جمہوریہ چین کے پنجرے میں سینڈوچ میکر کا انتظار کرتی پاکستانی لڑکی

دکان دار نے فون پر بتایا کہ پارسل آج بھیجنا تھا لیکن چین کے سترویں قومی دن کی وجہ سے بیجنگ میں اگلے سات روز تک کسی بھی قسم کا پارسل بھیجنا منع ہے۔

چینی چھٹی منانے اپنے اپنے گھروں کو جا چکے ہیں اور بیجنگ کا وہی حال ہے جو عید پر اسلام آباد کا ہوتا ہے۔ ویرانی اور خاموشی۔(اے ایف پی)

سینڈ وچ میکر سے ہمارا تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنے پرانے ہم خود ہیں۔ ہمارے والدین شروع ہی سے ’بچے کو کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ سے‘ کے فارمولے پر کار بند رہے۔ جہاں ابا ہمیں شیر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، وہیں اماں طرح طرح کے کھانے بنا کر کھلاتی تھیں۔

کوکب خواجہ کا پروگرام ہمارے یہاں باقاعدگی سے دیکھا جاتا تھا۔ اماں اکثر کسی نہ کسی ترکیب پر ہاتھ صاف کر ہی لیتی تھیں۔ سینڈوچ میکر کا استعمال بھی تبھی شروع ہوا۔ اماں بچے ہوئے سالن کو بریڈ میں ڈال کر سینڈوچ بنا دیتیں اور یوں ہماری بے وقت بھوک کا علاج ہو جاتا۔

ہم نے بھی جلد ہی سینڈوچ بنانا سیکھ لیے۔ بریڈ کا ایک سلائس لیا، اس پر ہلکا سا مکھن لگایا، پھر ذرا سا آلو یا قیمے کا آمیزہ رکھا، اوپر سے مکھن لگا ایک اور توس جمایا اور سینڈوچ میکر میں رکھ دیا۔ جیسے ہی میکر کے اوپر لگی بتی سرخ سے سبز ہوتی، ہماری باچھیں کھل جاتیں۔ فٹ سے سینڈوچ میکر کھولتے اور گرما گرم سینڈوچ پلیٹ میں نکال لیتے۔

یہ سینڈوچ میکر بھی ہماری طرح ڈھیٹ ہے۔ برسوں تک چپ چاپ ہماری پیٹ پوجا کا سامان کرتا رہا اور ایک بار بھی خراب نہ ہوا۔ آج بھی کہیں کسی الماری میں پڑا ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سینڈوچ میکر کی یاد ہمیں بیجنگ کے اس کمرے میں آ رہی ہے جہاں بیٹھ کر ہمیں اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنا ہے۔ تعلیم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑا۔ اسے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا سمجھتے ہوئے ہم نے پی ایچ ڈی کے لیے چین ہی کا رُخ کیا۔

یہاں سب سے بڑا مسئلہ کھانے کا ہے۔ حلال کھانا آسانی سے ملتا ہے لیکن چینی کھانا کھانا اپنے آپ میں ایک کارنامہ ہے۔ یہ شادی کے لڈو کی طرح ہوتا ہے۔ کھانے والا بھی پچھتاتا ہے اور نہ کھانے والا بھی۔ دو دن چینی کھانا کھانے کے بعد دیسی تڑکا لازمی ہو جاتا ہے۔ ماں باپ سمجھتے ہیں کہ بچہ پڑھائی میں دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ انہیں کیا پتہ کہ ان کا بچہ ابھی تک ہاٹ پلیٹ چلانا ہی سیکھ رہا ہے۔

چین ہمارے لیے نیا بالکل نہیں ہے اور چینی کھانے بھی ہمارے پسندیدہ کھانوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھار اندر کا دیسی جاگ ہی جاتا ہے اور پھر ہم ہوتے ہیں، ڈھیر سارے مسالے ہوتے ہیں اور کچن ہوتا ہے۔ ایسے میں جب چین آنے کا اصل مقصد یاد آتا ہے تو تھوڑی بہت شرمندگی ہونے لگتی ہے۔ اس شرمندگی سے بچنے کے لیے سوچا ایک عدد سینڈوچ میکر خرید لیا جائے۔ اس سے بہت سا وقت بچ جائے گا۔ ویک اینڈ پر قیمہ یا آلو پکا کر فریج میں رکھ لیں گے اور پھر ہفتہ بھر مختلف قسم کے سینڈوچز بنا کر کھاتے رہیں گے۔

یہاں زیادہ تر خریداری ایک ویب سائٹ ’تاؤ باؤ‘ کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس ویب سائٹ پر ایک چھابڑی والے سے لے کر زارا، ایڈڈاس، ڈیل اور سیفورا جیسے مشہور برانڈز تک موجود ہیں۔ دو چار منٹ ایپ پر گزارنے کے بعد ایک مناسب سا سینڈوچ میکر آرڈر کر دیا۔ عموماً آرڈر دو سے چار روز میں موصول ہو جاتا ہے۔ ہم بھی انتظار کرنے لگے۔ آرڈر کے اگلے روز دل بہلانے کو لائبریری کا رُخ کیا۔ ابھی پڑھنا شروع ہی کیا تھا کہ ایک انجان نمبر سے کال آ گئی۔ دوسری طرف سینڈوچ میکر بھیجنے والا دکان دار تھا۔ کہنے لگا اس نے پارسل آج بھیجنا تھا لیکن چین کے سترویں قومی دن کی وجہ سے بیجنگ میں اگلے سات روز تک کسی بھی قسم کا پارسل بھیجنا منع ہے۔ یکم اکتوبر کو چین اپنا قومی دن مناتا ہے۔ اگلے سات روز یہاں چھٹی ہوتی ہے۔

کچھ دن سے تو ہم بھی ہر سڑک پر پولیس کی بھاری نفری دیکھ رہے تھے لیکن اندازہ نہیں تھا کہ یہ بڑا سا شہر راتوں رات ایک ایسا پنجرہ بن چکا ہے جس کا کوئی دروازہ نہیں اور ہزاروں کی تعداد میں پولیس اس کی نگرانی پر مامور کر دی گئی ہے۔ پولیس والے بھی ایسے کہ اپنے اپنے مقام پر ایک مجسمے کی طرح گردن اونچی کیے کھڑے ہیں۔ سنا ہے ان کے کالر میں سوئیاں لگی ہوتی ہیں تا کہ یہ گردن نہ جھکا سکیں۔

عام طور پر فرنگیوں کو چھوٹ دینے والی پولیس اب ان پر خاص نظر رکھے ہوئی ہے۔ شہر کے ایسے تمام علاقے جہاں فرنگی ہر شام جاتے ہیں، وہ بند کیے جا چکے ہیں۔ وی چیٹ پر بار بار پاسپورٹ اپنے ہمراہ رکھنے کا کہا جا رہا ہے۔

یونی ورسٹی کی طرف سے ہمیں تقریباً انڈر گراؤنڈ ہونے کا حکم دیا گیا ہے جیسے ہم طالب علم نہ ہوں، چور ہوں۔ آدھی سے زیادہ یونی ورسٹی ویسے ہی بند ہے۔ چھٹیوں کی وجہ سے جہاں جہاں مرمت کا کام ہونا تھا وہ تیزی سے مکمل کروایا جا رہا ہے۔

چینی چھٹی منانے اپنے اپنے گھروں کو جا چکے ہیں اور بیجنگ کا وہی حال ہے جو عید پر اسلام آباد کا ہوتا ہے۔ ویرانی اور خاموشی۔

ان دونوں شہروں میں بس ایک فرق ہے۔ ہمارے ہاں ولایت سے آنے والوں کو اللہ کی خاص مخلوق سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے اور یہاں ہمیں ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے بچپن سے ہمارے والد ہمیں دیکھتے آئے ہیں۔ شیر کی نگاہ سے۔

ان حالات میں بہتر ہے کہ ہاسٹل بیٹھ کر اپنے سینڈوچ میکر کا انتظار کیا جائے اور چینیوں کو یہیں سے ان کے سترویں قومی دن کی مبارک باد پیش کر دی جائے۔ اسی میں بھلائی ہے، ان کی بھی اور ہماری بھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ