پاکستانی والدین اپنے آٹسٹک بچوں کو بہتر زندگی کیسے دے سکتے ہیں؟

آٹزم کے اثرات عموماً ایک سال کی عمر سے پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن کچھ مریضوں میں یہ اثرات بہت بعد میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

آٹزم سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق ملک بھر میں چار لاکھ سے زائد بچے اس بیماری کا شکار ہیں (تصویر: آٹزم سوسائٹی آف پاکستان/ ویب سائٹ)

اقوامِ متحدہ 2017 سے ہر سال دو اپریل کو دنیا بھر میں آٹزم سے آگاہی کا عالمی دن مناتا ہے۔ پاکستان میں بھی گذشتہ روز یہ دن منایا گیا۔

آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر انسانی دماغ میں کچھ تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اسے ایک معذوری کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں جو آپس میں مل کر کسی بھی انسان کو اس بیماری کا شکار بناتے ہیں۔

آٹسٹک افراد عام انسانوں کے مقابلے میں الگ طرح سے برتاؤ کرتے ہیں۔ ان کی بات چیت کا طریقہ، ملنے جلنے کا طریقہ یا نئی چیزیں سیکھنے کا طریقہ دیگر لوگوں سے مختلف ہو سکتا ہے۔

کچھ لوگوں میں اس بیماری کے اثرات ہلکے ہوتے ہیں، کچھ میں درمیانے تو کچھ میں شدید۔

کچھ آٹسٹک افراد اپنے روزمرہ کے کام کسی کی مدد کے بغیر نہیں کر پاتے جبکہ کچھ کو اس معاملے میں کسی کی بھی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کچھ آٹسٹک افراد انتہائی ذہین ہوتے ہیں، کچھ بہترین گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو کچھ مسائل کے حل تلاش کرنے میں شاندار ہوتے ہیں۔

دوسری طرف کچھ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جن سے بولا بھی نہ جاتا ہو یا جنہیں ایک معمولی سا حساب کا سوال حل کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہوں۔

آٹزم سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق ملک بھر میں چار لاکھ سے زائد بچے اس بیماری کا شکار ہیں۔ اس میں بالغ مریضوں کی تعداد شامل نہیں ہے۔

تاہم آٹزم پہچاننا آسان نہیں ہوتا۔ اس کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہے۔ ماہرین مریض کا مشاہدہ کر کے ہی اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ وہ اس بیماری کا شکار ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس حد تک۔

آٹزم کے اثرات عموماً ایک سال کی عمر سے پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن کچھ مریضوں میں یہ اثرات بہت بعد میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اس بیماری کا کوئی علاج موجود نہیں ہے، تاہم اگر اس کی جلد شناخت ہو تو متاثرہ فرد کی مناسب تھراپیز اور تدریس کے ذریعے اس کی سماجی اور ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ایسے وسائل تک رسائی ایک عام خاندان کے لیے بہت مشکل ہے۔

ایسا ہی میری ایک دوست کے ساتھ بھی ہوا۔ اسے کچھ ہی دن پہلے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی آٹزم کا شکار ہے۔ اس کی تو جیسے دنیا ہی ختم ہو گئی۔ اس کی بیٹی میں ابھی ہلکا سا آٹزم تشخیص ہوا ہے لیکن یہ وقت کے ساتھ بڑھ بھی سکتا ہے۔

میں نے اپنی دوست کو مشورہ دیا کہ وہ فوراً اپنے خاندان کو ملک سے باہر لے جانے کی کوشش کرے تاکہ وہ وہاں اسے اور اپنے گھر کے باقی افراد کو ایک اچھی زندگی دے سکے۔

میں نے اسے یہ مشورہ اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر دیا۔ میری چھوٹی بہن ایک ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے تین ماہ کی عمر میں دماغی طور پر معذور ہو گئی تھی۔ اسے آٹزم نہیں تھا لیکن اس کی بیماری کی وجہ سے نہ صرف اسے بلکہ ہمیں بطور خاندان بہت تکلیف سہنا پڑی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میرے والدین کے پاس نہ مناسب تعلیم تھی نہ وسائل۔ وہ اپنی حیثیت میں جتنا کر سکتے تھے، کر رہے تھے۔

وہ پاکستان کے ہر ہسپتال میں گئے۔ ہر جگہ انہیں صاف جواب ملا۔ کہیں مشینیں موجود نہیں تھیں تو کہیں اس بیماری کے ماہرین موجود نہیں تھے۔ اس کی زندگی اسی طرح گزر گئی۔ اسے جھٹکے پڑتے تھے۔ شروع شروع میں میرے والد اسے جھٹکا پڑتا دیکھ کر بے ہوش ہو جاتے تھے۔ 

ہم نے اس کے ساتھ جو وقت دیکھا وہ بہت برا تھا۔ ہم اس کے ساتھ کسی بس میں سوار ہوتے تھے تو کچھ لوگ ڈر کر بس سے اتر جاتے تھے۔ ہمارے گھر کوئی صفائی والی کام کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی تھی۔ انہیں لگتا تھا کہ اس پر کسی جِن کا سایہ ہے جو شاید انہیں بھی چمڑ جائے گا۔

میں نے اپنی دوست کو اس بارے میں بتایا اور کہا کہ ہو سکتا ہے پاکستان میں ایسے بچوں کے لیے بہت کچھ کیا جا رہا ہو لیکن وہ سب ابتدائی مراحل میں ہوگا۔ یہ بچی جیسے جیسے بڑی ہوگی اس کا رویہ مزید واضح ہوگا۔ تم اس پر دھیان دوگی یا لوگوں کے سوالات کے جوابات دوگی یا ان کے رویوں پر دکھی ہو گی؟

اپنی توانائیوں کو اپنی بیٹی کے لیے سنبھال کر رکھو۔ سب کو چھوڑو۔ بس اسے دیکھو۔ باہر منتقلی کا سوچو۔ وہاں ایسے بچوں اور ان کے خاندان کی مدد کے لیے بہت کام کیا گیا ہے۔ تم اور تمہارا خاندان وہاں اپنی بیٹی کی اس بیماری کے ساتھ بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

وہاں اس کی حالت میں بہتری آنے کی امید بھی ہے لیکن یہاں بس تکلیف ہے۔

انفرادی طور پر تو ایسے مریضوں کے خاندان بس یہی کر سکتے ہیں لیکن حکومت کو چاہیے کہ آٹزم سپیکٹرم پر موجود اشخاص اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے۔

اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے۔  ایسے بچوں کے لیے خاص تدریسی مراکز بنائے اور اس بیماری کے حوالے سے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلائے تاکہ کسی کو اپنے بچے کی بیماری کی وجہ سے ملک چھوڑنے کا مشورہ نہ ملے اور نہ یہاں رہنے کی صورت میں لوگوں کے برے رویوں کا سامنا کرنا پڑے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ