پچھلی امریکی قیادت نے پاکستان سے اچھا سلوک نہیں کیا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر ایک مرتبہ پھر کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں فریقین قبول کریں تو وہ تیار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان ملاقات کے موقع پر مصافحہ کرتے ہوئے (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں تسلیم کیا ہے کہ ان سے پہلے کی امریکی قیادت نے پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، ساتھ ہی انہوں نے ایک مرتبہ پھر کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش بھی کرڈالی۔

نیویارک میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: ’مجھ سے پہلے کی امریکی قیادت نے پاکستان سے اچھا سلوک نہیں کیا، لیکن مجھے پاکستان پر اور عمران خان پر اعتماد ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا: ’نیویارک میں میرے بہت سے پاکستانی دوست ہیں، جو سمارٹ ہیں۔ میں مدد کرنا چاہتا ہوں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’میرے بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔ اگر وہ (دونوں فریقین) چاہیں تو میں (کشمیر کے معاملے میں) مدد کرسکتا ہوں۔‘

اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں۔ 

22 جولائی کو نیویارک میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے موقع پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: ’اگر میں کوئی مدد کر سکتا ہوں تو میں ثالث بننے میں بہت خوشی محسوس کروں گا۔ آپ کو جب بھی ضرورت ہو، مجھے بتائیے۔‘ تاہم بھارت نے اس معاملے کو ’اندرونی معاملہ‘ قرار دے دیا تھا۔

بعدازاں 21 اگست کو وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ثالث بننے کی پیشکش کی تھی۔

10 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

انتہا پسند اسلام کچھ نہیں ہوتا: عمران خان کا ٹرمپ کو جواب

اس سے قبل نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے ریڈیکل (انتہا پسند) اسلام کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام نہ تو اعتدال پسند ہے اور نہ شدت پسند، اسلام صرف ایک ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہیوسٹن میں ’ہاؤڈی مودی‘ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’امریکہ اور بھارت انتہا پسند اسلامی دہشت گردی سے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔‘

کونسل آن فارن ریلیشنز سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا: ’جیسا کہ میں نے کل ریڈیکل اسلام کے بارے میں سنا تو میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام صرف ایک ہے۔ کوئی انتہا پسند یا اعتدال پسند اسلام نہیں ہوتا۔ اسلام وہ ہے جو پیغمبر نے ہمیں سکھایا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک میں انتہا پسند سوچ جنم لے رہی ہے، جہاں گذشتہ چھ برسوں سے انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔  

ان کا کہنا تھا: ’میں اس وقت پاکستان سے بھی زیادہ بھارت کے لیے فکرمند ہوں، جہاں گذشتہ چھ سالوں سے جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر خوف آتا ہے۔ یہ گاندھی اور نہرو کا بھارت نہیں ہے۔ وہاں آر ایس ایس کا نظریہ قائم ہو چکا ہے جو ہندوؤں کی بالادستی چاہتا ہے۔‘

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’بدقسمتی سے ہندو بالادستی کا یہ نظریہ بھارت میں سر چڑھ کر بول رہا ہے اور وہ اس بارے میں پریشان ہیں اور دو ایٹمی قوتوں کو اس پر پریشان ہونا بھی چاہیے۔‘

عمران خان نے کہا کہ انہوں نے اپنے برطانوی ہم منصب بورس جانسن سے اس حوالے سے بات کی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کی توجہ بھی اس طرف مبذول کرائیں گے۔

’افغان طالبان مجھ سے مذاکرات کرنا چاہتے تھے، افغان حکومت نہیں‘

افغان امن مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ افغان طالبان ان سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن افغانستان کی حکومت ایسا نہیں چاہتی تھی، ساتھ ہی انہوں نے امریکی صدر سے ملاقات میں اس معاملے پر گفتگو کا عندیہ بھی دیا۔

عمران خان نے کہا کہ وہ اب بھی افغانستان کے مسٔلے کا سیاسی حل ہی دیکھتے ہیں کیوں کہ لڑائی سے یہ جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ سویت یونین جنگ کے دوران افغانستان میں پہلے عسکریت پسند پیدا کیے گئے اور پھر ان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ ’نائن الیون کے بعد امریکہ کا ساتھ دینا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ اس کے باعث پاکستان کو 70 ہزار لاشوں کا تحفہ ملا۔ اس سے پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی جیسا کہ بعض ماہرین کے مطابق پاکستانی معیشت کو 150 ارب کا نقصان ہوا اور بعض کے نزدیک یہ 200 ارب سے زیادہ کا نقصان تھا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے افغان طالبان سے ملاقات کی ہے؟ جس کے جواب میں عمران خان نے کہا: ’افغان طالبان مجھ سے ملاقات کرنا چاہتے تھے تاہم کابل حکومت ایسا نہیں چاہتی تھی اس لیے یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی تھی۔‘

’مودی حکومت نے کشمیر پر یکطرفہ فیصلہ کیا‘

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر پر بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ مودی حکومت نے پانچ اگست کو کشمیر پر یک طرفہ فیصلہ کیا جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن پر بات کرتے ہوئے کہا: ’کم از کم مجھے عالمی برادری سے امید ہے کہ وہ انہیں (بھارت کو) وہاں کرفیو اٹھانے کے لیے کہیں گے۔ یہ غیر انسانی ہے۔ کشمیری عوام کے ساتھ انسانی حقوق کے برخلاف سلوک کیا جا رہا ہے۔‘

چین میں مسلمان اویغور باشندوں پر روا رکھے گئے مبینہ مظالم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے کہا: ’میرے اوپر اس وقت بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ جب ہم حکومت میں آئے تھے تو ہمیں بدترین معاشی صورت حال کا سامنا تھا۔ اُس وقت چین نے ہماری مدد کی تھی۔ چین سمیت دوست ممالک اگر ہماری مدد نہ کرتے تو ہم دیوالیہ ہونے کے قریب تھے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا