بڑے ’تاڑو‘ اسلام آبادی ہیں یا کراچی والے؟

ایک وقت تو ایسا آ یا کہ اس گھورنے کی عادت سے پریشان ہو  کر میں نے برقع پہننا شروع کر دیا۔ خاص طور پر ان دنوں جب میں ویسٹرن کپڑے پہن کر باہر جانا چاہتی تھی۔

میلوڈی فوڈ پارک میں چائے پینے کی ایک کوشش 

جب مئی 2015 میں امریکہ سے پڑھائی مکمل کر کے میں پاکستان واپس  آئی تو زندگی نے کچھ ایسا رخ لیا کہ واپسی کے چند ماہ بعد میں نے کراچی میں اپنے  آپ کو اکیلا پایا۔ میرے والد کو کینسر تشخیص ہو چکا تھا۔ انہیں بہتر علاج کے لیے امریکہ جانا پڑا۔ ظاہر ہے پھر امی بھی انہی کے ساتھ چلی گئیں۔ جانے کے تین مہینے بعد پاپا کا انتقال ہو گیا۔ ان کی تدفین امریکہ میں ہوئی۔ تب سے اب تک امی امریکہ میں میرے بھائی کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ میں پاکستان میں ہوں چونکہ مجھے یہاں صحافت کرنے کا شوق ہے۔ اپنا ملک بہرحال اپنا ہوتا ہے۔

پاپا کے انتقال کے بعد مجھ پر کافی دباؤ تھا کہ میں کسی رشتہ دار کے گھر رہ لوں۔ لیکن اپنے ملک کی طرح اپنا گھر بھی اپنا ہوتا ہے۔ اب چاہے وہ ’بدنام زمانہ‘ گلستان جوہر کے پرفیوم چوک میں ہی کیوں نہ ہو۔ میں نے کراچی میں تقریباً ساڑھے تین سال کا عرصہ اکیلے گزارا لیکن اس شہر کی قدر تب  آئی جب میں نوکری کے سلسلے میں اسلام آباد آ گئی۔ تب احساس ہوا کہ کراچی کے خلاف کتنا غلط پروپیگینڈا کیا جاتا ہے!

سنا تھا کہ اسلام  آباد اکیلے رہنے والی خواتین کے لیے زیادہ محفوظ جگہ ہے لیکن میرا تجربہ اس کے بالکل برعکس رہا ہے۔ گھورنے کا منحوس مرض پاکستانی مردوں میں عام ہے لیکن اسلام  آباد  آ کر اس گھوری میں وہ شدت محسوس کی جو کراچی میں شاید دس سال پہلے مردوں کی نظروں میں محسوس ہوا کرتی تھی۔ میں اسلام  آباد میں ایک فلیٹ میں رہتی ہوں اور یہ عمارت ایک شاپنگ مرکز میں واقع ہے۔ لفٹ سے باہر نکلتی ہوں تو سامنے موبائل کی دکانیں ہیں۔ جہاں مردوں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے۔ جیسے ہی لفٹ کا دروازہ کھلتا ہے ان کی ایکس رے ویژن والی نظریں مجھ پر فکس ہو جاتی ہیں۔ ایک وقت تو ایسا آ یا کہ اس گھورنے کی عادت سے پریشان ہو  کر میں نے برقع پہننا شروع کر دیا۔ خاص طور پر ان دنوں جب میں ویسٹرن کپڑے پہن کر باہر جانا چاہتی تھی۔ پھر میں نے ویسٹرن کپڑے ہی پہننا چھوڑ دیے۔ کون برقعے کا جھنجھٹ پالے!

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آپ کہیں گے کہ کراچی میں بھی اسی طرح مردوں کی نظریں خراب ہیں۔ جو ایک حد تک صحیح بات ہے۔ لیکن وہاں بھی میں فلیٹ میں رہتی تھی اور گلستان جوہر کوئی ڈیفنس کی طرح پوش علاقہ تو ہے نہیں۔ پھر بھی وہاں میں جینز شرٹ پہن کر نکل جایا کرتی تھی۔ اگر کوئی گھورتا بھی تھا تو اسے پلٹ کر جوابا گھورتی تھی۔ گھورنے والے کی نظریں فوراً ادھر ادھر ہو جاتی تھیں۔

بات یہ ہے کہ کراچی میں پبلک سپیس میں  آپ کو کافی خواتین نظر آئیں گی۔ شاید یہ حال ہی کی ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اب خواتین یا نوجوان لڑکیاں سب نے باہر نکلنا شروع کر دیا ہے۔ چاہے وہ دودھ والے کی دکان سے انڈے ڈبل روٹی لینا ہو یا موبائل فون کا کریڈٹ ڈلوانا ہو۔ اب اتنی بہتری  آ گئی ہے کہ ہم سڑک کنارے تخت پر بیٹھ کر چکن تکہ کھائیں یا ٹیپو سلطان روڈ پر زینڈرز کا چکن پامیژان ٹھونسیں، ہمیں ایک ہی چیز محسوس ہوتی ہے، سکون!

اسلام  آباد میں پبلک سپیس میں خواتین نسبتاً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میلوڈی مارکیٹ میں دیکھیں تو مرد ہی مرد بھرے ہوتے ہیں۔ سڑک پر  آپ کو شاید ہی کوئی خاتون نظر  آئیں۔ اگر اکا دکا نظر آ بھی گئیں تو وہ چادروں اور دوپٹوں میں لپٹی ہوئی ہوں گی۔ جب خواتین پبلک سپیس میں نظر ہی نہیں  آئیں گی تو ظاہر ہے کہ جو دو تین باہر نکلتی ہیں وہ خود کو اکیلا محسوس کرتی ہیں۔ مردوں کا گھورنا زیادہ الجھن کا سبب بنے گا، شاید اسی وجہ سے مرد ہمیں گھورتے بھی ہیں کیونکہ انہیں پبلک سپیس میں پراعتماد عورت دیکھنے کی عادت نہیں ہے۔ ویسے بھی ان کے مطابق ’اچھے گھروں کی عورتیں تھوڑی باہر نکلتی ہیں!‘ جو بھی ہو لیکن اچھے گھروں کے مرد باہر نکل کر دوسری عورتوں کو تاڑتے ضرور ہیں۔

ایک اور بات جو مجھے ایک عورت کی حیثیت سے کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام  آباد میں سٹریٹ لائٹس کا تصور نہیں ہے۔ شام ڈھلتے ہی گھپ اندھیرا ہو جاتا ہے۔ اگر  آپ کہتے ہیں کہ اسلام  آباد عورتوں کے لیے محفوظ جگہ ہے تو ہمیں پبلک میں عورتیں نظر  آنی چاہیے ہیں۔ اور صرف ایف سیکٹر کی مارکیٹ میں نہیں، ہر جگہ پر۔ لیکن جب اتنا اندھیرا ہو گا تو کیا خاک کوئی عورت گھر سے باہر نکلنا چاہے گی؟ شہر روشن ہوگا تب ہی عورتوں کے لیے باہر نکلنے کے قابل بنے گا۔ اس اندھیرے کا غلط مردوں نے بھی کافی فائدہ اٹھایا ہے۔ یہاں سٹریٹ ہراسمنٹ بہت عام ہے۔ اپنے فلیٹ سے کونے والی پھل کی دکان کے پاس جاتے ہوئے ہی نشے میں دھت  آدمی اپنی بڑی گاڑی میں راستہ روک کر غلط جملے کستا ہے۔ اندھیرے میں اور ڈر لگتا ہے کہ کہیں مزید ناخوشگوار صورت حال کا سامنا نہ ہو جائے۔

لیکن اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ ہم عورتیں باہر نکلنا بند کر دیں۔ اس کا ایک حل یہ ہے کہ اسلام  آباد میں سٹریٹ لائٹس لگائی جائیں۔ اس شہر کو صحیح معنوں میں عورتوں کے لیے محفوظ بنائیں۔ شاید اگر روشنی ہو تو یہ شرپسند لوگ راہ چلتی عورت کو تنگ کرنا بند کر دیں۔

چلیں اب لباس اور حفاظت سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔ ایک بہت بڑا فرق جو مجھے سب سے زیادہ ناگوار گزرتا ہے وہ ہے اسلام  آباد کے لوگوں میں شدت سے بھرا کلاس ازم۔ اور اس بات کا تب احساس ہوا جب ایک اسلام  آباد کی دوست سے میں نے ذکر کیا کہ کراچی میں عورتیں  آرام سے ڈھابے پر بیٹھ کر چائے پراٹھا کھا سکتی ہیں۔ اب یہ پھر بھی ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔ لیکن اسلام  آباد میں اگر ہم ڈھابے پر بیٹھیں تو  آس پاس کے مردوں سے ہمیں وہی گھوریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس دوست نے میری بات غور سے سنی اور سوچتے ہوئے بولی کہ ادھر بات صرف جنس کی نہیں مگر کلاس کی بھی ہے۔ یہاں پر خواتین کلاس کے تعصب سے بھی ڈھابوں پر بیٹھنا پسند نہیں کرتیں۔ یہ سن کر مجھے ایک اور بات سمجھ میں  آئی۔

کراچی جیسے شہر میں کلاس کا تعصب رکھنے سے ہماری اپنی ہی زندگی مشکل ہو جائے گی۔ جب میں نئی نئی اسلام  آباد  آئی تھی تو اس شہر کے کلچر کا زیادہ اندازہ نہیں تھا۔ یہاں میری پہلی رہائش جی 11 میں تھی۔ اسلام  آباد کے رہائشیوں کے مطابق جی سیکٹر کا علاقہ کم آمدنی والے طبقے  کے لوگوں سے  آباد ہے۔ ایک خاتون کو جب میری رہائش کا پتہ چلا تو انہوں نے چھوٹتے ہی میرے منہ پر کہا: ’آئے ہائے! وہ تو بڑا گندا علاقہ ہے۔‘ میں ان کی شکل دیکھتی رہ گئی۔ بھلا یہ کوئی کسی سے کہتا ہے؟ بعد میں سمجھ  آئی کہ یہ صرف ان  آنٹی کی ہی نہیں بلکہ اسلام  آبادیوں کی عام سوچ ہے۔

کلاس سے متعلق ایک اور چیز جو میں نے نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ کراچی میں  آپ پاپوش یا حیدری جیسے بازاروں میں جائیں۔ وہاں  آپ کو زیادہ مذہبی اور متوسط  آمدن والے لوگ نظر  آئیں گے۔ لیکن ان بازاروں میں جب میں جینز پہن کر گھومتی ہوں تو دکاندار مجھ سے الگ طریقے سے پیش  آئے۔ انہوں نے مجھ سے اسی طرح ڈیل کرنا ہے جیسے وہ ایک برقع پوش خاتون سے کریں گے، البتہ جی-10  مرکز، جو ایک طرح کا بازار ہے، وہاں میں جینز اور ایک ڈھیلی سی شرٹ پہن کر چلی گئی۔ دکاندار سے  آئی پینسل مانگی تو اس نے سب سے مہنگی والی نکال کر دی۔ میں نے اصرار کیا کہ مجھے سستی والی  آئی پینسل دیں تو اس نے ضد کرتے ہوئے کہا کہ ’ آپ کیوں سستی والی دیکھ رہی ہیں؟  آپ مہنگی والی دیکھیں؟‘

عجیب زبردستی تھی۔ خیر میں نے کسی طرح اپنی بات منوائی اور سستی والی پینسل لی۔ تھوڑا  آگے نکل کر میں ایک ٹھیلے پر جھمکے بالیاں دیکھنے لگی۔ وہاں پر ٹھیلے والے نے کہا: ’میڈم  آپ یہ والے لے لیں۔  آپ جس طرح کے کپڑے پہنتی ہیں ان پر یہ اچھے لگیں گے۔‘ یہ بات سن کر میرا دماغ گھوم گیا۔ یہ کن کپڑوں کی بات کر رہا تھا؟ میں کس طرح کے کپڑے پہنتی ہوں؟ بہرحال میں نے اپنی شاپنگ کی اور گھر لوٹ گئی۔ دوستوں سے بازار کا تجربہ شیئر کیا تو انہوں نے سمجھایا کہ جینز ٹی شرٹ کلاس کی علامت ہے۔ خاص طور پر اسلام  آباد میں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ دکاندار مجھے مہنگی والی آئی پینسل بیچنے کی کوشش کر رہا تھا اور ٹھیلے والا مجھے ’اُس طرح‘ کے بندے بیچنا چاہ رہا تھا۔ کس طرح کے یہ آج تک مجھے بھی سمجھ نہیں آیا اس لیے آپ بھی جانے دیجیے!

اسلام آباد آئے مجھے چار ماہ ہو گئے ہیں اور آہستہ آہستہ میں ان سب باتوں کی عادی بھی ہوتی جا رہی ہوں۔ برقع تو نہیں پہنتی لیکن ہاں مغربی لباس کافی حد تک پہننا بند کر دیا ہے۔ سب سے بڑی بات ایک دوسرے گھر کی تلاش میں ہوں، جو کم از کم مارکیٹ ایریا میں نہ ہو۔ یہاں بنے دوستوں کا کہنا ہے کہ مجھے ایف سیکٹر میں گھر ڈھونڈنا چاہیے۔ کرایہ زیادہ ہوگا لیکن باقی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اسلام آباد میں  صنفی تفریق اور طبقاتی کشمکش کا ایک دلچسپ ملاپ نظر آتا ہے۔ اسلام آباد آنے سے پہلے سنا تھا کہ یہاں کافی سفارت خانے ہیں اور غیرملکیوں کی تعداد زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہاں کا ماحول اچھا ہے اور لوگوں کا ذہن کھلا ہے۔ لیکن کلاس ازم اور تنگ ذہنیت سے بھرے اس شہر کو میں نے اس تصور سے بہت مختلف پایا۔ سوچنے کی بات ہے۔ اگر ہمارے دارالحکومت کا یہ حال ہے تو باقی شہروں سے ہم کیا امید لگا سکتے ہیں؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ