اسرائیلی جارحیت: رفح میں 52 فلسطینی جان سے گئے، درجنوں زخمی

غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ کے قصبے رفح پر پیر کو اسرائیلی فضائی حملوں میں 52 فلسطینی جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

11 فروری، 2024 کی اس تصویر میں غزہ کے علاقے رفح میں اسرائیلی بمباری کے بعد دھویں کے بادل بلند ہو رہے ہیں(اے ایف پی)

غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ کے قصبے رفح پر پیر کو اسرائیلی فضائی حملوں میں 52 فلسطینی جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے غزہ کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں رفح کے مختلف علاقوں میں 14 مکانات اور تین مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اے ایف پی کے صحافیوں اور عینی شاہدین نے شدید حملوں کی آوازیں سنیں اور شہر کے اوپر دھوئیں کے بادل دیکھے۔

اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بے گھر ہونے کے بعد غزہ کی کل آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ اس وقت رفح میں آباد ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح اعلان کیا کہ ’سات اکتوبر کو قیدی بنائے گئے اسرائیلیوں میں سے دو کو غزہ کے جنوبی شہر رفح میں کارروائی کے دوران بازیاب کرا لیا گیا ہے۔‘

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’آئی ڈی ایف (ملٹری)، آئی ایس اے (شن بیٹ سکیورٹی ایجنسی) اور اسرائیل پولیس نے آپریشن کے دوران، دو اسرائیلی قیدیوں فرنینڈو سائمن مارمن (60) اور لوئس ہار (70) کو بازیاب کرایا۔‘

 مزید بتایا گیا کہ دونوں ’اچھی طبی حالت‘ میں تھے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ’اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا ہے کہ اس نے جنوبی غزہ پر ’متعدد فضائی حملے‘ کیے جو اب ’ختم ہوگئے‘ ہیں۔

روئٹرز نے ایک ایپ کا استعمال کرتے ہوئے رفح کے جن شہریوں سے رابطہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ’شدید بمباری سے علاقے میں بہت خوف و ہراس پھیل گیا کیونکہ حملے شروع ہونے کے وقت بہت سے لوگ سو رہے تھے۔‘

رفح پر حملے سے قبل امدادی اداروں نے خبردار کیا تھا کہ ’یہ تباہ کن ہوگا۔‘

 یہ اسرائیلی جارحیت سے تباہ ہونے والے علاقے میں آخری نسبتاً محفوظ جگہ ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے اتوار کو بن یامین نتن یاہو سے کہا تھا کہ ’اسرائیل کو رفح میں پناہ لینے والے تقریباً 10 لاکھ افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قابل اعتماد منصوبے کے بغیر وہاں فوجی آپریشن شروع نہیں کرنا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وائٹ ہاؤس کے مطابق بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان تقریبا 45 منٹ تک بات چیت ہوئی ہوئی تھی۔

اقصیٰ ٹیلی ویژن نے اتوار کو حماس کے ایک سینئیر رہنما کے حوالے سے کہا تھا کہ رفح میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی زمینی جارحیت سے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات ’ختم‘ ہو جائیں گے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکہ، اقوام متحدہ اور کئی حکومتوں نے نتن یاہو کے اس شہر پر حملہ کرنے کے منصوبوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا ، جہاں تقریباً 14 لاکھ افراد جمع ہیں۔

سعودی عرب نے غزہ کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔

جبکہ عرب نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے رفح میں آپریشن کے منصوبے کی شدید مذمت کی تھی۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سختی سے خبردار کیا کہ ’اسرائیلی فوجی جارحیت کا تسلسل اور توسیع فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی مسترد کوششوں کا حصہ ہے۔‘

او آئی سی نے زور دیا تھا کہ ’اس طرح کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا