ایران کے اسرائیل پر حملے کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟

ایران کے اسرائیل پر حملوں کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریق خطے میں امن و استحکام کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں۔

15 جنوری، 2021 کی اس تصویر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار ایران کے ایک نامعلوم مقام پر میزائل تجربے کا مشاہدہ کرتے ہوئے(اے ایف پی)

ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے اتوار کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین خطے میں امن و استحکام کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں۔

ایران نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اسرائیل پر 100 سے زائد ڈرونز اور میزائل داغنے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ اس نے اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔ 

دوسری جانب صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکی افواج نے تقریباً تمام ایرانی ڈورنز اور میزائل مار گرانے میں مدد کی ہے۔

پاکستان کی جانب سے اس صورت حال پر تشویش کے اظہار کے بعد انڈپینڈنٹ اردو نے ماہرین سے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس پیش رفت کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟

’پاکستان پہ کوئی اثرات نہیں ہوں گے‘

سابق سفیر عبد الباسط کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں سمجھتا پاکستان پر اس کا کوئی براہ راست اثر آ سکتا ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ اتنے خوش گوار تعلقات کبھی نہیں رہے کیونکہ ایران پاکستان سرحد پر کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور حال ہی میں ایران کا پاکستانی علاقے پر حملہ اور پاکستان کی جوابی کارروائی بھی اس کی مثال ہے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا: ’اس لیے پاکستان اس موقعے پر کسی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی پاکستان کو کوئی ایسا بیان دینا چاہیے جس سے پاکستان کی معیشت پر کوئی اثرات مرتب ہوں۔‘

سابق سفیر عاقل ندیم نے کہا کہ ’یہ ردعمل پہ کیا گیا حملہ ہے، جس میں اسرائیل ملوث تھا اس لیے ایران کے لحاظ سے اس حملے کا جواز موجود ہے۔ لیکن اب لگتا نہیں کہ معاملہ زیادہ پھیلے گا یا تیسری عالمی جنگ کی طرف جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو اس معاملے پر کوئی سائیڈ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی اس لیے پاکستان پر براہ راست کوئی اثرات نہیں آئیں گے۔ اور نہ ہی امریکہ کو پاکستان کو ملوث کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ ویسے بھی ایران کے ساتھ پاکستان کا ماضی قریب میں ہی تنازع ہوا تھا۔‘

پیٹرول کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں؟

تجزیہ کار شوکت پراچہ کہتے ہیں کہ ’میں نہیں دیکھتا کہ پاکستان کی معیشت ایران کے ساتھ منسلک ہو، نہ پاکستان کی امپورٹ اور نہ ہی ایکسپورٹ ایران پر زیادہ انحصار کرتی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر اثرات ہوں۔

’لیکن معاملہ بڑھنے کی صورت میں ہمسایہ ہونے کے ناطے پاکستان کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی سطح پر یہ بہت بڑا معاملہ ہے جس پہ ایران کو بھگتنا پڑے گا، جو ڈرون ایران کی جانب سے داغے گئے اس سے جانی نقصان نہیں ہوا۔ تو یہ ایران کی فیس سیونگ ہے لیکن ایران کو اب مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسرائیل کو ہی اس کا فائدہ ہو گا۔‘

حملے کے بعد ایرانی صدر کا دورہ پاکستان

عاقل ندیم نے کہا کہ ’ایران کے اسرائیل پر حملے کا یوکرین پر روسی حملے سے موازنہ نہیں بنتا۔ اس وقت وزیراعظم پاکستان کے دورہ روس کے مختلف اثرات تھے۔

’ایران نے حملہ ردعمل کے طور پہ کیا ہے، یہ فرسٹ سٹرائک نہیں، اس لیے ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کا کوئی منفی اثر نہیں ہو گا۔‘

سابق سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر کے مطابق: ’ایرانی صدر کا دورہ اسلام آباد دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے کے علاوہ موجودہ صورت حال کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’دمشق کے سفارت خانے پر ہونے والے بم حملے کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے خلاف ڈرون اور میزائل داغے۔ اسرائیل کی طرف سے مزید کسی قسم کی کشیدگی کو چھوڑ کر اس معاملے کو ختم کیا جانا چاہیے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف سفارتی اتحاد کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ اسرائیل کو جلد بازی کرنے سے روکا جائے اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل کے مطالبے کی پاسداری کی جائے۔‘

’پاکستان کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘

چنار تھنک ٹینک واشنگٹن ڈی سی کی ڈائریکٹر کیرن جودا فشر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کو ایران کے ساتھ معاشی تعلق پر امریکہ سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بارے میں پہلے سے ہی امریکہ کے بیان آ چکے ہیں کہ پاکستان اگر ایران کے ساتھ گیس پائپ کا پروجیکٹ کرتا ہے تو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’اس لیے پاکستان نے امریکہ میں اپنی لابنگ شروع کر رکھی ہے تاکہ پاکستان کو اجازت مل جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایران کی حالیہ کارروائی کے بعد اب امریکہ سے ایران پاکستان پائپ لائن منصوبے پر نرمی کی توقع مشکل ہو جائے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو انڈیا جیسی پالیسی اپنانی ہو گی تاکہ سب ممالک کے ساتھ اپنے مفاد کے مطابق تعلق قائم رکھے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا