوار زیادہ نشستوں پر مضبوط ہیں اور مسلم لیگ ن ان کی حمایت کرے کی۔ پنجاب میں بیشتر جبکہ دیگر صوبوں میں جو مسلم لیگ ن کے امیدوار مضبوط ہیں وہاں ہم امیدوار کھڑا نہیں کریں گے۔‘

اسلم غوری کے بقول: ’سندھ میں ہم مسلم لیگ ن، مسلم لیگ فنکشنل اور ایم کیو ایم سے مل کر انتخابی اتحاد کے تحت حکمت عملی بنا رہے ہیں، لہذا ہمیں امید ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کا اتحاد وفاقی سطح پر واضح برتری حاصل کرنے میں کامیابی کا موجب بنے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک حکومتی عہدوں کا تعلق ہے، وہ انتخابات میں حاصل نشستوں کے مطابق طے ہوگا۔ البتہ مولانا فضل الرحمٰن کے صدر پاکستان کا امیدوار ہونے سے متعلق ہمارے رہنما حافظ حمد اللہ نے جو بیان دیا فی الحال وہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ پارٹی نے اس بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری اس حوالے سے کہتی ہیں کہ ’جے یو آئی سمیت مسلم لیگ ن کی تمام اتحادی جماعتیں متحد ہوکر الیکشن میں جانے پر متفق ہیں تاہم کامیابی کس طرح بہتر حاصل ہوسکتی ہے، اس پر بات چیت جاری ہے اور سب کی رائے کے مطابق ہم اپنی پالیسی بنا رہے ہیں، لیکن حکومت کی تشکیل سے متعلق تمام اتحادیوں کی مشاورت سے الیکشن کے بعد ہی نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں گے۔‘

پیر کو لاہور میں مولانا فضل الرحمٰن اور میاں نواز شریف کی ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’دونوں جماعتوں کی قیادت آئندہ انتخابات میں کامیابی کی حکمت عملی میں مصروف ہے۔ ابھی حکومتی عہدوں سے متعلق کچھ بھی طے نہیں کیا گیا۔ حکومت کی تشکیل سے متعلق انتخابی نتائج کے مطابق مشاورت سے فیصلے ہوں گے۔‘

دو بڑی جماعتوں کے اتحاد میں زیادہ فائدے میں کون؟

اس سوال پر تجزیہ کار سلمان غنی نے کہا کہ دونوں جماعتوں کا اتحاد پہلے ہی مضبوط ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سلمان غنی نے کہا: ’پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈے ایم) کی تشکیل سے لے کر پیپلز پارٹی کے پی ڈی ایم سے نکلنے تک جے یو آئی، مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ اتحادی حکومت کے دوران بھی مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت کے بعد ہی شہباز شریف بڑے فیصلے کرتے رہے۔ ان کا اتحاد تو کافی مضبوط ہے، اسی لیے دونوں مل کر انتخابی اتحاد بنا رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ماضی کے نتائج کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو پنجاب میں سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔ یہاں انہیں جے یو آئی کی حمایت کی شاید زیادہ ضرورت نہ ہو مگر باقی تینوں صوبوں میں مسلم لیگ ن کو مولانا کی حمایت ملنے سے سپورٹ ملے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جے یو آئی نے اگر ماضی کے مطابق نشستیں حاصل کر لیں تو وہ دو صوبوں میں حکومت بنانے کے لیے وہ مسلم لیگ ن کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔‘

سلمان غنی کے مطابق: ’وفاقی سطح پر تو مجموعی طور پر مسلم لیگ ن کو بھی فائدہ ہوگا لیکن حکومت بنانے میں نہیں، شاید دو تہائی اکثریت میں اتحادیوں کا کردار ہو، لہذا دو صوبوں میں جے یو آئی کو حکومتی تشکیل میں زیادہ فائدہ رہے گا کیونکہ وہ اکیلے شاید حکومت نہ بنا سکیں۔ دوسری بات جو مولانا کے صدر بننے کی ہو رہی ہے تو یہ مشکل ہے کیونکہ الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی بھی حکمران اتحاد کا حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہے اور زرداری صاحب صدر کے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔‘

اس تمام صورت حال پر تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن ماضی میں دو تہائی اکثریت سے بھی حکومت بنا چکی ہے اور سادہ اکثریت سے بھی بناتی رہی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سلیم بخاری نے کہا: ’ان انتخابات میں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے درمیان سب سے بڑا اتحاد سمجھا جا رہا ہے۔ جس طرح چاروں صوبوں میں مسلم لیگ ن مختلف جماعتوں سے اتحاد کر چکی ہے، اس سے ان کی پوزیشن کافی واضح ہوچکی ہے، مگر مسلم لیگ ن ماضی میں دو تہائی اکثریت سے بھی حکومت بنا چکی ہے اور سادہ اکثریت سے بھی بناتی رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 نشستوں کی تعداد بھی ہے، لہذا اس بار بھی ان کی پوزیشن اچھی ہے، تاہم دیگر تینوں صوبوں میں اتحادی جماعتوں خاص طور پر جے یو آئی کو زیادہ فائدہ ہوگا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’جہاں تک مولانا فضل الرحمٰن کو صدر بنانے کا تعلق ہے تو اگر پیپلز پارٹی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تو وہ اتحادی حکومت کی جانب سے مضبوط صدارتی امیدوار بن سکتے ہیں، لیکن موجودہ صورت حال میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے انتخابی نشان پر کتنی نشستیں جیت کر ایوان میں پہنچتی ہیں۔ سیاست کا سیدھا اصول ہے، ’حصہ بقدر جسہ‘ یعنی جس کی جتنی سیٹیں، اتنا بڑا عہدہ ملتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست