رفح میں اسرائیلی حملہ روکنے کی کوششیں، نئے انسانی بحران کا خدشہ

اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے کہا کہ ’ہم رفح پر اسرائیلی حملے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس سے مزید انسانی تباہی ہو گی‘ کیوں کہ رفح میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے لیے صورت حال پہلے ہی ناقابل برداشت ہے۔

سات اکتوبر 2023 کے بعد سے یہ بہت واضح ہوچکا تھا غزہ کی پٹی میں کوئی جگہ اسرائیلی جارحیت سے محفوط نہیں پھر بھی اسرائیلی انتباہ کے بعد لاکھوں فلسطینی اس امید سے رفح کی طرف منتقل ہوئے تھے کہ شاید بمباری سے بچ جائیں۔

لیکن اب چوں کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کی جانب سے رفح کو حماس کا ’آخری گڑھ‘ قرار دیے جانے کے بعد اسرائیل نے وہاں بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے تو خدشہ ہے کہ 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے لیے حالات مزید مشکل ہوجائیں گے۔ یہاں موجود لوگ پہلے ہی خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات سے کافی حد تک محروم ہیں۔

رفح سات اکتوبر 2023 سے پہلے ہی غزہ کے سب سے زیادہ گنجان آباد شہروں میں سے ایک تھا جہاں 23 مربع میل کے اندر تقریباً دو لاکھ 80 ہزار افراد رہائش پذیر تھے۔ اب اس میں تقریباً 14 لاکھ لوگ رہ رہے ہیں اور مقامی حکام کے مطابق یہاں چار مربع میڑ خالی جگہ ملنا بھی مشکل ہے۔

محدود علاقے کے اندر اتنے زیادہ لوگوں کی موجودگی میں کسی بھی قسم کے زمینی یا فضائی عسکری آپریشن کے آبادی پر انتہائی سنگین اثرات ہو سکتے ہیں۔

رفح پر اسرائیلی جارحیت سے سب سے بڑا خدشہ انسانی امداد کی فراہمی کا ہے جس میں پہلے ہی بہت زیادہ روکاوٹیں ہیں۔ اس وقت انسانی امداد کی ترسیل کے لیے صرف دو بارڈر کراسنگ ہیں، رفح کراسنگ (مصر سے) اور کریم شالوم / کریم ابو سالم کراسنگ (اسرائیل سے)۔

مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں قائم نارویجین ریفیوجی کونسل کی کمیونیکیشن ایڈوائزر شائنا لو نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ ’اگر رفح میں لڑائی ہوئی تو اس سے امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹ آئے گی۔‘

بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی میں ایمرجنسیز کے نائب صدر باب کچن نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’اگر لڑائی میں نہ مارے گئے تو خطرہ ہے کہ فلسطینی بچے، خواتین اور مرد بھوک یا بیماری سے مر جائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بدترین اسرائیلی جارحیت کے دوران بین الاقوامی برادری سیزفائر اور قیدیوں کے رہائی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جس سلسلے میں پیر کو امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے کہا کہ ’ہم رفح پر اسرائیلی حملے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس سے مزید انسانی تباہی ہو گی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے رفح میں دھکیلے گئے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے لیے صورت حال پہلے ہی ناقابل برداشت ہے۔ ہم مزید ایسا نہیں ہونے دے سکتے۔ ہمیں اب دیرپا سیزفائر کی ضرورت ہے۔ یہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے مقدس مقامات میں انتہا پسند آباد کاروں کا مسلسل اضافہ۔ اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع سے پورے خطے میں بد امنی پھیل جائے گی۔‘

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ’اس تنازع میں جان گنوانے والے 27 ہزار سے زائد فلسطینیوں میں سے بہت سے معصوم شہری اور بچے ہیں۔ جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں اور لاکھوں لوگوں کو خوراک، پانی یا دیگر بنیادی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔‘

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے رفح میں اسرائیل کی حالیہ بمباری اور ’جارحیت‘ کو قابل افسوس اور بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معصوم فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

ادھر چین نے بھی منگل کو اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے شہر رفح میں اپنی فوجی کارروائی ’جتنی جلدی ممکن ہو‘ روک دے اور متنبہ کیا کہ اگر لڑائی نہ رکی تو وہاں ’سنگین انسانی تباہی‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’وہ شہریوں کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اقدامات کی مخالفت اور مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اپنا فوجی آپریشن بند کرے اور بے گناہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا