آٹھ دسمبر، جب بدھ کونروان ملا

بدھ مت کی تعلیمات کے مطابق آج سے تقریباً ڈھائی ہزار سال قبل اسی دن گوتم بدھ کو انڈین شہر بدھ گیا میں نروان حاصل ہوا تھا۔

کمبوڈیا کی ایک روایتی پینٹنگ جس میں گوتم بدھ کو نروان کے سمے دکھایا گیا ہے (Chanrasmey Miech - CC BY-SA 4.0)

ہر سال آٹھ دسمبر کو گوتم بدھ کا ’یوم نروان‘ منایا جاتا ہے۔ پالی روایات کے مطابق بدھ کو اس روز اس وقت نروان حاصل ہوا تھا جب وہ پیپل کے ایک درخت کے نیچے چلہ کشی کر رہے تھے۔

یہ درخت آج بھی انڈین ریاست بہار میں بدھ گیا کے مقام پر موجود ہے جس کی ایک شاخ ٹیکسلا میوزیم میں بھی لگائی گئی تھی جو اب ایک تناور درخت میں بدل چکی ہے۔

دنیا میں آج بدھ مت کے ماننے والے پانچواں بڑا مذہبی گروہ ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا سات فیصد ہیں۔ پیو کی ایک تحقیق کے مطابق ان میں سے آدھے بدھ چین میں رہتے ہیں جو چین کی آبادی کا 18 فیصد ہیں۔

باقی بدھ مشرقی اور جنوبی ایشیائی ممالک جن میں تھائی لینڈ (93 فیصد آبادی بدھ) اور جاپان (35 فیصد آبادی بدھ) شامل ہیں۔

یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ بدھ جس ملک نیپال میں پیدا ہوئے آج اس میں بدھ مت کے ماننے والے صرف 8.2 فیصد ہیں جبکہ انڈیا جو بدھ مت کا ایک بڑا مرکز رہا ہے وہاں اب اس مذہب کے ماننے والے صرف 0.7 فیصد رہ گئے ہیں۔ پاکستان، جس کے علاقے ایک زمانے میں بدھ مت کا گڑھ تھے، اب یہاں بدھ مت کا ماننے والا ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔

بدھ مت جو دوسری صدی قبل مسیح سے چوتھی صدی تک یعنی چھ سو سال تک ان علاقوں کا اکثریتی مذہب رہا ہے جو آج کے پاکستان میں واقع ہیں اور جنہیں اس دور میں گندھارا تہذیب کے عروج کا زمانہ کہا جاتا تھا۔ مگر آج ہم بدھ مت کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

بدھ کون تھے؟

اڑھائی ہزار سال پہلے موجودہ نیپال کے علاقے میں کپل وستو کی ایک ریاست تھی جو چاولوں کی کاشت کے حوالے سے مشہور تھی۔ یہاں کے شاہی گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام سدھارتھ رکھا گیا۔

پیدائش سے پہلے سدھارتھ کی ماں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک سفید ہاتھی اپنی سونڈ میں کنول کا پھول لیے آسمان سے اترا اور ان کی کوکھ میں سما گیا۔ بچے کی پیدائش کے چند دن میں اس کی ماں کا انتقال ہو گیا۔

ننھے سدھارتھ کی پرورش شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے کی گئی مگر پھر بھی اس کی طبیعت اچاٹ رہتی۔ جب وہ 16 سال کا ہوا تو اس کے باپ نے یہ سوچ کر اس کی شادی کر دی کہ شاید وہ خوش ہو جائے۔ مگر سدھارتھ میں کچھ خاص تبدیلی نہیں آئی اگرچہ یہ شادی اس کی پسند کی تھی۔ شادی کے 13 سال بعد ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام راہل رکھا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بدھ کا دل محلوں میں نہیں لگتا تھا وہ زندگی کی ابدی سچائیوں کی جانکاری چاہتے تھے اور اس کے لیے سنیاس اپنانا چاہتے تھے مگر ہر بار انہیں گھر والے روک لیتے۔

ایک دن وہ بیوی یشودھرا کو بتا کر گھر سے نکل گئے۔ جنگلوں، شہروں، ویرانوں میں گھومے۔ بھیک مانگی اور فاقہ کشی کی۔ گیان کی تلاش میں کئی گروؤں سے ملے، ان کی شاگردی میں رہے مگر کہیں سے ایسا راستہ نہیں ملا جہاں سب پردے ہٹ جاتے ہوں۔

آخر کار وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ نہ کھاتے نہ پیتے بس دھیان لگائے رکھتے۔ کہتے ہیں ان کی روزانہ کی خوراک چاول کا ایک دانہ رہ گئی۔ ان کا جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا۔ چھ سال گزر گئے اور پھر وہ وقت آ گیا جب سب پردے فاش ہو گئے۔ یہی وہ لمحہ ہے جس کو نروان کہتے ہیں۔

وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ سوچا کہ وہ ان ابدی حقیقتوں کا سب سے پہلے اظہار اپنے ان پانچ شاگردوں سے کریں گے جو کچھ سیکھنے ان کے پاس آئے تھے لیکن پھر مایوس ہو کر چلے گئے تھے۔

بدھ ان کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ زندگی کا ایک راستہ حد درجے عیش و عشرت کا ہے اور دوسرا راستہ بڑی سخت عبادت و ریاضت کا ہے مگر اصل راستہ بیچ کا ہے جس کے لیے انہوں نے آٹھ اصول بتائے، صحیح نظر رکھنا، صحیح ارادہ کرنا، سچ بولنا، اپنے اعمال درست رکھنا، حلال روزی کمانا، اچھے کام کرنا، دھیان، گیان اور اپنی توجہ مرکوز کرنا۔

یہی پانچ شاگرد بدھ کے پہلے بھکشو بنے۔ بدھ نے اگلے 45 برس تبلیغ میں گزارے۔ انہوں نے کوئی ملک فتح کیا نہ کہیں حکومت بنائی بلکہ امن اور شانتی کا پیغام دیا۔

بدھ مت کوئی مذہب ہے یا نہیں؟

بدھ کے ماننے والے آج بھی اس بات پر تقسیم ہیں کہ بدھ مت کوئی مذہب ہے یا نہیں ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ ایک مذہب ہے جبکہ دوسرے کا کہنا ہے کہ یہ ایک فلسفہ ہے اور نظام حیات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بدھ مت میں کئی مکتبہ فکر ہیں اور ہر ایک کی عبادات کا طریقہ اپنا اپنا ہے۔

مہایان گروہ سب سے اکثریتی گروہ ہے دوسرے نمبر پر تھیرواد پھر وجریان اور نویان ہیں۔ بدھ کی تعلیمات کو دھرما کہا جاتا ہے جس کا سنسکرت میں مطلب سچائی کا ادراک ہے۔

بدھ اپنے شاگردوں سے کہتے تھے کہ وہ انہیں جو کچھ کہتے ہیں اس کے ماننے یا نہ ماننے کا اختیار ان کی اپنی عقل پر ہے وہ خود اپنے دماغ سے فیصلہ کریں کہ کیا سچ ہے کیا نہیں۔

بدھ کا یہ طریق کار دوسرے مذاہب سے قطعی مختلف ہے جہاں سب کو ماننے کا حکم دیا جاتا ہے۔

لیکن دوسرے حوالے سے دیکھیں تو بدھ نے یہ بھی کہا کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کا دوسرا جنم ہوتا ہے جس کا انحصار اس کے پچھلے جنم کی کارکردگی (کرم) پر ہوتا ہے۔

اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ دوبارہ انسان ہی پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ نروان حاصل کرے اور بدھ کی تعلیمات پر عمل کرے۔ اس طرح بدھ نے جنت اور دوزخ کی بجائے نروان کا تصور دیا ہے۔ بدھ مت ایک مذہب ہے یا فلسفہ یہ بحث اس کے ماننے والوں میں آج تک موجود ہے۔

گندھارا میں بدھ مت

جہلم سے کابل تک کے علاقے گندھارا کے حصے تھے۔ گندھارا کے عروج کا دور پہلی صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی تک پھیلا ہوا ہے اور یہی وہ دور ہے جب یہ علاقے بدھ مت کا مرکز بن کر ابھرے۔

اشوک اعظم چندر گپت موریہ کے پوتے تھے اور بادشاہ بننے سے پہلے ٹیکسلا کے گورنر رہ چکے تھے۔

کہتے ہیں کہ کلنگا کی جنگ میں ایک لاکھ لوگ مارے گئے جس کا بادشاہ اشوک کو اتنا دکھ ہوا کہ انہوں نے بدھ مت قبول کر لیا اور اپنی سلطنت میں بدھ مت کا پرچار شروع کر دیا۔

آج بھی گندھارا کے علاقوں مردان اور مانسہرہ میں اشوک کے فرامین پہاڑوں پر کنندہ ہیں جن میں اس نے بدھ مت کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کو ہدایات جاری کی ہیں۔

اشوک نے گندھارا میں بدھ سٹوپے بنوائے جن میں ٹیکسلا میں دھرما راجیکا اور روات میں مانکیالہ کا سٹوپا بھی شامل ہیں جہاں بدھ کی باقیات بھی لا کر دفن کی گئی تھیں۔

گندھارا کے عروج کا دور وسطی ایشیا سے آنے والے کشان حکمرانوں کا ہے جو بدھ مت کے ماننے والے تھے۔ انہوں نے یہاں بڑی بڑی بدھ خانقاہیں بنائیں اور سٹوپے آباد کیے۔ ان میں سب سے بڑا نام کنشک کا ہے جس کا عہد 128-51 کا ہے۔

اس کی سلطنت میں گندھارا بدھ مت کی مقدس سرزمین کی حیثیت سے ابھرا جس کی ایک وجہ وہ بدھ روایات ہیں جن کے مطابق مستقبل کا بدھ وادیٔ ٹیکسلا میں آئے گا۔

گندھارا کی اسی اہمیت کے پیش نظر یہاں پر مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس سے پاکستان اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ