ماؤنٹ ایورسٹ پر ملنے والے کچرے سے فن پارے بنانے کا منصوبہ

دنیا کی سب سے اونچی پہاڑی چوٹی اور اس کے ارد گرد کے علاقے استعمال شدہ آکسیجن کی بوتلیں، پھٹے ہوئے خیمے، رسیاں، ٹوٹی سیڑھیاں، ڈبے اور ریپرز سے بھرے ہوئے ہیں۔

2010 کی اس فائل تصویر میں ایک شرپا ماؤنٹ ایورسٹ  پر چھوڑا گیا کچرا  اکھٹا کر رہا ہے (اے ایف پی)

نیپال میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر پھینکے جانے والے کچرے کو آرٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس کچرے کو قریب ہی واقع گیلری میں منتقل کیا جائے گا جہاں اسے آرٹ میں تبدیل کرتے ہوئے دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی کو کچرہ کنڈی میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے آگاہی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 8848 میٹر بلند اس پہاڑی اور اس کے ارد گرد کے علاقے استعمال شدہ آکسیجن کی بوتلیں، پھٹے ہوئے خیمے، رسیاں، ٹوٹی سیڑھیاں، ڈبے اور ریپرز سے بھرے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر اور ساگرماتا نیکسٹ سینٹر کے شریک بانی ٹومی گستافسن کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں مقامی اور بین الااقوامی فنکاروں کو شامل کیا جائے گا تاکہ اس حوالے سے آگاہی پھیلائی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ کچرے کو کیسے قیمتی آرٹی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ہم لوگوں کی کچرے کے حوالے سے سوچ اور اس کے استعمال کے تصورات کو تبدیل کرنے کے لیے پر امید ہیں۔‘

یہ سینٹر 3780 میٹر کی بلندی پر ایورسٹ بیس کیمپ پر واقع ہے۔ گستافسن کے مطابق رواں سال وبا کی وجہ سے یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد کو محدود رکھا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں پیش کیے جانے والے آرٹ ورک کا مقصد ماحولیاتی آگاہی کو اجاگر کرنا ہے اور ان کو بطور سوونئیر فروخت کیا جائے گا۔

سال 2019 میں 60 ہزار سے زائد کوہ پیما، گائڈز اور سیاحوں نے اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔

ہمل گروپ کے فنجو شیرپا کا کہنا ہے: ’کیری می بیک‘ منصوبے کا مقصد واپس جانے والے سیاحوں اور گائڈز سے یہ درخواست کرنا ہے کہ وہ واپس جاتے ہوئے اپنا ایک کلو تک کچرا لکلا ائیرپورٹ واپس لے جائیں جہاں سے اسے کھٹمنڈو لے جایا جائے گا۔

شیرپا کا کہنا ہے کہ اگر ہم سیاحوں سے مدد لیں تو ہم کچرے کی بڑی تعداد کا مسئلہ حل سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات