وہ پانچ بڑے مسائل جن پر میں نے ووٹ کا فیصلہ کرنا ہے

آٹھ فروری کو جب میں ووٹ دینے جاؤں گا تو مجھے اس عمل سے اپنے کن مسائل کے حل ہونے کی توقع ہے؟

ملک کے عام انتخابات سے قبل 13 جنوری 2024 کو لاہور کے ایک بازار میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے جھنڈے فروخت کیے جا رہے ہیں (عارف علی/ اے ایف پی)

میں ایک ووٹر ہوں جس نے آٹھ فروری 2024 کو پاکستان کی نئی حکومت کا انتخاب کرنا ہے۔ مجھے یہ حق آئین پاکستان کی شق 51 کے حصہ دوم کے تحت حاصل ہے، تاکہ میں ان نمائندوں کا چناؤ کر سکوں جنہوں نے میرے مسائل کو حل کرنا ہے۔

میرے مسائل گذشتہ سالوں میں حل کی جانب جانے کی بجائے تیزی سے بگاڑ کی طرف گئے ہیں۔ ہر گزرتا دن میرے لیے مہنگائی، بدامنی اور افراتفری لے کر آیا ہے۔

کیا ان انتخابات کے نتیجے میں میرے حالات میں بہتری کا امکان ہو سکتا ہے اور میرے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟ وہ پانچ بڑے مسائل کون سے ہیں جو ووٹ دیتے وقت میرے پیشِ نظر ہوں گے؟

کیا ہمارے ہاں جمہوریت ہے؟

 اگرچہ دنیا سمجھتی ہے کہ یہاں جمہوریت محدود پیمانے پر ہے کیونکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں جمہوریت تو ہے اور نظامِ حکومت بھی عوامی نمائندوں کے ذریعہ ہی چلایا جاتا ہے مگر طاقت کا اصل سرچشمہ پارلیمنٹ نہیں ہے۔

جرمنی کے ایک تحقیقی ادارے democracymatrix.com کے مطابق پاکستان جمہوری درجہ بندی میں دنیا میں 123ویں نمبر پر ہے جہاں ہائبرڈ رجیم ہے۔

لیکن یہ بات زیادہ پریشانی کی اس لیے نہیں کہ دنیا میں جمہوریت کا درس دینے والا امریکہ بھی ا س فہرست میں 36 ویں نمبر پر ہے۔

فہرست کے مرتبین کے مطابق امریکی جمہوریت میں بھی بہت سی خامیاں ہیں۔ ہمارا ہمسایہ ملک انڈیا جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دار ہے وہ بھی ہائبرڈ رجیم کے زمرے میں آتا ہے۔

انڈیا کا نمبر اس فہرست میں 85 ہے۔ ہائبرڈ رجیم کا آسان ترجمہ آمریت اور جمہوریت کا امتزاج ہو سکتا ہے۔

میں اس پر خوش ہوں کہ کم از کم آمریت پوری طرح یہاں نہیں ہے بلکہ یہ جمہوری تڑکے کے ساتھ موجود ہے۔ یہ فہرست بڑی دلچسپ ہے اس میں کل 176ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے جن میں سے کامل جمہوریت صرف 34 ممالک میں ہے۔

ڈنمارک اس میں سرفہرست ہے۔ 21 ممالک میں سخت جبری جبکہ 36 ممالک میں نیم جبری حکومتیں ہیں۔ 46 ممالک میں جمہوریت تو ہے مگر اس میں کئی خامیاں ہیں۔

اس فہرست کی رو سے میرا مسئلہ یہ نہیں رہتا کہ یہاں جمہوریت کا درجہ کیا ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ جو بھی حکومت بنتی ہے اور جیسے بھی بنتی ہے وہ میرے مسائل حل کر پائے گی یا نہیں؟

 مہنگائی میرا سب سے بڑا مسئلہ ہے

پاکستان میں آئی ایم ایف کا 24واں پروگرام چل رہا ہے۔ مہنگائی کا تناسب یہاں 29 فیصد سے زائد ہے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بلند ترین سطح پر ہے۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق پاکستانی معیشت میں شرح نمو 1952 کے بعد تیسری سب سے نچلی سطح پر ہے جوآئی ایم ایف کے مطابق موجودہ مالی سال میں بھی دو فیصد رہنے کی توقع ہے۔

جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق پاکستان نے سب سے زیادہ شرح نمو10.22 اس وقت حاصل کی تھی جب 1953 میں پہلی بار اسے امریکہ نے ایک ارب ڈالر سے زائد امداد دی تھی۔

اس کے اگلے سال پاکستان سیٹو اور پھر سینٹو میں شامل ہو گیا۔ 1969 میں صدر ایوب کے دور میں یہ شرح 9.79 فیصد، ضیا کے دور 1984 میں 8.71 فیصد اور مشرف کے دور 2004 میں 8.96 تک بلند دیکھی گئی۔

اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی معیشت ’پراکسی وارز‘ اور امریکہ کی امداد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ جب امن ہوتا ہے تو یہاں بھوک زیادہ ہو جاتی ہے۔

ہم 76 سال گزرنے کے باوجود اپنی معیشت کو امن پر استوار نہیں کر سکے۔ جب باہر سے پیسہ نہیں آتا تو پاکستان میں مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ جاتی ہے۔

مہنگائی کی دوسری بڑی وجہ اشرافیہ کی مراعات بھی ہیں۔ جہاں عالمی بنک کے مطابق 37.2 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے وہاں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی اشرافیہ کو سالانہ 17.4ارب ڈالر کی مراعات حاصل ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ جنہوں نے مہنگائی کو کم کرنا ہے وہی پاکستان میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ان حالات میں جو حکومت پاکستان میں آنے والی ہے وہ مہنگائی کیسے کم کرے گی؟

اس مقصد کے لیے روپے کو مضبوط بنانا پڑے گا۔ سرمایہ کاری لانا پڑے گی تاکہ پیداوار بڑھے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی اورقرضوں کے بوجھ سے چھٹکارہ اس وقت ممکن ہے جب پاکستانی معیشت میں تین دہائیوں تک سالانہ شرح نمو سات فیصد ہو اور سالانہ 20 لاکھ نئی نوکریاں پیدا ہوں تب جا کر 2056 تک ہم معاشی مسائل سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

جب خزانے میں پیسے ہوں گے تو صحت اور تعلیم کا مسئلہ بھی نہیں رہے گا۔

امن اور سلامتی

پاکستان اس وقت شدید اندرونی خلفشار سے دوچار ہے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ ہمیں بلوچستان میں ایک بڑی یورش کا سامنا ہے۔

سندھی قوم پرست بھی ہتھیار اٹھا چکے ہیں۔ سیاسی انتشار بھی اپنی حدود کو چھو رہا ہے۔ گلوبل پیس انڈیکس میں پاکستان 146 ویں نمبر پر کھڑا ہے۔

راہزنی اور ڈکیتی عام ہو چکی ہے۔ سرحدوں کے باہر انڈیا، افغانستان اور ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی ناخوشگوار ہیں۔

چین ہماری سلامتی اور ترقی کے ایک بڑے شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے مگر یہاں کچھ قوتیں ایسی ہیں جو چین کو رسائی نہیں دینا چاہتیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے میرا ملک امریکہ کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان میدان جنگ بنا ہوا ہے۔

قومی مفاد کیا ہے یہ کہیں نظر نہیں آتا۔ ا س لیے جو سیاسی جماعت قومی مفاد کو مقدم رکھے گی اور پاکستان میں امن و سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی وہ میرا انتخاب ٹھہرے گی۔

آبادی اور ماحولیات

پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے تیزی سے آبادی بڑھانے والا ملک بن چکا ہے۔ ہماری آبادی کتنی بڑھ چکی ہے اس کا اندازہ کرنا ہے تو اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال کمپلیکس چلے جائیں جہاں ایمرجنسی میں اتنا رش ہے کہ گزرنا محال ہے۔

ایک ایک بستر پر تین تین لوگ پڑے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہیں جنہیں ڈاکٹروں نے کھڑے کھڑے ڈرپ لگا دی ہوئی ہے۔

آبادی کی رفتار ہماری ترقی کو نگل چکی ہے۔ ہمارے پاس بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ہسپتال ہیں نہ سکول کالج، بلکہ اب تو خوراک بھی نہیں، پاکستان میں پانچ سال سے کم 44 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق پاکستان کی صرف 20 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کا اثر ماحول پر بھی پڑا ہے۔

لاہور، کراچی، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور پشاور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست ہیں یعنی بڑھتی ہوئی آبادی نے میرے لیے سانس لینا بھی محال کر دیا ہے۔

عالمی سطح پر حدت میں اضافے کی وجہ سے میرے موسم بپھر چکے ہیں۔ عالمی بنک کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 3.8ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

ایسے میں جو سیاسی جماعت ان مسائل کا ادراک نہیں کرے گی وہ میرے ووٹ کی کیسے حق دار ہو سکتی ہے۔

بہتر نظام حکومت

میرے مسائل حل نہ ہونے کی بڑی وجہ برا نظامِ حکومت ہے۔ حکومتی مشینری نوآبادیاتی طرز پر استوار ہے جو خود کو کالے انگریز اور مجھے غلام سمجھتی ہے۔

انصاف کی فراہمی اورقانون کی حکمرانی میں پاکستان دنیا کی ریاستوں میں آخری درجوں پر ہے۔ قانون صرف وہاں حرکت میں آتا ہے جہاں اشرافیہ کے مفادات پر زد پڑتی ہو۔

عام آدمی کو ملکی نظام سے باہر کر دیا گیا ہے اور اس کی حیثیت کیڑے مکوڑے جتنی بھی نہیں رہ گئی۔

صرف وہی منصوبے بنائے جاتے ہیں جن میں بھاری کمیشن حاصل کیے جا سکیں۔ متبادل انرجی کے وافر وسائل ہونے کے باوجود پاکستان کو مہنگی انرجی کا محتاج بنا کر رکھ دیا گیا ہے جس نے ہماری قومی ترقی کے سارے راستے مسدود کر دیے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کرنے کی بجائے سڑکوں کو گاڑیوں سے بھر دیا گیا ہے۔ بہتر نظام حکومت کہیں نظر نہیں آتا۔

اس لیے مجھے ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو حکومتی مشینری کو صحیح معنوں میں عوام کا خادم بنائے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ