’اپنا فضلہ بیگز میں واپس بیس کیمپ لائیں:‘ ایورسٹ جانے والے کوہ پیماؤں کو حکم

نیپالی حکام کے مطابق کوہ پیماؤں کو بیس کیمپ سے فضلے کے لیے مخصوص بیگ خریدنے ہوں گے جو ان کی واپسی پر چیک کیے جائیں گے۔

گذشتہ سال 14 مئی تک نیپال کو ایورسٹ پر کوہ پیمائی سے 50 لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوئی (اے ایف پی)

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے کوہ پیماؤں کو اپنا فضلہ بیگوں میں ڈال کر واپس بیس کیمپ لانے کا پابند کر دیا گیا ہے۔

نیپال میں حکام نے بالآخر یہ قدم اس فضلے کے مسئلے پر اٹھایا جو کوہ پیما اپنے پیچھے پہاڑوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ نیا ضابطہ پہاڑ پر بنے راستوں پر انسانی فضلے کی مقدار کے بارے میں بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد متعارف کروایا گیا۔

انتہائی کم درجہ حرارت کی وجہ سے پہاڑ پر موجود فضلہ قدرتی طور تلف نہیں ہوتا۔ پاسانگ لہامو کی مقامی بلدیہ نے اعلان کیا کہ کوہ پیماؤں کو بیس کیمپ سے فضلے کے لیے مخصوص بیگ خریدنے ہوں گے جو ان کی ’واپسی پر چیک کیے جائیں گے۔‘

اس قاعدے کا اطلاق ماؤنٹ ایورسٹ اور ماؤنٹ لوٹسے کے کوہ پیماؤں پر ہو گا جو پہاڑی درے ساؤتھ کول کے ذریعے ایورسٹ سے منسلک ہیں۔

انسانی فضلے کا مسئلہ برسوں سے نیپالی حکام کے لیے تشویش کا باعث ہے کیوں کہ ہر سال کوہ پیمائی کے زیادہ سے زیادہ اجازت نامے جاری کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے پہاڑوں پر لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس طرح کے ضوابط پہلے ہی الاسکا میں ماؤنٹ ڈینالی جیسے دیگر پہاڑوں پر کامیابی سے نافذ کیے جا چکے ہیں اور مبینہ طور پر ایورسٹ پر کوہ پیمائی کی مہم کا انتظام کرنے والوں نے ان کا خیر مقدم کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیپال میں رواں سال کوہ پیمائی کا موسم شروع ہونے سے قبل نیا قانون متعارف کروایا جائے گا۔ یہ سیزن مارچ میں شروع ہوتا ہے اور مئی تک جاری رہتا ہے۔

پاسانگ لہامو دیہی بلدیہ کے چیئرمین منگما شرپا نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پتھروں پر انسانی فضلہ دکھائی دے رہا ہے اور کچھ کوہ پیما بیمار پڑ رہے ہیں۔ یہ قابل قبول نہیں۔ اس سے ہماری ساکھ خراب ہوتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے پہاڑوں سے بدبو آنا شروع ہو گئی ہے۔‘

ساگرماتھا آلودگی کنٹرول کمیٹی کے مطابق اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایورسٹ کے دامن میں واقع بیس کیمپ ون اور چوٹی کے قریب واقع کیمپ فور کے درمیان تقریباً تین ٹن انسانی فضلہ بکھرا ہوا ہے۔

کمیٹی کے چیف ایگزیکٹیو چیرنگ شیرپا کے مطابق: ’مانا جاتا ہے کہ اس میں سے نصف فضلہ ساؤتھ کول میں موجود ہے جسے کیمپ فور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔‘

’فضلہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خاص طور پر بلندی پر بنے کیمپوں میں جہاں آپ نہیں پہنچ سکتے۔‘

لوگوں کی زیادہ تعداد کا مسئلہ اب بھی کچھ ایسا ہے جس سے حکام نے نمٹنا ہے۔ گذشتہ سال نیپال نے پہاڑ پر چڑھنے کے لیے ریکارڈ شکن 478 اجازت نامے جاری کیے جس کے نتیجے میں 1500 سے زیادہ کوہ پیما، گائیڈز اور معاون عملہ علاقے میں موجود تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل 2021 میں یہ ریکارڈ 409 اجازت نامے تھا۔

 ساگرماتھا آلودگی کنٹرول کمیٹی مبینہ طور پر فضلے کے لیے امریکہ سے تقریباً آٹھ ہزار بیگ خرید رہی ہے۔ یہ بیگ کوہ پیماؤں، شرپاؤں اور معاون عملے میں تقسیم کیے جائیں گے۔ ہر شخص کو دو بیگ دیے جائیں گے جنہیں کئی بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان بیگوں میں ایسے کیمیکلز موجود ہیں جو انسانی فضلے کو ٹھوس بناتے ہیں اور اس کی بدبو کو نمایاں طور پر کم کرتے ہیں۔

برطانوی ایکسپیڈیشن کمپنی، جو ایورسٹ کے بیس کیمپ تک سفر کا اہتمام کرتی ہے، کے ڈائریکٹر جوناتھن ریلی نے اخبار ٹیلی گراف کو بتایا کہ ’ماؤنٹ ایورسٹ پر فضلے کی موجودگی مضحکہ خیز ہے۔

’میرا سوال یہ ہے کہ کیا کوہ پیما فضلے کے لیے بنائے بیگز کو واپس پہاڑ سے نیچے لائیں گے یا وہ انہیں وہیں پھینک دیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے کتوں کو چہل قدمی کروانے والے ان کے فضلے سے بھرے پلاسٹک بیگز پھینکتے ہیں؟ یہ موجودہ صورت حال سے بھی بدتر ہوگا کیوں کہ یہ بیگ فضلے کا قدرتی اتلاف ناممکن بنا دیں گے۔

’مجھے شبہ ہے کچھ کوہ پیما ایسے ہوں گے جو بیگ استعمال کریں گے اور پھر انہیں پہاڑ سے نیچے لانے کی بجائے پھینک دیں گے۔‘

لیکن دوسرے لوگوں نے امید ظاہر کی ہے۔ ایکس پڈشن آپریٹرز ایسوسی ایشن آف نیپال کے صدر دمبر پراجولی نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ یقیناً مثبت امر ہے اور اس کو کامیاب بنانے کے لیے ہمیں اپنا کام کر کے خوشی ہو گی۔‘

نیپال میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ موجود ہیں۔ نیپال کی وزارت سیاحت کے مطابق گذشتہ سال 14 مئی تک حکومت کو پہاڑی سیاحت سے 58 لاکھ ڈالر اور صرف ایورسٹ سے 50 لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوئی۔

گذشتہ سال ٹینزنگ نورگے شرپا اور ایڈمنڈ ہیلری کی طرف سے ماؤنٹ ایورسٹ کو پہلی بار سر کرنے کی 70 ویں سالگرہ بھی منائی گئی۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات