قبائلی دوبارہ کشمیر میں

بعض قبائلی آج بھی کشمیر میں ماضی کی روایت دہرانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے حکومت کی مرضی سے اس قسم کا دورہ منعقد کیا گیا۔

حال ہی میں خیبر پختونخوا میں شامل ہونے والے قبائلی  عمائدین کا کہنا ہے کہ ’آدھا کشمیر ہمارے آباو اجداد نے آزاد کروایا تھا باقی کا حصہ ہم آزاد کروائیں گے۔ اس مرتبہ جھنڈے لے کر آئے ہیں اگلی مرتبہ اسلحےکے ساتھ آئیں گے۔ (تصویر: جلال الدین مغل)

حال ہی میں صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل ہونے والے قبائلی علاقوں کے عمائدین کا ایک وفد کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پہنچا ہے جہاں انہوں نے کشمیری پناہ گزینوں کے کیمپوں کا دورہ کرنے کے علاوہ ایک ریلی بھی نکالی۔

وفد میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی گل ظفر خان، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی اجمل خان، قبائلی علاقوں کے عمائدین کی تنظیموں قبائلی ہر اول دستہ (خیبر) اور قبائلی مشران، جنوبی وزیرستان کے اراکین سمیت لگ بھگ تین سو افراد شامل ہیں۔

ان عمائدین میں سے اکثریت حکومت نواز سمجھی جاتی ہے۔ ان میں سے بیشتر عمائدین کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر 1947 میں جو قبائلی لشکر مظفرآباد کے راستے کشمیر میں داخل ہوا، اس میں ان کے آباو اجداد اور رشتہ دار شامل تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے وفد میں شامل منعیار خان کا کہنا تھا: ’پہلے بھی ہم نے کشمیر کو آزاد کیا تھا۔ اب بھی کشمیر کو آزاد کریں گے۔ ہمارے اجداد نے اُدھر قربانی دی ہے۔ ہم عمران خان اور فوج کے حکم کا انتظار کریں گے۔ وہ جب ہمیں کہیں گے ہم ( ایل او سی) پار کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

باجوڑ ایجنسی سے آئے ملک بہادر خان نے کہا کہ وہ یہاں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاج کریں گے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔ ’کشمیر میں بچوں عورتوں اور بوڑھوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ ہندوستان کی فوج نے کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ہم اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔‘

باجوڑ ایجنسی سے ہی تعلق رکھنے والے ملک پخے محمد کا کہنا تھا: ’ہم نریندر مودی کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 80 لاکھ یرغمال کشمیریوں کو آزاد کیا جائے اور ان کو خودارادیت کا حق دیا جائے اور انہیں فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا ہندوستان کے ساتھ۔‘

اس سے قبل قبائلی عمائدین نے کشمیری پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا دورہ کیا جہاں ’پاسبان حریت‘ نامی تنظیم نے ان کا استقبال کیا اور انہیں بریفنگ دی گئی۔

قبائلی عمائدین نے مظفرآباد کے سینٹرل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا جہاں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مرتبہ ہاتھوں میں پاکستان اورکشمیر کے جھنڈے لے کر آئے ہیں لیکن اگلی بار وہ اسلحہ کے ساتھ آئیں گے اور ایل او سی عبور کر کے کشمیر آزاد کروا لیں گے۔

بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد مختلف گروہوں کی جانب سے کشمیر میں مسلح تحریک شروع کرنے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں اور گذشتہ دنوں متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے مظفرآباد میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں اسلحہ اور مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ کشمیر میں مسلح جدوجہد جاری رکھ سکیں تاہم پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر بھی کشمیر کی مسلح تحریک میں کسی بیرونی گروہ کی شمولیت کو مسترد کر چکے ہیں۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مسلح تحریک تو 1989 سے جاری ہے تاہم یہ لڑائی کشمیری خود لڑ سکتے ہیں۔ ’ہم نے کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے یہ وقت آنے پر طے کریں گے تاہم ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ کسی کو باہر سے بلایا جائے اور ہندوستان کو اس حوالے سے منفی پروپگنڈا کرنے کا موقع ملے۔‘

22 اکتوبر 1947 کو کشمیر پر قبائلی لشکر کی یلغار کے حوالے سے کشمیر میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کئی لوگ اس یلغار کے نتیجے میں کشمیر کے ایک حصے کے ’آزاد‘ ہونے کو قبائلیوں کا کارنامہ سمجھتے ہیں تاہم ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جن کا خیال ہے کہ قبائلیوں نے 1947 میں کشمیر میں بلا امتیاز قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی، جس کی وجہ سے بھارت کو کشمیر میں فوجیں اتارنے کا موقع ملا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست